چین کی ویزا فری پالیسی اور سیاحتی حکمتِ عملی کے ثمرات
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی ویزا فری پالیسی اور سیاحتی حکمتِ عملی کے ثمرات تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کی جانب سے ویزا فری داخلے کی پالیسیوں میں نمایاں توسیع کے دو سال بعد بھی ’’چائنا ٹریول‘‘ عالمی سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔ بالخصوص اسپرنگ فیسٹیول، جو چین کا سب سے اہم روایتی تہوار ہے، غیر ملکی مہمانوں کے لیے محض سیاحت نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیب کے جذباتی اور تہوارانہ پہلو سے براہِ راست آشنائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 2026 کے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کی سہولت بخش پالیسیوں اور منظم انتظامات نے عالمی مسافروں کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔
چینی نئے سال کی شام کے ابتدائی اوقات میں روس سے آنے والی تین پروازیں جنوبی چین کے صوبہ ہائی نان کے شہر سانیا پہنچیں، جن کے ذریعے 570 سے زائد غیر ملکی سیاح اس معروف ساحلی مقام پر پہنچے۔ امیگریشن مراکز پر مؤثر انتظامات کے باعث مسافروں کی تیز رفتار کلیئرنس ممکن بنائی گئی، جس سے ویزا فری پالیسی کے عملی فوائد نمایاں ہوئے۔
جنوبی ہائی نان سے لے کر شمالی ترین صوبہ ہیلونگ جیانگ تک غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، جو نہ صرف سیاحتی مقامات کی سیر بلکہ اسپرنگ فیسٹیول کی تقریبات میں شرکت کے لیے چین کا رخ کر رہے ہیں۔ شنگھائی میں خصوصی اسپرنگ فیسٹیول سٹی واک پروگرام ترتیب دیے گئے، جہاں غیر ملکی مہمان اسپرنگ کپلٹس لکھنے، روایتی لباس پہننے اور مقامی پکوان تیار کرنے جیسے تجربات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
جنوبی شہر فوشان، جو مارشل آرٹس اور کینٹونیز کھانوں کے لیے معروف ہے، میں بھی بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔ ریستورانوں میں نئے سال کی ضیافتوں کی پیشگی بکنگ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً ایک ماہ پہلے مکمل ہو گئی۔ اسی طرح مشرقی صوبہ زے جیانگ کے شہر جیاشنگ میں غیر ملکی زبانوں کے گائیڈز کی بکنگ میں 20 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ مقامی حکام نے بڑے سیاحتی مقامات کو جوڑنے والے نئے راستے متعارف کرائے تاکہ مہمان آبی قصبوں کی تہوارانہ فضا، غیر مادی ثقافتی ورثے کی دستکاری اور روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے 2024 کے اواخر میں ’’اسپرنگ فیسٹیول‘‘ کو انسانیت کے نمائندہ غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا، جس سے اس تہوار کی عالمی شناخت مزید مستحکم ہوئی۔
چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے اندازوں کے مطابق تعطیلاتی عرصے میں یومیہ مسافروں کی آمد ورفت کی اوسط تعداد 20 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ آن لائن سیاحتی پلیٹ فارمز کے اعداد و شمار کے مطابق ملائیشیا، جمہوریہ کوریا، سنگاپور، جاپان اور روس سے آنے والے سیاحوں کی بکنگ میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ روسی سیاحوں کی بکنگ میں 471 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ غیر چینی پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کی اندرونِ ملک پروازوں کی بکنگ میں 20 فیصد اضافہ ہوا اور یہ سفر 102 شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔
بین الاقوامی سیاحت کو فروغ دینا چین کی طویل المدت حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ 2026 تا 2030 کے ترقیاتی منصوبے میں بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے سہولت اور رسائی بہتر بنانا ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں رواں ماہ 11 سرکاری اداروں نے مشترکہ ہدایات جاری کیں جن میں غیر ملکی شہریوں کے لیے ڈیجیٹل خدمات اور ادائیگی کے نظام کو آسان بنانے کے 14 اقدامات شامل ہیں۔ ان میں بیرونِ ملک ای والٹس کی معاونت، غیر ملکی زبانوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی اور سیاحت، خریداری و خوراک کے تجربات کو بہتر بنانا شامل ہے۔
2026 کے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ چین کی ویزا سہولتوں، ڈیجیٹل اصلاحات اور سیاحتی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ تہوار کی ثقافتی گہرائی اور جدید انتظامی سہولتوں کے امتزاج نے اس تجربے کو یادگار اور ہموار بنایا ہے۔ یوں اسپرنگ فیسٹیول نہ صرف قومی تہذیبی شناخت کا مظہر ہے بلکہ عالمی ثقافتی مکالمے اور سیاحتی تعاون کا بھی ایک مؤثر پل بنتا جا رہا ہے۔ |
|