یہ پشاور ہے جناب: پھولوں سے پمپرز تک کا تاریخی سفر

یہ پشاور ہے۔ کچھ لوگ اسے پیشہ وروں کا شہر کہتے تھے۔ کچھ اسے پھولوں کا شہر کہتے تھے۔ ہم نے بھی بچپن میں کتابوں میں یہی پڑھا کہ یہ پھولوں کا شہر ہے۔ تصویروں میں کھلی سڑکیں، درختوں کی قطاریں، اور لوگ جو شاید واقعی صبح سویرے جھاڑو بھی دیتے تھے اور مسکرا بھی لیتے تھے۔ پھر وقت نے کہا، ذرا دیکھوں تم اس شہر کے ساتھ کیا کرتے ہو۔

پچھلے پچاس سال میں ہم نے اس شہر کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جس کے بعد اگر یہ بول سکتا تو شاید ہم سے کرایہ مانگتا۔ کبھی اسے دھماکوں کا شہر بنایا، کبھی بیروزگاروں کا شہر، اور اب تو سچ پوچھیں تو یہ گندگی کا شہر بن چکا ہے۔ اور اس جرم میں سب برابر کے شریک ہیں، راقم سمیت۔سال 2008 سے 2014 تک بطور صحافی دھماکوں کی کوریج کی۔ ہر جمعہ کو دھماکہ، کبھی دن میں دو دو۔ جمعہ کا دن عبادت سے زیادہ بریکنگ نیوز کے نام ہو چکا تھا۔ شہر کا نام سنتے ہی لوگ پوچھتے تھے، آج کہاں ہوا؟ الحمدللہ اب وہ صورتحال نہیں۔ اللہ نے سکون دیا۔ یہ اس شہر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔لیکن امن آیا تو ہم نے سوچا، اب کچھ اور تجربہ کر لیتے ہیں۔

پھر اسے بیروزگاروں کا شہر کہا جانے لگا۔ 2011 سے 2020 تک کوچ کا سلسلہ چلتا رہا۔ کوئی پنجاب گیا، کوئی سندھ، کوئی دبئی۔ جو نہیں گیا وہ جانے کی تیاری میں ہے۔ یہاں ڈگریاں ہیں، امیدیں کم ہیں۔ چائے خانوں میں بحث ہے، نوکری کہیں نہیں۔ نوجوان کہتے ہیں، بس ایک موقع مل جائے۔ موقع کہتا ہے، میں دوسرے شہر میں ہوں۔لیکن آج کا سب سے بڑا اعزاز اگر کسی نام کا ہے تو وہ ہے گندگی کا شہر۔ ہمارے آبا و اجداد نے اس شہر میں پھول لگائے تھے۔ اسی لیے اسے پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنے گھر کا کوڑا پلاسٹک بیگ میں ڈالا، دروازہ کھولا، اور بڑی ذمہ داری سے سڑک پر رکھ دیا۔ یوں جیسے قومی خدمت انجام دے رہے ہوں۔

2008 میں بھی گندگی کے ڈھیر تھے۔ 2026 میں بھی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ڈھیر سادہ تھے، اب برانڈڈ ہیں۔ پلاسٹک، پمپرز، چپس کے خالی پیکٹ، بوتلیں، سب کچھ باقاعدہ نمائندگی کے ساتھ موجود۔پمپرز کا ذکر الگ سے ضروری ہے۔ اگر کسی دن مردم شماری ہو اور کچرے کے ڈھیروں کی الگ گنتی کی جائے تو پشاور شاید ملک میں اول آئے۔ ہر گلی میں ایک ڈھیر، ہر ڈھیر میں چند پمپرز۔ یوں لگتا ہے جیسے شہر کا نیا تعارف یہی ہو: خوش آمدید، آپ پمپرز سٹی میں داخل ہو چکے ہیں۔ہم بچپن میں سکول جاتے تھے تو صفائی کرنے والے اذان کے وقت آتے تھے۔ فجر کے بعد گلیاں دھل جاتیں۔ جب ہم مسجد سے دودھ لینے جاتے تو راستہ صاف ہوتا۔ اب صفائی والا اس وقت آتا ہے جب آدھا دن گزر چکا ہوتا ہے۔ تب تک کوڑا اپنا تعارف پورے محلے سے کرا چکا ہوتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں زمانہ خراب ہے۔ حالانکہ مسئلہ زمانہ نہیں، مزاج ہے۔ ہم سب کہتے ہیں حکومت کچھ نہیں کرتی۔ حکومت کہتی ہے شہری کچھ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ کہ گلی میں کوڑا دونوں کا مشترکہ منصوبہ بن جاتا ہے۔پشاور صدر کی سو سال پرانی تصاویر دیکھیں تو کھلی سڑکیں، کوئی تجاوزات نہیں، کوئی کچرا نہیں۔ اس وقت تعلیم عام نہیں تھی، مگر شعور شاید تھا۔ آج تعلیم عام ہے، ڈگریاں ہیں، سیمینار ہیں، سوشل میڈیا پر لمبی پوسٹیں ہیں، لیکن شعور کہیں ٹریفک میں پھنسا ہوا ہے۔دنیا بھر میں فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہوتے ہیں۔ پشاور میں فٹ پاتھ کرایہ پر دستیاب ہیں۔ گاڑی سو روپے میں کھڑی کریں، موٹر سائیکل بھی۔ عام لوگ سڑک پر چلیں، گاڑیوں کے بیچ سے گزریں، اور اگر بچ جائیں تو اسے اپنی مہارت سمجھیں۔ یہ ہماری ترقی ہے۔

