دھان کی فصل کو کیڑوں سے بچانے میں کھادوں کا کردار
(بلال عطاء, کالا شاہ کاکو)
بلال عطاء * | امجد خان * | محمد عثمان سلیم * | محمد احسن ایوب ** | ارشد مخدوم صابر ***
* تحقیقاتی ادارہ دھان، کالا شاہ کاکو، پنجاب، پاکستان ** تحقیقاتی اسٹیشن دھان، بہاولنگر، پنجاب، پاکستان *** تحقیقاتی ادارہ حشرات، فیصل آباد، پنجاب، پاکستان
1. تعارف
کئی نسلوں سے، پاکستان میں چاول کی زیادہ پیداوار کا نسخہ اکثر سادہ ہوتا تھا، بس زیادہ کھاد ڈالو، خاص طور پر یوریا۔ لیکن سرسبز و شاداب دھان کے کھیت کی سطح کے نیچے، ایک پیچیدہ گفتگو جاری رہتی ہے۔ آپ جو کھاد ڈالتے ہیں، وہ نہ صرف آپ کی فصل کو خوراک دیتی ہے بلکہ کیڑوں کی دنیا کو خاموش اشارے بھی بھیجتی ہے۔ ان اشاروں کو سمجھنا اس بات کی کلید ہے کہ آیا آپ کا کھیت کیڑوں کے خلاف قلعہ بنے گا یا ان کی دعوت گاہ۔
2. زیادہ نائٹروجن، زیادہ کیڑے: کیوں احتیاط ضروری ہے؟
نائٹروجن فصل کو سرسبز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ← زیادہ نائٹروجن پودے کو نرم اور رسیلا بنا دیتی ہے۔ بھورا تیلہ اور سفید پشتی تیلہ جیسے کیڑے ایسے پودوں کا رس چوسنے کے لیے کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ رس ان کے لیے اعلیٰ خوراک ہوتی ہے جس سے ان کی تعداد دھماکہ خیز رفتار سے بڑھتی ہے اور فصل 'ہاپر برن' (جلنے جیسی حالت) کا شکار ہو کر سوکھ جاتی ہے۔ ← زیادہ نائٹروجن والا پودہ اپنا سارا زور بڑھنے میں لگا دیتا ہے اور اپنے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ تنے کی سنڈی (گلابی، سفید، پیلی) کے لاروا کے لیے ایسے نرم تنے میں گھسنا آسان ہو جاتا ہے۔ ← کیڑوں کے لیے گہرا سبز کھیت خوراک کی دعوت نامے کی مانند ہوتا ہے۔ یہ تنے کی سنڈی اور پتہ لپیٹ سنڈی کو انڈے دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ ضرورت سے زیادہ نائٹروجن والے کھیتوں میں یہ کیڑے زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں ۔
3. پوٹاشیم: کیڑوں کے خلاف آپ کی فصل کی ڈھال
پوٹاشیم وہ اہم جز ہے جو پودے کو اندر سے مضبوط بنا کر کیڑوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ ← پوٹاشیم پودے کی دیواروں کو موٹا اور مضبوط کرتا ہے جس سے تنے کی سنڈی کے لیے اندر گھسنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ← اگر پتہ لپیٹ سنڈی پتے کو نقصان پہنچائے تو پوٹاشیم اس زخم کو جلدی بھرنے میں مدد دیتا ہے اور بیماریوں سے بچاتا ہے۔ ← پوٹاشیم پودے کے اندر دفاعی نظام کو چالو کرتا ہے، جس سے بھورا تیلہ اور سفید پشتی تیلہ جیسے رس چوسنے والے کیڑے پودے کو کم پسند کرتے ہیں۔
4. مٹی کا تجزیہ: کھاد ڈالنے سے پہلے لازمی کام
