چین میں بزرگوں کی فٹنس

چین میں بزرگوں کی فٹنس
تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں عمر رسیدہ آبادی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تقریباً 30 کروڑ بزرگ شہری باوقار، بامقصد اور صحت مند زندگی گزارنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں بزرگوں کی جسمانی فٹنس نہ صرف سماجی بہبود کا ایک اہم ستون بن چکی ہے بلکہ عوامی پالیسی اور نجی شعبے کے لیے ایک نئے اقتصادی میدان کے طور پر بھی ابھر رہی ہے۔ تاہم اس تیزی سے بڑھتی منڈی کو پائیدار ماڈل میں ڈھالنا اب بھی ایک چیلنج ہے۔

2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک چین میں بزرگوں کی کھیل اور فٹنس پر اخراجات 800 ارب یوان سے تجاوز کر سکتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی منڈی کے ساتھ ملک بھر میں بزرگوں کے لیے مخصوص اسپورٹس اور ہیلتھ مراکز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف شنگھائی میں 2025 کے اختتام تک 200 ایسے مراکز قائم کیے جا چکے تھے۔ ان مراکز میں معیاری رہنما اصولوں کے تحت چھ فنکشنل زونز، عمر دوست آلات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے، جن کے پاس کمیونٹی اسپورٹس یا ہنگامی ابتدائی طبی امداد کی سند ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بزرگوں کی فٹنس عام جم سرگرمیوں کا سادہ یا کمزور ورژن نہیں بلکہ ایک خصوصی شعبہ ہے جس میں دائمی امراض، اسپورٹس ری ہیبیلی ٹیشن، ارگونومکس اور نفسیات کو یکجا کیا جاتا ہے۔ چونکہ متعدد بزرگ دائمی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے انفرادی نوعیت کے پروگرام ناگزیر ہیں۔

بزرگوں کی فٹنس نے آلات سازی، خدماتی جدت اور ڈیجیٹل ہیلتھ سمیت وسیع صنعتی زنجیر کو متحرک کیا ہے۔ شنگھائی میں قائم ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے 2014 میں بزرگوں کی صحت کے فروغ کی جانب رخ کیا اور اب ملک بھر میں سو سے زائد مراکز چلا رہی ہے۔ ان کے تیار کردہ آلات میں حفاظت اور افادیت کے درمیان توازن کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

مثال کے طور پر بزرگوں کے لیے مخصوص اسٹیشنری بائیکس میں چوڑی نشستیں اور کمر کے لیے سہارا فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ واکنگ مشینیں 0.1 کلومیٹر فی گھنٹہ جیسی کم رفتار سے شروع ہوتی ہیں اور اضافی ہینڈ ریلز اور دوہری ایمرجنسی اسٹاپ بٹن سے لیس ہوتی ہیں۔ بعض مراکز میں سالانہ 17 ہزار سے زائد وزٹس ریکارڈ کی جاتی ہیں، اور روزانہ اوسطاً 50 سے 60 بزرگ ورزش کے لیے آتے ہیں۔

اس ماڈل کی افادیت محض تجارتی نہیں بلکہ طبی بھی ہے۔ بعض اضلاع میں کھیل اور صحت کے انضمام کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جہاں کمیونٹی کلینکس اور فٹنس مراکز باہم منسلک ہیں۔ ڈاکٹر ہلکی دائمی بیماریوں کے مریضوں کو ورزش تجویز کرتے ہیں، جو پیشہ ورانہ نگرانی میں تربیت حاصل کر کے فالو اپ معائنے کے لیے واپس آتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس طریقہ کار سے ذیابیطس کے شکار بزرگوں میں بلڈ شوگر کنٹرول میں 28 فیصد بہتری آئی ہے، جس سے طبی انشورنس فنڈز پر دباؤ بھی کم ہوا ہے۔

اگرچہ بزرگوں کی فٹنس کے حوالے سے جوش و خروش پایا جاتا ہے، تاہم اس شعبے کو بعض ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادائیگی کی کم آمادگی، تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی اور طویل المدت مالی پائیداری جیسے عوامل منڈی کی رفتار کو محدود کر سکتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ بزرگوں کی محدود ادائیگی کی صلاحیت ہے۔ اگرچہ شنگھائی کے مراکز میں رکنیت برقرار رکھنے کی شرح مناسب ہے، مگر خصوصی خدمات پر اضافی اخراجات کرنے کا رجحان محدود ہے۔ نتیجتاً متعدد آپریٹرز اب بھی حکومتی سبسڈی پر انحصار کرتے ہیں۔

سپلائی کے میدان میں بھی عدم توازن موجود ہے۔ ایسے مراکز جہاں پیشہ ورانہ مہارت اور عمر دوست ڈیزائن یکجا ہوں، ابھی کم تعداد میں ہیں، جبکہ عام جمز اکثر 70 برس سے زائد عمر کے افراد کو حفاظتی خدشات اور محدود منافع کے باعث داخلہ نہیں دیتے۔ مزید برآں، اس شعبے کو اسپورٹس سائنس، امراضِ شیخوخت، نفسیات اور ابتدائی طبی امداد کی مشترکہ مہارت درکار ہوتی ہے، جس کے لیے تعلیمی اور تربیتی نظام ابھی مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی درکار ہے۔ حکومتی معاونت کو جاری رکھتے ہوئے مزید مؤثر بنانا، اور خاندانوں کو بھی بزرگوں کی صحت میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ضروری ہے، تاکہ بڑھاپے میں فٹنس کے تصور کو سماجی سطح پر قبولیت حاصل ہو سکے۔

چین میں بزرگوں کی فٹنس کا فروغ ایک وسیع تر سماجی و معاشی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عمر رسیدہ آبادی کو بوجھ کے بجائے فعال اور صحت مند معاشرتی رکن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پالیسی معاونت، صنعتی جدت اور افرادی قوت کی تربیت میں ہم آہنگی برقرار رکھی جائے تو یہ شعبہ نہ صرف ’’سلور اکانومی‘‘ کا اہم ستون بن سکتا ہے بلکہ لاکھوں بزرگ شہریوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1094411 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More