دشمنی کی دلدل میں معصومیت کی گرفتاری: فیصل آباد کے دو بچوں پر زنا کا مقدمہ اور ہمارا اجتماعی زوال
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
فیصل آباد کے علاقے ڈجکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک خبر نہیں۔ یہ ہمارے قانونی ڈھانچے، سماجی رویوں اور اخلاقی دیوالیہ پن کی ایسی تصویر ہے جسے دیکھ کر آدمی نظریں جھکا لے۔ سات اور بارہ سال کے دو بچوں پر زنا کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔ وجہ کیا تھی؟ بچوں کی معمولی لڑائی۔ بڑوں کی انا۔ اور دشمنی کا ایسا زہر جس نے عقل، شرم اور قانون سب کو نگل لیا۔چند ہفتے قبل معروف وکیل میاں عبدالمتین نے اس معاملے کی طرف توجہ دلائی۔ کہانی سادہ تھی۔ بچوں میں جھگڑا ہوا۔ بڑوں نے مداخلت کی۔ بات بڑھتی گئی۔ اور پھر کچھ لوگوں نے بدلہ لینے کے لیے وہ الزام چن لیا جس سے بڑا سماجی ہتھیار شاید ہی کوئی ہو۔ اپنی ہی خواتین کے نام پر دو کم سن بچوں پر زنا کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔
یہاں سوال صرف مدعیان کی نیت کا نہیں۔ اصل سوال نظام کا ہے۔ مقامی پولیس نے یہ ایف آئی آر کیسے درج کر لی؟ سات اور بارہ سال کے بچوں پر ایسا سنگین الزام لگانے سے پہلے کیا کسی نے قانون کی بنیادی کتاب بھی کھولی؟ پاکستان کا فوجداری قانون کم سنی کو تسلیم کرتا ہے۔ نابالغ بچوں کی فوجداری ذمہ داری کے حوالے سے واضح اصول موجود ہیں۔ پھر بھی اگر ایک تھانے میں بیٹھا افسر بغیر ابتدائی جانچ کے ایسا مقدمہ درج کر لیتا ہے تو یہ صرف غلطی نہیں، یہ پیشہ ورانہ ناکامی ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ ان بچوں کے دادا کو ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے لاہور تک جانا پڑا۔ دو کم سن بچوں کو ساتھ لے کر۔ تھانوں اور عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے۔ کیا کسی نے ان بچوں کے ذہنی اثرات کے بارے میں سوچا؟ اسکول میں ان کا سامنا کیسے ہوگا؟ محلے میں لوگ کیا کہیں گے؟ ایسے الزامات صرف کاغذ پر نہیں لگتے، یہ پیشانی پر داغ بن کر چپک جاتے ہیں۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ دشمنی میں لوگ جھوٹے مقدمات بنا لیتے ہیں۔ زمین کا تنازعہ ہو تو قتل کی دفعات لگا دی جاتی ہیں۔ سیاسی اختلاف ہو تو انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کر دی جاتی ہیں۔ مگر یہاں تو معاملہ اور بھی گرا ہوا ہے۔ زنا جیسے الزام کو ہتھیار بنا کر بچوں پر تھوپ دینا محض قانونی زیادتی نہیں، یہ اخلاقی پستی کی انتہا ہے۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے ایک خطرناک رجحان کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ہم نے قانون کو انصاف کا ذریعہ کم اور دباو ڈالنے کا آلہ زیادہ بنا دیا ہے۔ ایف آئی آر اب شکایت نہیں، دھمکی بن چکی ہے۔ جس کے پاس اثر و رسوخ ہے وہ مخالف کو گھسیٹنے کے لیے سب سے پہلے تھانے کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اور بعض اوقات تھانہ بھی بغیر تحقیق کے دروازہ کھول دیتا ہے۔بچوں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کئی بین الاقوامی معاہدوں کا فریق ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن کے قوانین موجود ہیں۔ کم سن بچوں کے لیے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ نافذ ہے۔ اس قانون کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ بچے مجرم نہیں، اصلاح کے مستحق ہوتے ہیں۔ مگر یہاں تو معاملہ الٹا ہے۔ جن بچوں پر جھوٹا الزام لگایا گیا، انہیں ہی نظام کے سامنے ملزم بنا کر کھڑا کر دیا گیا۔