بغیر مٹی کا تجزیہ کروائے کھاد ڈالنا اندھیرے میں تیر چلانے کے برابر ہے۔ مٹی کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آپ کی زمین میں کون سے غذائی اجزاء پہلے سے موجود ہیں اور کن کی کمی ہے۔ اس سے نہ صرف غیر ضروری کھادوں کے استعمال سے بچا جا سکتا ہے بلکہ لاگت میں بھی کمی آتی ہے۔ تحقیق میں ایک دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ بعض اوقات کوئی خاص کھاد نہ ڈالنا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک تجربے میں جب صرف نائٹروجن اور پوٹاشیم ڈالی گئی اور فاسفورس نہیں ڈالی گئی تو: ← نقصان دہ کیڑے (تیلہ اور تنے کی سنڈی) کم پائے گئے۔ ← فائدہ مند کیڑے (لیڈی برڈ اور مکڑیاں) زیادہ پائے گئے، جو نقصان دہ کیڑوں کو کھاتے ہیں۔ اس لیے بغیر مٹی کا تجزیہ کروائے ہر قسم کی کھاد ڈالنا ضروری نہیں۔ اگر مٹی میں فاسفورس پہلے سے موجود ہو تو اسے چھوڑ کر آپ کیڑوں کا حملہ کم کر سکتے ہیں۔
5. پودے لگانے کا فاصلہ اور کھاد کا گہرا تعلق
صرف کھاد ہی نہیں، بلکہ پودوں کے درمیان فاصلہ بھی کیڑوں کے حملے کو متاثر کرتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ: ← جب پودے بہت قریب قریب لگائے جاتے ہیں تو بیماریاں جیسے دھان کا جھلساؤ (بلاسٹ) تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ← مناسب فاصلے پر لگائے گئے پودوں میں تنے کی سنڈی اور پھولوں کے ضیاع (فلوریٹ سٹرلٹی) کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نائٹروجن کی 55 کلوگرام فی ایکڑ اور پودوں کا مناسب فاصلہ (1 لاکھ 60 ہزار پودے فی ایکڑ) بہترین پیداوار دیتا ہے۔ اس سے زیادہ گھنا پودا لگانے سے بیماریاں بڑھ جاتی ہیں ۔
6. سبز کھاد: پرانی روایت، نئی تحقیق
پرانے وقتوں میں کسان دھان کی کاشت سے پہلے گہائی (وریاں) یا دیگر سبز کھاد والی فصلیں کاشت کر کے زمین میں ملا دیتے تھے۔ جدید تحقیق نے اس روایت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ چین میں ہونے والی تحقیق کے مطابق، جب گہائی (وریاں) کو دھان کے ساتھ کاشت کیا گیا تو: ← زمین میں فائدہ مند جرثومے (بیکٹیریا) بڑھ گئے۔ ← ان جرثوموں نے پودے کی قوت مدافعت بڑھا دی۔ ← اس سے تنے کی سنڈی، پتہ لپیٹ سنڈی، بھورا تیلہ جیسے کیڑوں کا حملہ نمایاں طور پر کم ہو گیا۔ ← پودے نے ایسے کیمیائی مادے (فلیوونائڈز اور الکلائیڈز) پیدا کیے جو کیڑوں کو بھگاتے ہیں ۔ یعنی سبز کھاد نہ صرف زمین کی زرخیزی بڑھاتی ہے بلکہ قدرتی طور پر کیڑوں سے بھی بچاتی ہے۔
7. زنک اور دیگر چھوٹے غذائی اجزاء
بڑے غذائی اجزاء (نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم) کے ساتھ ساتھ چھوٹے غذائی اجزاء بھی اہم ہیں۔ تحقیق کے مطابق، زنک کے استعمال سے: ← دھان کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ← دانے کا وزن اور معیار بہتر ہوتا ہے۔ ← پروٹین کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ زنک کی کمی سے پودے کمزور رہتے ہیں اور کیڑوں کے حملے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
8. ڈیجیٹل ٹولز: جدید دور میں کاشتکاری
آج کے دور میں موبائل فون اور ایپس بھی کسانوں کی مندرجہ ذیل مدد کر سکتی ہیں۔ ← کیڑوں کی صحیح پہچان کی۔ ← کھاد کی صحیح مقدار معلوم کی۔ ← سپرے کی درست پیمائش کی۔ نتیجتاً اخراجات میں 5-6 فیصد کمی آتی ہے اور پیداوار میں 10-15 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان میں بھی کسان ایسی ایپس اور محکمہ زراعت کی سفارشات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
