غربت کے خاتمے سے پائیدار دیہی ترقی کی جانب

غربت کے خاتمے سے پائیدار دیہی ترقی کی جانب
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ وہ غربت کے خاتمے کو عارضی کامیابی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مستقل استحکام میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔ دیہی معیشت، زرعی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں تسلسل کے ساتھ بہتری ایسے عناصر ہیں جو نہ صرف سماجی استحکام بلکہ مجموعی قومی ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اسی پس منظر میں چین نے مکمل غربت کے خاتمے کے پانچ برس بعد اپنی پالیسیوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے غربت کی واپسی کو روکنے کے لیے منظم اور معمول کے نظام کی تشکیل کا آغاز کیا ہے۔

2026 کی مرکزی دستاویز نمبر ایک روایتی طور پر زرعی، دیہی اور کسانوں سے متعلق امور، یعنی "تھری رورل ایشوز"، پر اپنی بنیادی توجہ برقرار رکھتی ہے۔ زرعی پیداوار میں استحکام، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ بدستور پالیسی کا مرکزی محور ہیں۔ اس حوالے سے بنیادی حکمتِ عملی کو "مجموعی استحکام کے ساتھ جزوی اصلاحات" کے اصول پر قائم رکھا گیا ہے، یعنی بڑے اہداف میں تسلسل جبکہ طریقۂ کار میں ضروری بہتری۔

تاہم رواں برس کی دستاویز کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دیہی ترقی اور غربت سے بچاؤ کے اقدامات کو زیادہ منظم، ساختی اور ادارہ جاتی فریم ورک میں ڈھالا گیا ہے۔ غربت کے خاتمے کو وقتی مہم کے بجائے ایک مستقل نظام میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر دوبارہ غربت میں گرنے کے خطرات کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ اور اہدافی امدادی نظام کو معمول کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

غربت سے نکلنے والے بہت سے علاقوں کو اب بھی بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، محدود انسانی وسائل اور نازک صنعتی بنیاد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ نئی حکمتِ عملی کا مقصد ان علاقوں میں اندرونی ترقی کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ وہ طویل المدتی بنیادوں پر خود کفیل ہو سکیں۔ صنعتی معاونت، مقامی روزگار کے مواقع اور علاقائی صلاحیتوں میں اضافہ اس عمل کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ"ترقی پر مبنی غربت کے خاتمے" کا تصور چین کی پالیسی کا دیرینہ حصہ رہا ہے۔ اس میں براہِ راست امداد دینے کے بجائے مقامی معیشت کو مضبوط بنا کر مستقل ترقی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ رواں برس کی دستاویز میں اسی تصور کو ایک منظم اور معمول کے نظام میں تبدیل کرنے کی سمت واضح کی گئی ہے، تاکہ غربت کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کو پائیدار بنایا جا سکے۔

کسانوں کی آمدنی میں تسلسل کے ساتھ اضافہ بھی اس دستاویز کا کلیدی نکتہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دیہی باشندوں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی میں حالیہ برسوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور شہری و دیہی آمدنی کے فرق میں بتدریج کمی آئی ہے۔ 2025 میں دیہی باشندوں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی چوبیس ہزار چار سو چھپن یوان تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح غربت سے نکلنے والے علاقوں میں آمدنی کی شرح نمو قومی اوسط سے زیادہ رہی ہے، جبکہ غربت سے نکالی گئی آبادی کے لیے روزگار کا حجم مسلسل پانچ برس تک تین کروڑ افراد سے زائد برقرار رہا۔

اس کے باوجود بعض زرعی اجناس کی کم قیمتیں اور شہری علاقوں میں غیر زرعی مزدوروں کو درپیش روزگار کے دباؤ جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ اسی لیے مرکزی دستاویز میں قیمتوں، سبسڈی اور زرعی بیمہ سے متعلق مربوط پالیسیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد کسانوں کو کاشت جاری رکھنے کی ترغیب دینا اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ کم از کم خریداری قیمتوں کے تعین، موجودہ سبسڈی کے استحکام اور بڑے اناج پیدا کرنے والے اضلاع میں بیمہ پریمیم میں رعایت جیسے اقدامات اس سلسلے کا حصہ ہیں۔

دیہی مصنوعات کی فروخت کے لیے ای کامرس کو بھی اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ بہت سی مقامی اور منفرد مصنوعات محدود پیمانے کی وجہ سے بڑی منڈیوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتیں۔ آن لائن فروخت کے پلیٹ فارم ان مصنوعات کو براہِ راست صارفین تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں، جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور پیداوار و فروخت کے درمیان عدم توازن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

شہری علاقوں میں کام کرنے والے دیہی مزدوروں کی آمدنی کے تحفظ کے لیے بھی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس ضمن میں آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کی دو رُخی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ہنر مندی میں مسلسل بہتری، بہتر روزگار کے مواقع اور شہری عوامی خدمات تک مساوی رسائی ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف آمدنی میں اضافہ کریں گے بلکہ سماجی انضمام کو بھی فروغ دیں گے۔

مجموعی طور پر یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ چین اب غربت کے خاتمے کو ایک "تکمیل شدہ" مرحلہ نہیں بلکہ ایک جاری اور منظم عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ زرعی استحکام، کسانوں کی خوشحالی اور علاقائی ترقی کو مربوط پالیسی فریم ورک میں سمو کر ملک ایک ایسے ماڈل کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جو طویل المدتی سماجی و معاشی استحکام کو یقینی بنا سکے۔ یہ حکمتِ عملی نہ صرف دیہی علاقوں کے لیے نئی امید کی علامت ہے بلکہ مجموعی قومی ترقی کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1101440 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More