اس واقعے میں ایک اور پہلو بھی ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔ جب ہم جھوٹے الزامات کو دشمنی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ہم اصل متاثرین کے ساتھ بھی ناانصافی کرتے ہیں۔ جن خواتین اور بچوں کے ساتھ واقعی ایسے جرائم ہوتے ہیں، ان کے کیسز پہلے ہی معاشرتی بدنامی اور شواہد کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر ہر جھگڑے میں ایسے الزامات گھڑے جائیں گے تو اصل کیسز کی سنجیدگی بھی متاثر ہوگی۔یہاں پولیس کی ذمہ داری دوہری تھی۔ پہلی، کم سن بچوں کے خلاف ایسے الزام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینا۔ دوسری، بدنیتی کا ابتدائی اندازہ لگانا۔ ایف آئی آر درج کرنا پولیس کا اختیار ہے، مگر اندھا اختیار نہیں۔ سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ پولیس کو میکانکی انداز میں مقدمہ درج نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب حقائق بظاہر مشکوک ہوں۔
اگر یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ثابت ہوتا ہے تو مدعیان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جھوٹا مقدمہ درج کروانا خود ایک جرم ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعات اس حوالے سے واضح ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کے خلاف کارروائی کم ہی ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ لوگ بے خوف ہو کر کسی کی بھی عزت اور مستقبل کو داو پر لگا دیتے ہیں۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بچوں کی نفسیات پر ایسے الزامات کیا اثر ڈالتے ہیں۔ سات سال کا بچہ شاید لفظ کا مطلب بھی نہ جانتا ہو۔ بارہ سال کا بچہ بھی ابھی بلوغت کے مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اسے ایک سنگین جنسی جرم کے الزام میں گھسیٹنا اس کی شخصیت پر دیرپا منفی اثر چھوڑ سکتا ہے۔ وہ خوف، شرمندگی اور الجھن کا شکار ہو سکتا ہے۔ اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ معاشرے پر بھروسہ ختم ہو جاتا ہے۔
یہ واقعہ صرف ڈجکوٹ کا نہیں۔ یہ ہر اس گلی کی کہانی ہے جہاں انا، جہالت اور طاقت کا غلط استعمال انصاف پر غالب آ جاتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قانون کی موجودگی کافی نہیں، اس کا درست اطلاق ضروری ہے۔ تھانے کی سطح پر تربیت، نگرانی اور احتساب ناگزیر ہے۔ریاست کا کام شہریوں کو تحفظ دینا ہے، خاص طور پر بچوں کو۔ اگر بچے ہی نظام سے خوفزدہ ہوں تو یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں سوال اٹھانا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ ہیں یا صرف عمارتیں بدل گئی ہیں اور سوچ اب بھی پتھر کے دور میں اٹکی ہوئی ہے۔
یہ وقت ہے کہ متعلقہ حکام اس کیس کا ازخود نوٹس لیں۔ حقائق کی شفاف تحقیقات ہوں۔ اگر مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے تو اسے فوری طور پر خارج کیا جائے۔ جھوٹا الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔ اور پولیس کی سطح پر بھی یہ جائزہ لیا جائے کہ ایسی ایف آئی آر درج کیسے ہوئی۔معصوم بچوں کو دشمنی کی بھینٹ چڑھانا صرف ایک خاندان کے ساتھ ظلم نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوال ہے۔ اگر ہم نے ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کی تو کل کوئی اور بچہ اسی طرح کسی کی انا کا ایندھن بن جائے گا۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم قانون کو انتقام کا آلہ بننے دیں گے یا انصاف کا ستون بنائیں گے۔ کیونکہ جب معصومیت کٹہرے میں کھڑی ہو اور معاشرہ تماشائی بنا رہے، تو اصل ملزم صرف چند افراد نہیں ہوتے، ہم سب ہوتے ہیں۔
#ChildProtection #JusticeSystem #FalseFIR #LegalReform #HumanRights #JuvenileJustice #PakistanLaw #SocialAccountability
|