خون اور خوشی کے بیچ معلق معاشرہ (مساجد کے سانحات اور بسنت کی ہلاکتیں —ہم جا کدھر رہے ہیں؟)

خون اور خوشی کے بیچ معلق معاشرہ (مساجد کے سانحات اور بسنت کی ہلاکتیں —ہم جا کدھر رہے ہیں؟)
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی---آسٹریلیا
ایک طرف عبادت گاہوں میں خودکش حملوں کی لرزہ خیز خبریں ہیں، جہاں سجدے میں جھکے انسانوں کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے؛ دوسری طرف بسنت جیسے میلوں میں خوشیوں کے شور کے ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات۔ یہ دو الگ الگ واقعات نہیں —یہ ہمارے اجتماعی شعور کا ایک ایسا آئینہ ہیں جس میں معاشرتی تضاد، فکری انتشار اور انسانی جان کی کم ہوتی ہوئی قدر صاف دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم خوشیاں کیوں مناتے ہیں یا عبادت کیوں کرتے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہم نے زندگی کی حرمت کو کہاں کھو دیا؟ اسلام آباد کی عبادت گاہ میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے نے ایک بار پھر ہمیں جھنجھوڑ دیا۔ نماز پڑھتے معصوم انسانوں کو نشانہ بنانا محض دہشت گردی نہیں، بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں سے بغاوت ہے۔ جب مذہب کے نام پر قتل کو“جنت کے وعدوں ”سے جوڑا جاتا ہے تو یہ نہ صرف دین کی توہین ہے بلکہ نوجوان ذہنوں کے ساتھ بدترین دھوکہ بھی۔ اسلام کا بنیادی پیغام امن، رحمت اور جان کی حرمت ہے—ایسے میں عبادت گاہوں میں خون بہانے والوں کے لیے کوئی اخلاقی یا دینی جواز باقی نہیں رہتا۔ مگر المیہ صرف یہاں ختم نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم بسنت جیسے میلوں میں خوشی کے نام پر ایسے رویے اختیار کر لیتے ہیں جہاں انسانی جانیں حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں —خطرناک ڈوریں، غیر ذمہ دارانہ رویے اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تفریح کو ذمہ داری سے الگ کر دیا ہے، اور حادثات کو“قسمت”کہہ کر اپنی اجتماعی کوتاہیوں پر پردہ ڈال لیا ہے۔ یہ دونوں انتہائیں —ایک طرف مذہب کے نام پر انتہا پسندی، دوسری طرف خوشیوں کے نام پر بے احتیاطی—اصل میں ایک ہی مسئلے کی علامت ہیں: انسانی زندگی کی قدر میں کمی۔ جب معاشرہ جذبات کے سیلاب میں بہنے لگتا ہے تو عقل، شعور اور ذمہ داری پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ عبادت محفوظ رہتی ہے اور نہ تفریح۔ ہمیں بطور قوم خود سے چند تلخ سوال پوچھنے ہوں گے۔ کیا ہماری مذہبی تعلیم میں برداشت اور انسان دوستی کا عنصر کمزور ہو گیا ہے؟ کیا ہماری ثقافتی تقریبات میں نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور ختم ہوتا جا رہا ہے؟ اور کیا ہم نئی نسل کو جذباتی نعروں کے حوالے کر رہے ہیں یا انہیں تنقیدی سوچ، برداشت اور انسانی ہمدردی سکھا رہے ہیں؟ معاشروں کی تباہی صرف جنگوں سے نہیں ہوتی؛ وہ اس وقت بھی بکھر جاتے ہیں جب ان کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جائیں۔ جب مذہب کو نفرت کے لیے اور ثقافت کو غیر ذمہ داری کے لیے استعمال کیا جائے تو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے—خون، آنسو اور اجتماعی پشیمانی۔ لیکن مایوسی اس کہانی کا آخری باب نہیں۔ امید اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرہ اپنے زخموں کو پہچان لے۔ ہمیں مذہبی خطبات، تعلیمی اداروں اور میڈیا—تینوں سطحوں پر انسانی جان کی حرمت کو مرکزی پیغام بنانا ہوگا۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ دین ہو یا تفریح، ہر جگہ سب سے مقدم انسان کی زندگی ہے۔ قانون سازی، حفاظتی اقدامات اور فکری تربیت—یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو ہی ہم اس خونی تضاد سے باہر نکل سکیں گے۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم عبادت اور خوشی دونوں کو زندگی کی تکریم سے جوڑیں گے یا پھر ہر سانحے کے بعد چند دن ماتم کر کے دوبارہ اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ اسلام آباد کے سانحے اور بسنت کی ہلاکتیں ہمیں ایک ہی سبق دے رہی ہیں: معاشرہ اس وقت زندہ رہتا ہے جب وہ زندگی کو سب سے مقدس مانے۔ شاید ابھی وقت ہے کہ ہم اپنے اجتماعی رویوں پر نظرِ ثانی کریں —کیونکہ اگر ہم نے انسان کی حرمت کو اپنی سوچ کا مرکز نہ بنایا تو نہ عبادت محفوظ رہے گی اور نہ خوشی۔ سوال اب بھی وہی ہے: ہم جا کدھر رہے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی سمت بدلنے کے لیے تیار ہیں؟
