سلطان سارنگ خان گکھڑ کی مزاحمت اور پنجاب کا مقدمہ
(Rai Muhammad Hussain Kharal, Arifwala)
|
سلطان سا رنگ خان گکھڑ کی مزاحمت اور پنجاب کا مقدمہ تحریر رائے محمد حسین کھرل
پوٹھوہار کے گکھڑ قبائل تاریخ کے صفحات میں مغلوں کے وفادار اور مضبوط حلیف کے طور پر ابھرے۔ جب 1540ء میں 'جنگِ قنوج' میں ہمایوں کو شکستِ فاش ہوئی اور شیر شاہ سوری کی افواج دہلی کے تخت پر قابض ہو گئیں، تو پوٹھوہار کے ان غیور سرداروں نے فاتحِ وقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنے قدیم عہدِ وفا کو مقدم رکھا۔ شیر شاہ سوری نے جب ان سے اطاعت کا مطالبہ کیا، تو گکھڑ سردار سلطان سارنگ خان نے جواب میں شیر کی کھال اور کتے کا چمڑا بھیج کر ایک واشگاف پیغام دیا کہ طاقت اور حق ہمیشہ ایک نہیں ہوتے۔ سوری بخوبی جانتا تھا کہ گکھڑوں کو زیر کیے بغیر اس کا پایۂ تخت کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا، چنانچہ اس نے جہلم کے قرب و جوار میں اس قبیلے کے خلاف بھرپور فوج کشی کر دی۔ یوں پوٹھوہار کی گھاٹیاں ایک طویل اور لہو رنگ مزاحمتی معرکے کا میدان بن گئیں۔ یہ کوئی برابری کی جنگ نہ تھی؛ ایک طرف دہلی کا عظیم فاتح تھا اور دوسری جانب اپنے وطن کی مٹی سے جڑے مقامی پنجابی قبائل۔ گکھڑ جنگجو رات کی تاریکی میں نمودار ہوتے، سوری کے لشکر اور رسدی قافلوں پر شب خون مارتے اور پھر پہاڑوں کی اوڑھنی میں روپوش ہو جاتے۔ ان چھاپہ مار کارروائیوں نے شیر شاہ کے طاقتور لشکر کو اضطراب میں مبتلا کر دیا، اور اسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے جہلم کے قریب قلعہ روہتاس تعمیر کیا گیا۔ ایک طرف شکست خوردہ ہمایوں کی حمایت میں یہ مزاحمت کار بے سروسامانی کے عالم میں اپنا عہد نبھا رہے تھے، تو دوسری جانب کابل و قندھار میں ہمایوں کے اپنے بھائی، کامران مرزا اور عسکری مرزا، شیر شاہ سوری سے راہ ورسم بڑھا چکے تھے۔ عسکری مرزا نے ہمایوں کے لٹے پٹے قافلے پر حملہ کر کے اس کے شیر خوار بیٹے، جلال الدین محمد اکبر کو قید کر لیا۔ اپنوں سے مایوس ہو کر ہمایوں نے ایران کے صفوی دربار کا رخ کیا، جہاں اسے عقیدہ تبدیل کرنے (شیعیت اختیار کرنے) اور فتح کے بعد کندھار حوالے کرنے کی شرائط پر فوجی امداد فراہم کی گئی، اسی فوج کی بدولت اس نے دوبارہ پہلے کندھار اور پھر کابل فتح کیا۔ فتح کابل کے بعد ہمایوں نے پنجاب کا رخ کیا، جہاں اس وقت شیر شاہ سوری کا بھتیجا سکندر سوری برسرِ اقتدار تھا۔ جون 1555ء میں 'جنگِ سرہند' میں سکندر سوری کو شکست ہوئی اور ہمایوں پندرہ سالہ جلاوطنی کے بعد دوبارہ دہلی میں داخل ہوا۔ پوٹھوہار کی اس طویل جدوجہد میں سلطان سارنگ خان گکھڑ کو شیر شاہ سوری نے گرفتار کر کے ان کے سولہ بیٹوں سمیت شہید کر دیا تھا، مگر ان کی بپا کردہ تحریک دم نہ توڑ سکی۔ قیادت اب ان کے بھائی، سلطان آدم خان کے پاس تھی۔ یہاں سے اس داستان میں شمشیر زنی کے ساتھ ساتھ تدبر اور سیاست کا عنصر بھی شامل ہو گیا۔ جب ہمایوں نے دوبارہ دہلی کا تخت سنبھالا اور کامران مرزا کی حوالگی کا مطالبہ کیا، جو کابل میں شکست کے بعد پوٹھوہار میں روپوش تھا ۔ تو آدم خان نے کمالِ حکمت سے کام لیتے ہوئے شرط رکھی کہ پوٹھوہار کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے، شاہی دربار میں گکھڑ قبیلے کو نمایاں مقام دیا جائے اور ان کے علاقوں میں کسی مغل صوبہ دار کی مداخلت نہ ہو۔ ہمایوں نے یہ تمام شرائط تسلیم کر لیں، جس کے بعد کامران مرزا مغلوں کے حوالے کر دیا گیا اور گکھڑ قبائل کو سلطنت میں 'وفادار حلیف' کا بلند مرتبہ حاصل ہوا۔ یہاں بحث یہ نہیں کہ ہمایوں اور شیر شاہ سوری میں سے کون بہتر حکمران تھا، کیونکہ دونوں ہی برصغیر میں مسلم حکمرانی کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ پنجاب کے ان مزاحمت کاروں کے لیے اصل مسئلہ تقابل نہیں بلکہ وہ اصولی وفاداری تھی جو انہوں نے دہلی کے اس مرکز سے وابستہ رکھی تھی جسے وہ جائز سمجھتے تھے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے سوری کی پیش قدمی کو ایک انتظامی اصلاح کے بجائے غاصبانہ اقدام تصور کیا۔ پوٹھوہار کی چٹانوں سے لے کر راوی اور چناب کے کناروں تک، پنجاب کی اس سرزمین نے ہر دور میں ایسے کردار پیدا کیے جو جبر کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوئے۔ مگر افسوس کہ تاریخی بیانیوں میں ان کے نام حاشیوں تک محدود رہے اور بیرونی حملہ آوروں کی داستانیں متن کا حصہ بنتی گئیں۔ آج اگر پنجاب اپنی تاریخ کی درستی کے لیے ان کرداروں کو نمایاں کرنا چاہتا ہے، تو اسے لسانی یا علاقائی تعصب نہیں بلکہ تاریخی شعور کی بازیافت سمجھا جانا چاہیے۔ اگر اہل پنجاب دیگر خطوں کی مزاحمتی تحریکوں—جیسے حاجی صاحب ترنگ زئی، باچا خان یا سندھ کے حُروں کی جدوجہد—کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تو سارنگ خان گکھڑ سے لے کر رائے احمد خان کھرل تک اپنے مقامی مجاہدوں کو یاد رکھنا بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ اسی لیے اگر کسی چوک میں بیرونی حملہ آور کے بجائے پنجاب کی مزاحمت کی علامت، سلطان سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ نصب کیا جائے تو اسے تعصب یا نفرت کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اپنی تاریخ کے حقیقی کرداروں کو پہچاننا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا نفرت نہیں بلکہ اپنی مسخ شدہ شناخت کی تکمیل ہے۔ اگرچہ شیر شاہ سوری کے اقدامات اور کارنامے اس تحریر کا موضوع نہیں، تاہم ایک مغالطے کی وضاحت ضروری ہے۔ 'جرنیل سڑک' (GT Road) جسے عموماً سوری دور کی تعمیر سمجھا جاتا ہے، درحقیقت قدیم سنسکرت میں 'اُترا پتھ' (شمالی راستہ) اور یونانیوں کے ہاں 'رائل روڈ' کہلاتی تھی۔ یہ شاہراہ موریہ عہد، بالخصوص اشوک اعظم کے زمانے میں برصغیر کی معاشی شہ رگ کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ جہاں جگہ جگہ میٹھے پانی کے کنویں اور سایہ دار درختوں کا اہتمام موجود تھا۔ اگرچہ بعد ازاں سوری نے اس شاہراہ پر نمایاں کام کرایا، لیکن اگر محض تعمیرات کو ہیرو ازم کا معیار بنا لیا جائے تو ہر وہ قوت جس نے سڑک یا نہر تعمیر کی، تاریخ میں تقدیس کی مستحق قرار پائے گی۔ اگر یہی اصول ہو تو ریلوے لائنیں اور نہریں قائم کرنے والے برطانوی سامراج کو بھی ہیرو کہنا پڑے گا، حالانکہ تاریخ انہیں سیاسی غلبے اور معاشی استحصال کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔ تعمیرات اقتدار کو سہارا دیتی ہیں، مگر غاصبانہ قبضے کو اخلاقی جواز فراہم نہیں کر سکتیں۔ |
|