تدبیر کی کمی، بھارتی دفاع کا المیہ
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
تدبیر کی کمی، بھارتی دفاع کا المیہ حسیب اعجاز عاشرؔ جس ملک کے پاس اسلحہ کی فراوانی، افواج کی کثرت اور جدید ٹیکنالوجی کا غلغلہ ہو، وہ خود کو ناقابلِ تسخیر خیال کرنے لگتا ہے۔ مگر تاریخ کا اوراق شاہد ہے کہ محض اعداد و شمار کی کثرت ہمیشہ استحکام کی ضمانت نہیں ہوتی۔ حالیہ برسوں میں بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی اور اس کے عملی مظاہر نے اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ دعویٰ اور دوام میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ٓآج شائع ہونے والی خبر کے مطابق بریک فیل ہونے پر تچس رن وے پر بے قابو ہوگیا جس کے بعد بھارتی فضائیہ نے اپنے مقامی ساختہ تیجس طیاروں کی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ یکایک نہیں ہوا، یہ تیسرا بڑا حادثہ تھا جس کے بعد تقریباً تیس سنگل سیٹ جہازوں کو زمین بوس رکھ کر فنی جانچ کا حکم صادر ہوا۔ ایک ایسی فضائیہ جو خطے میں برتری کا دعویٰ رکھتی ہو، اس کے لیے یہ امر فنی خلل قرار دے کرسبکی کے اِس چیپٹرکو کلوز نہیں کیا جاسکتا۔طیارہ حادثات کا باب تو اور بھی طویل ہے۔ 1947 سے لے کر حال تک ہزاروں طیاروں کے حادثات اور سینکڑوں پائلٹوں کی ہلاکتیں ایک المیہ داستان سناتی ہیں۔ میگ-21 کو“فلائنگ کوفن”کا لقب یونہی نہ ملا۔ نصف سے زائد جہاز گر جانا اور درجنوں ماہر پائلٹوں کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اس امر کا مظہر ہے کہ پرانے پلیٹ فارم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا کتنا دشوار ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں بھی سو سے زائد طیاروں کی تباہی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ مسئلہ کے پاس ایک اور مسئلہ درپیش ہے۔میزائل تجربات کی ناکامیاں بھی کم تشویشناک نہیں۔ اگنی-2 کا تجربہ ہوا میں ناکامی سے دوچار ہوا، نیربھے کروز میزائل انجن کی خرابی کے باعث منزل تک نہ پہنچ سکا، اور اگنی-3 کا نائٹ ٹیسٹ مطلوبہ نتائج نہ دے سکا۔ 2022 میں براہموس میزائل کا حادثاتی طور پر سرحد پار گر جانا تو سفارتی و عسکری سطح پر ایک سنگین واقعہ تھا، جس نے کمانڈ سسٹم کی خامیوں کو عیاں کیا۔ دیکھا جائے تو بھارتی عسکری تاریخ میں فرینڈلی فائر کے واقعات بھی ایک المناک باب کی صورت موجود ہیں۔ 2019 میں بالاکوٹ کے ہنگامہ خیز ایام میں بھارتی فضائی دفاع نے اپنے ہی ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کو میزائل کا نشانہ بنایا، جس میں چھ فوجی اور ایک شہری لقمہ اجل بنے۔ یہ اعتراف خود بھارتی قیادت نے کیا کہ یہ ایک“بڑی غلطی”تھی۔ اسی طرح کشمیر میں مختلف برسوں میں اپنے ہی یونٹس کا ایک دوسرے پر گمانِ دشمنی میں فائر کھول دینا، اور جانی نقصان کا وقوع پذیر ہونا، کوئی معمولی بات نہیں۔ آپریشنل سطح بات کی جائے تو معاملات عجب نہیں غضب کے ہیں۔ 1962 میں چین کے ساتھ جنگ میں تیاری کی کمی نے بھارت کو سخت نقصان پہنچایا اور ہزاروں فوجیوں کی قربانی کے باوجود علاقے ہاتھ سے گئے۔ 1984 کا آپریشن بلیو سٹار، جو گولڈن ٹیمپل میں انجام پایا، داخلی سیاسی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 2019 کی بالاکوٹ کارروائی، جو بالاکوٹ کے حوالہ سے عالمی ذرائع ابلاغ میں زیرِ بحث رہی، محدود نتائج کے ساتھ ختم ہوئی اور جواباً فضائی جھڑپ میں بھارتی فضائیہ کو منہ کی کھانی پڑی۔ 2026 کے تجزیات کے مطابق بھارت کو کئی داخلی مسائل درپیش ہیں۔ دفاعی بجٹ اگرچہ خطے میں بڑا ہے، مگر جی ڈی پی کے تناسب سے دو فیصد سے کم رہنا ایک بحث کا موضوع ہے۔ خریداری کے پیچیدہ مراحل، تاخیر، اور اصلاحات کی سست روی اسلحہ کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ نظر آ رہی ہے۔ روسی نظاموں پر انحصار بھی ایک سوالیہ نشان ہے، خصوصاً جب یوکرین کی جنگ کے بعد روس کے دفاعی سازوسامان کی کارکردگی پر عالمی سطح پر سوالات اٹھے۔ S-400 اور دیگر نظاموں کی افادیت کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئیں، جس سے انحصار کی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ گلوبل فائر پاور انڈیکس 2026 کے مطابق Global Firepower نے بھارت کو دنیا کی چوتھی بڑی فوجی طاقت قرار دیا، امریکہ، روس اور چین کے بعد۔ فعال فوجیوں کی تعداد لاکھوں میں، سینکڑوں لڑاکا طیارے، دو ایئر کرافٹ کیریئرز اور جوہری صلاحیت،یہ سب اعداد و شمار بظاہر ایک عظیم قوت کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ مگر عسکری برتری کا انحصار تربیت، نظم، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور بروقت فیصلوں پر ہوتا ہے،جس کا فقدان ہے۔ اب آئیے موازنہ کی دوسری جہت کی طرف۔ پاکستان اعداد و شمار کے اعتبار سے یقیناً اپنے ہمسایہ سے چھوٹا ہے۔ فعال فوجیوں کی تعداد کم، دفاعی بجٹ محدود، اور وسائل میں احتیاط،یہ سب حقیقت ہیں۔ مگر اسی محدودیت نے حکمت، جدت اور انحصارِ ذات کو جنم دیا۔ پاکستان کی دفاعی صنعت نے گزشتہ برسوں میں جو پیش رفت کی، اس میں مقامی تیاری، جدید ڈرون ٹیکنالوجی، اور میزائل پروگرام کی تکمیل نمایاں ہیں۔ کم وسائل میں زیادہ مؤثر نتائج حاصل کرنا ایک ایسی حکمت ہے جو عسکری تاریخ میں ہمیشہ قابلِ قدر رہی ہے۔ پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ تربیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مضبوط ڈھانچہ، اور جنگی تجربہ ایک سرمایہ ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی طویل جنگ نے افواج کو عملی میدان میں آزمودہ بنایا۔ فضائیہ کی جدید حکمتِ عملی، بحریہ کی ساحلی دفاع میں مہارت، اور بری فوج کی تیز رفتار نقل و حرکت خطے میں ایک توازن قائم رکھتی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو عددی برتری سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ مسلسل محنت، نظم اور قومی عزم سے جنم لیتے ہیں جبکہ عوامی اعتماد بھی ایک قوت ہے۔ پاکستان میں دفاعی اداروں پر عوام کا یقین کوئی جذباتی وابستگی نہیں، عملی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ جب سرحدوں پر خطرہ منڈلاتا ہے تو پوری قوم ایک آواز ہو جاتی ہے۔ یہی وحدتِ فکر و عمل کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جوہری صلاحیت اور دفاعی نظم کو ایک سنجیدہ حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جس نے خطے میں توازنِ قوت کو برقرار رکھا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاعی نظریے کو جارحیت کے بجائے دفاعی توازن پر استوار کیا ہے۔“کم مگر مؤثر”،”پہل نہیں مگر منہ توڑ جواب“،”جھوٹے دعوے نہیں عملی اقدام“کی حکمتِ عملی پر اپنے آپ کو قائم رکھا ہوا ہے۔ جدید میزائل نظام، فضائی نگرانی کے مربوط آلات، اور انٹیلی جنس کا فعال ڈھانچہ اس بات کی دلیل ہیں کہ عددی کمی کے باوجود تکنیکی تکمیل ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی حلقے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اسے خطے کے استحکام میں ایک کلیدی کردار سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کی عسکری قوت بلاشبہ بڑی ہے، مگر اس کے اندرونی تضادات، حادثات، اور آپریشنل لغزشیں اس کے دعووں کو چیلنج کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان محدود وسائل کے باوجود تکنیکی مہارت، پیشہ ورانہ نظم اور قومی اتحاد کے ذریعے ایک متوازن اور قابلِ اعتماد دفاعی نظام قائم کیے ہوئے ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ قوت کا حقیقی پیمانہ تعداد نہیں بلکہ تدبیر، استقامت اور اعتماد ہوتا ہے۔ جب قوم اور افواج ایک صف میں کھڑی ہوں، تو قلت بھی کمال میں ڈھل جاتی ہے، اور یہی وہ راز ہے جو پاکستان کو عددی کمی کے باوجود دفاعی اعتبار سے مضبوط اور باوقار بناتا ہے۔ Haseeb Ejaz Aashir 📞00923344076757
|