اسلام آباد کے سانحے اور بسنت کی ہلاکتیں ہمیں ایک ہی سبق دے رہی ہیں: معاشرہ اس وقت زندہ رہتا ہے جب وہ زندگی کو سب سے مقدس مانے۔ شاید ابھی وقت ہے کہ ہم اپنے اجتماعی رویوں پر نظرِ ثانی کریں؛کیونکہ اگر ہم نے انسان کی حرمت کو اپنی سوچ کا مرکز نہ بنایا تو نہ عبادت محفوظ رہے گی اور نہ خوشی۔ سوال اب بھی وہی ہے: ہم جا کدھر رہے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی سمت بدلنے کے لیے تیار ہیں؟
اس صورتِ حال کا ایک اور پہلو ہمارا اجتماعی میڈیا کلچر بھی ہے، جہاں سانحات چند گھنٹوں کی سرخی بن کر رہ جاتے ہیں اور پھر ہم نئی خبروں کے شور میں پرانے زخم بھلا دیتے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ شہداء کے ناموں سے زیادہ ہمیں سنسنی خیز ویڈیوز یاد رہتی ہیں۔ جب تک ہم سانحے کو صرف خبر سمجھتے رہیں گے، اس کے اسباب پر سنجیدہ مکالمہ جنم نہیں لے سکے گا۔ ایک زندہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جو حادثات کو محض واقعات نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے مذہبی اور ثقافتی بیانیے اکثر دو انتہاؤں میں بٹ جاتے ہیں یا تو مکمل انکار اور خاموشی، یا پھر جذباتی نعروں کی یلغار۔ ہمیں ایک متوازن بیانیہ درکار ہے جو یہ تسلیم کرے کہ دین کی اصل روح انسان دوستی ہے اور ثقافت کی اصل خوبصورتی ذمہ داری میں ہے۔ جب تک ہم اس توازن کو نہیں اپنائیں گے، ہم یا تو خوف کے اسیر رہیں گے یا لاپرواہی کے۔
تعلیمی اداروں کا کردار یہاں انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ نصاب میں صرف معلومات نہیں بلکہ کردار سازی، تنقیدی شعور اور اختلافِ رائے کی تہذیب شامل کرنا ہوگی۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ سچی بہادری جان لینے میں نہیں بلکہ جان بچانے میں ہے، اور حقیقی خوشی وہ ہے جس میں کسی کی زندگی خطرے میں نہ پڑے۔ اگر ہماری درسگاہیں انسان دوستی اور سماجی ذمہ داری کی عملی تربیت دیں تو شدت پسندی اور بے احتیاطی دونوں کی جڑیں کمزور ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ریاست اور سماجی اداروں کو بھی محض ردِعمل کی سیاست سے نکل کر پیشگی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ عبادت گاہوں کی حفاظت، شدت پسند بیانیوں کی روک تھام، اور ثقافتی تقریبات میں سخت حفاظتی قوانین؛یہ سب وقتی اقدامات نہیں بلکہ مستقل پالیسی کا حصہ بننے چاہئیں۔ قانون صرف خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ تحفظ اور شعور کے لیے ہوتا ہے، اور جب قانون اور اخلاق ایک ساتھ چلیں تو معاشرہ توازن پاتا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے رویوں پر نظر ڈالیں۔ نفرت انگیز گفتگو، فرقہ وارانہ لطیفے، یا خطرناک تفریح کو معمول سمجھنا؛یہ سب وہ بیج ہیں جو بڑے سانحات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی اصلاح کسی بڑے انقلاب سے نہیں بلکہ گھروں، اسکولوں اور محلوں میں جنم لینے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے شروع ہوتی ہے۔
آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرے کی سمت صرف حکومتیں نہیں بلکہ عوامی شعور طے کرتا ہے۔ جب عوام زندگی کی حرمت کو اپنی اجتماعی اقدار کا مرکز بنا لیں تو نہ شدت پسندی کو جگہ ملتی ہے اور نہ غیر ذمہ دارانہ خوشیوں کو۔ عبادت ہو یا تہوار؛دونوں کا مقصد انسان کو بہتر، مہذب اور محفوظ بنانا ہے، نہ کہ اسے خوف یا خطرے میں ڈالنا۔
یوں شاید ہم اس معلق کیفیت سے باہر نکل سکیں جہاں خون اور خوشی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اصل کامیابی تب ہوگی جب ہماری عبادت گاہیں امن کی علامت ہوں اور ہماری خوشیاں زندگی کی حفاظت کا جشن—اور یہی وہ سمت ہے جو ایک باشعور، مہذب اور زندہ معاشرے کی پہچان بنتی ہے۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249207 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More