موسمِ خزاں اور زندگی کی حقیقت

موسمِ خزاں اور زندگی کی حقیقت

تحریر : محمد علی رضا
گرتے ہوئے درختوں کے سوکھے پتے اور خزاں کا سنّاٹا ہمیں زندگی کی ایک گہری حقیقت یاد دلاتا ہے۔ درختوں سے جدا ہوتے یہ پتے اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی میں نہ خوشیاں ہمیشہ رہتی ہیں اور نہ ہی غم دائمی ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں نہ کوئی انسان ہمیشہ کے لیے آیا ہے اور نہ ہی کوئی شے ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ بقا صرف اللہ ربُّ العزت کی
ذات کو ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:
"كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"
(ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے)۔ — (سورۃ آلِ عمران: 185)
یہ آیت انسان کے غرور کو توڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ آج اگر کوئی شخص طاقت، دولت یا اختیار کے نشے میں دوسروں کو حقیر سمجھ رہا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی عارضی ہے۔
خزاں کا موسم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عروج و زوال قدرت کا اٹل نظام ہے۔ جو درخت آج سوکھے پتوں کے ساتھ کھڑے ہیں، چند روز پہلے تک وہی درخت سرسبز و شاداب تھے۔ وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور منظر بدل جاتے ہیں۔ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ آج اگر کسی کے پاس دولت، اختیار اور طاقت ہے تو کل یہ سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل بھی سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگ دوسروں کو رسوا کرنے اور خود کو برتر ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح خزاں کے یہ پتے درخت سے جدا ہو جاتے ہیں، اسی طرح انسان کا غرور، اس کی دولت اور اس کا منصب بھی ایک دن اس سے جدا ہو جائے گا۔
انسان اگر مال و دولت پر اترانے لگے، دوسروں کو حقیر سمجھے اور اپنی حیثیت کو دائمی سمجھ بیٹھے تو اسے موسمِ خزاں کا منظر ضرور دیکھنا چاہیے۔ یہ بکھرتے ہوئے پتے اسے یاد دلائیں گے کہ سب کچھ عارضی ہے۔ دولت بھی ایک دن خزاں کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی اور انسان بھی اسی مٹی کا حصہ بن جائے گا جس پر وہ کبھی فخر کیا کرتا تھا۔
زندگی کے آگے موت ہے اور موت کے آگے اللہ کی پکڑ۔ وہاں نہ دولت کام آئے گی، نہ شہرت اور نہ ہی غرور۔ کام آئے گا تو صرف انسان کا کردار، اس کا اخلاق اور اس کے اعمال۔
آئیے! موسمِ خزاں سے سبق حاصل کریں۔ عاجزی اختیار کریں، دوسروں کی عزت کریں اور یہ یاد رکھیں کہ عروج ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، اور جو آج سبز ہے وہ کل خزاں کا منظر بھی بن سکتا ہے۔ 
MUHAMMAD ALI RAZA
About the Author: MUHAMMAD ALI RAZA Read More Articles by MUHAMMAD ALI RAZA: 12 Articles with 10763 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.