پہلے لیٹرین ہوتی تھی۔ سیدھی سادی۔ اب وہی لیٹرین وقت کے ساتھ واش روم، پھر باتھ روم، اور اب آفیشل ریسٹ روم بن گئی ہے۔ کام وہی، مگر نام بدل گیا۔ پہلے دس روپے میں کام ہو جاتا تھا، اب چالیس روپے۔ اندر سنگ مرمر لگا ہے، باہر بدبو وہی ہے۔ اسے کہتے ہیں ترقی کا ماڈل۔ شکل بدلو، حقیقت نہیں۔گندگی کے ڈھیر ہر گلی میں ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سب کہتے ہیں، یہ میونسپل کا کام ہے۔ میونسپل کہتا ہے، یہ شہریوں کا کام ہے۔ شہری کہتے ہیں، ہم ٹیکس دیتے ہیں۔ ٹیکس کہتا ہے، مجھے بھی نہیں معلوم میں کہاں جاتا ہوں۔

کبھی یہ شہر بھتہ خوروں کا شہر بھی کہا جاتا تھا۔ شکر ہے وہ دور گزر گیا۔ شہید ملک سعد کے بعد اور پھر میاں سعید جیسے لوگوں کی کوششوں سے کم از کم وہ داغ دھل گیا۔ اب کوئی کھلے عام بھتہ خوروں کا شہر نہیں کہتا۔ اس پر اس شہر کا ہر باسی شکر گزار ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف ایک مسئلہ حل کر کے مطمئن ہو جائیں؟ کیا شہر صرف اس لیے اچھا ہو گیا کہ اب فون پر بھتہ کال نہیں آتی؟ اگر گلی میں کچرا ہو، فٹ پاتھ پر گاڑیاں ہوں، نوجوان بے روزگار ہوں، تو کیا ہم واقعی ترقی یافتہ ہیں؟آج ضرورت صرف پیسے کی نہیں، سوچ کی ہے۔ ہر شعبے میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ صحافت میں دیانت، وکالت میں اصول، طب میں انسانیت، تجارت میں امانت، تدریس میں خلوص۔ صرف انفراسٹرکچر سے شہر نہیں بنتا، کردار سے بنتا ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں آنے والی نسل ہمیں یاد رکھے گی۔ سوال یہ ہے کہ کس نام سے؟ پھولوں کے شہر کے وارث کے طور پر یا پمپرز کے شہر کے معمار کے طور پر؟ شہر کو حکومت اکیلے صاف نہیں کر سکتی۔ شہری اکیلے بدل نہیں سکتے۔ دونوں کو ساتھ چلنا ہوگا۔ ورنہ اگلے پچاس سال بعد کوئی اور کالم لکھ رہا ہوگا اور کہہ رہا ہوگا، کبھی اسے پھولوں کا شہر کہتے تھے، اب اسے کچرے کا عجائب گھر کہتے ہیں۔پشاور نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ دھماکے بھی، ہجرت بھی، خوف بھی۔ اب اسے تھوڑی سی ذمہ داری بھی دیکھنی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم صرف نام بدلنے میں ماہر رہیں گے یا عادت بھی بدلیں گے۔کیونکہ آخر میں شہر پتھروں سے نہیں بنتا، لوگوں سے بنتا ہے۔ اور اگر لوگ بدلنے کو تیار نہ ہوں تو سنگ مرمر کے ریسٹ روم بھی شہر کو مہذب نہیں بنا سکتے۔

یہ پشاور ہے جناب۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ اسے کس نام سے یاد رکھا جائے۔
#peshawar #kpk #musarratullahjan #pakistan #cityofpamper

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 999 Articles with 775746 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More