بحیرہ مرمرہ کے سائے میں خطرہ

بحیرہ مرمرہ کے سائے میں خطرہ

غلام مرتضیٰ باجوہ ایوان اقتدارسے

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تغیرات اور قدرتی آفات نے ریاستوں کی پالیسی سازی کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق استنبول کے قریب بحیرہ مرمرہ کے نیچے موجود چٹانیں طویل عرصے سے شدید دباؤ کا شکار ہیں، جو مستقبل میں ایک بڑے زلزلے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف ترکی بلکہ دنیا کے دیگر زلزلہ خیز خطوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے۔ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری، سائنسی تحقیق اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایسے میں بحیرہ مرمرہ کے نیچے جاری سرگرمی ہمارے لیے بھی اہم سبق رکھتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق استنبول کے ساحل کے قریب واقع فالٹ لائن گزشتہ ڈھائی سو برس سے کسی بڑے زلزلے کے بغیر دباؤ جمع کر رہی ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق، جس کا حوالہ سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدہ Geology کے حوالے سے دیا، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شمالی اناطولیہ کی خطرناک دراڑ کے تحت مرمرہ سمندر کے نیچے چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر اہم فرق موجود ہے۔ یہ فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کی ممکنہ وجہ بن سکتا ہے۔
مزید برآں، عرب نشریاتی ادارے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کا جائزہ لیا ہے۔ اس جدید تحقیق نے واضح کیا ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر طویل ایک حصہ مکمل طور پر مقفل ہے اور مسلسل تناؤ میں ہے۔ اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا زلزلہ آسکتا ہے۔ اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔
یہ خطہ، جو استنبول کے جنوب میں واقع ہے، ماہرین کے نزدیک ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہلاتا ہے اور ایک نمایاں سیسمک گیپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہاں تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفوں سے بڑے زلزلے آتے رہے ہیں۔ چونکہ ترکی یوریشین، افریقی، عربی اور اناطولیہ ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، اس لیے یہ دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
سائنسی تحقیق میں انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل مدتی نگرانی کے ذریعے بلند تناؤ والے مقامات کی نشاندہی کی۔ پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی خارج ہوئی تو چار میٹر سے زائد زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے مہلک زلزلے جیسے ہو سکتے ہیں، جس نے ہزاروں جانیں لے لی تھیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
یہ سائنسی انکشافات ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفات سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ پاکستان بھی جغرافیائی اعتبار سے ایک زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے جہاں بھارتی اور یوریشین پلیٹوں کا تصادم مسلسل جاری ہے۔ 2005 کا کشمیر زلزلہ اور 2013 کا بلوچستان زلزلہ اس حقیقت کے واضح مظاہر ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی موجودہ پالیسی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور صوبائی اداروں کو جدید سائنسی تحقیق، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور تعمیراتی ضوابط کی سختی سے عمل درآمد کی ہدایات شامل ہیں۔
عالمی معیار کے مطابق زلزلوں سے نمٹنے کے لیے تین بنیادی ستون اہم ہیں:اول، سائنسی تحقیق اور ڈیٹا کی مسلسل نگرانی۔دوم، شہری منصوبہ بندی اور بلڈنگ کوڈز کا سخت نفاذ۔سوم، عوامی آگاہی اور ہنگامی ردعمل کی تربیت۔
ترکی میں جاری تحقیق اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ سمندر کی تہہ میں کی جانے والی طویل مدتی پیمائشیں اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجی خطرات کی پیشگی نشاندہی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات اور تحقیقی ادارے زلزلہ جاتی تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھائیں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دیں۔استنبول کے قریب موجود فالٹ کی صورت حال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ یہ ایک گنجان آباد شہری مرکز کے قریب واقع ہے۔ اگر 7.4 شدت کا زلزلہ آتا ہے تو اس کے انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے بڑے شہر، خصوصاً اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ، فعال فالٹ لائنز کے قریب واقع ہیں۔ اس تناظر میں حکومتِ پاکستان کی پالیسی یہ تقاضا کرتی ہے کہ شہری ترقیاتی منصوبوں میں زلزلہ مزاحم تعمیرات کو لازمی قرار دیا جائے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی ہو۔
سائنسی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فالٹ لائن کے مقفل حصے میں دباؤ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور جب یہ اچانک خارج ہوتا ہے تو تباہی کا سبب بنتا ہے۔ یہی اصول ہمیں منصوبہ بندی میں احتیاط اور بروقت اقدامات کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ عالمی سطح پر جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے جدید وارننگ سسٹمز اور مضبوط انفراسٹرکچر کے ذریعے جانی نقصان کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی سمت پیش رفت کرنا ہوگی۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق مزید وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ بحیرہ مرمرہ کی تحقیق ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زلزلے کے خطرات کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں، بلکہ پیشگی منصوبہ بندی ہی حقیقی تحفظ کی ضمانت ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ استنبول کے قریب سمندر کی تہہ میں جمع ہوتا دباؤ صرف ترکی کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق سائنسی تحقیق، شفاف معلومات اور پیشگی تیاری ہی قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہیں۔ اگر ہم عالمی معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اداروں، شہریوں اور ماہرین کو یکجا کریں تو نہ صرف ممکنہ تباہی کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔قدرتی آفات کا مقابلہ محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی عزم کا تقاضا ہے۔ بحیرہ مرمرہ کی خاموش دراڑ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین کی گہرائی میں پلنے والا دباؤ کسی بھی وقت انسانی زندگیوں کو چیلنج کر سکتا ہے۔ دانشمند قومیں وہی ہیں جو خطرے کی دستک کو سن کر بروقت تیاری کر لیتی ہیں۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 55 Articles with 53973 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.