9. حیاتیاتی تحفظ: ماحول دوست حل
کیمیائی سپرے کے بغیر بھی کیڑوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ← ٹرائیکوگراما ایک چھوٹا بھڑ ہے جو تنے کی سنڈی کے انڈوں کو تباہ کر دیتا ہے ۔ ← عالمی کمپنیوں نے پاکستان میں بہت سے نیے سپرے متعارف کروائے ہیں جو تنے کی سنڈی اور پتہ لپیٹ سنڈی کے خلاف مؤثر ہے اور روایتی دانے دار زہروں سے زیادہ ماحول دوست ہے ۔
10. فائدہ مند کیڑوں کو بڑھائیں، نقصان دہ کیڑوں کو گھٹائیں
ایک صحت مند کھیت وہ نہیں جس میں کیڑے نہ ہوں، بلکہ وہ ہے جس میں نقصان دہ اور فائدہ مند کیڑوں کا توازن قائم ہو۔ کھاد کا دانشمندانہ استعمال یہ توازن آپ کے حق میں کرتا ہے: ← تنے کی سنڈی کے لیے گھسنا مشکل، تیلہ کے لیے رس چوسنا کم فائدہ مند اور پتہ لپیٹ سنڈی کے لیے فصل کم پرکشش ہو جاتی ہے۔ ← مکڑیاں اور لیڈی برڈ جیسے فائدہ مند کیڑے اس توازن میں بھورا تیلہ اور سفید پشتی تیلہ کو قابو میں رکھتے ہیں۔
11. نائٹروجن کا سائنسدان نقطہ نظر: جسمانی دفاع کمزور ہوتا ہے
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ نائٹروجن صرف کیمیائی دفاع ہی نہیں بلکہ جسمانی دفاع کو بھی کمزور کرتی ہے۔ پودے کی پتیوں پر چھوٹے چھوٹے ابھار (ٹیوبرکل پیپیل) ہوتے ہیں جو کیڑوں کو روکتے ہیں۔ زیادہ نائٹروجن ڈالنے سے یہ ابھار کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پتیوں پر موجود مومی تہہ کی ساخت بھی بدل جاتی ہے، جس سے بھورا تیلہ آسانی سے پودے کو نقصان پہنچاتا ہے ۔
12. کسانوں کے لیے عملی مشورے
اگلی فصل کے لیے ان آسان باتوں کو یاد رکھیں: ← پتہ کریں کہ آپ کی مٹی میں کون سی غذائیں پہلے سے موجود ہیں۔ اگر فاسفورس کافی ہے تو اسے نہ ڈالیں، اس سے کیڑے بھی کم ہوں گے اور بچت بھی ہوگی۔ ← ساری یوریا ایک بار میں نہ ڈالیں۔ اسے دو یا تین بار ڈالیں (جیسے پیوند کاری پر، گھنٹے نکلتے وقت اور پھول آنے سے پہلے)۔ اس سے فصل اچانک بہت زیادہ سرسبز نہیں ہوگی اور کیڑے کم آئیں گے۔ ← پوٹاشیم کو کیڑوں سے بچاؤ کی اہم دوا سمجھیں۔ یہ تنے کی سنڈی کے خلاف تنے کو مضبوط اور تیلہ کے خلاف دفاع کو چالو رکھتا ہے۔ ← زیادہ گھنی فصل نہ لگائیں۔ اس سے ہوا اور دھوپ ملتی رہے گی اور بیماریاں کم پھیلیں گی۔ ← اگر ممکن ہو تو دھان سے پہلے گہائی (وریاں) کاشت کر کے زمین میں ملا دیں۔ اس سے زمین کی زرخیزی بڑھے گی اور کیڑے قدرتی طور پر کم ہوں گے۔ ← اگر کھیت کا کوئی حصہ زیادہ گہرا سبز نظر آئے تو وہاں فوراً تیلہ (پودے کی جڑ میں) اور مرجھائی گابھوں (تنے کی سنڈی کی علامت) کا معائنہ کریں۔ یہ سرسبز حصہ کیڑوں کا پہلا نشانہ بن سکتا ہے۔
یاد رکھیں، آپ کی کھاد دراصل ایک طاقتور پیغام ہے۔ اسے دانشمندی سے استعمال کر کے آپ کیڑوں کو صاف پیغام دے سکتے ہیں کہ “یہ کھیت تمہارے لیے نہیں ہے”۔ اس طرح آپ ایک ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جہاں آپ کی فصل پھلے پھولے اور حکمرانی وہاں کے فطری محافظ کیڑے کریں، نہ کہ نقصان دہ کیڑے مکوڑے۔ |
|