بجلی کے بل نہیں، عوام کے صبر کا امتحان
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
ملکِ پاکستان میں بجلی کے بل اب صرف ایک ماہانہ اخراجات کی پرچی نہیں رہے، بلکہ یہ غریب آدمی کے لیے خوف، ذہنی دباؤ اور مالی اذیت کی علامت بن چکے ہیں۔ ہر مہینے میٹر ریڈر کے آنے کا انتظار ایسے کیا جاتا ہے جیسے کوئی فیصلہ سنایا جانے والا ہو۔ اور جب بل ہاتھ میں آتا ہے تو کئی گھروں میں خاموشی چھا جاتی ہے — کیونکہ یہ بل صرف رقم نہیں، ایک اذیت ہے جو غریب کی زندگی پر چھا جاتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ صورتحال اور بھی سنگین ہو جاتی ہے۔ مئی، جون اور جولائی میں ایک متوسط گھر میں پنکھے، فریج، اور روشنی کا معمولی استعمال بھی یونٹس 200 سے اوپر لے جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ حد عبور ہوتی ہے، بل اچانک بڑھ کر کئی مہینوں تک زیادہ رہتا ہے، بعض اوقات چھ ماہ تک۔ گویا چند اضافی پنکھے چلانے یا گرمی میں معمولی استعمال کرنے کی سزا عوام کو مسلسل بھگتنی پڑتی ہے۔ یہ نہ صرف مالی بلکہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ لوگ پسینے میں پنکھے بند کر دیتے ہیں، بچے گرم کمروں میں پڑھتے ہیں، اور خاندان کے افراد اپنے بنیادی آرام کو قربان کرتے ہیں صرف اس خوف سے کہ کہیں بل بہت زیادہ نہ آ جائے۔ کیا یہ وہ ریاست ہے جس نے عوام کی حفاظت اور سہولت کو اولین ترجیح بنایا؟ اصل مسئلہ صرف یونٹ کی حد نہیں، بلکہ اس نظام کی کمزوری ہے جو عام صارف کو سزا دیتا ہے اور اصل ذمہ داروں کو نظر انداز کرتا ہے۔ آئی پی پیز، لائن لاسز، بجلی چوری، اور ناقص منصوبہ بندی کے مسائل موجود ہیں، لیکن ان کا بوجھ ہمیشہ ایماندار صارف پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ ایک شخص جو وقت پر بل ادا کرتا ہے، وہی سب سے زیادہ سزا کیوں بھگتتا ہے؟ یہ وقت ہے کہ پالیسی ساز عوام کی مشکلات کو سمجھیں اور اقدامات کریں: 200 یونٹ کی سخت حد ختم کی جائے یا اسے بڑھا کر کم از کم 400 یونٹ کیا جائے اضافی یونٹس پر پورا اسٹرکچر تبدیل کرنے کا نظام ختم کیا جائے گرمیوں میں خصوصی ریلیف پیکج متعارف کرایا جائے کم آمدنی والے طبقے کے لیے علیحدہ ٹیرف مقرر کیے جائیں دنیا کے کئی ممالک میں بجلی ایک بنیادی ضرورت کے طور پر سبسڈی کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے تاکہ عام آدمی سکون سے زندگی گزار سکے۔ لیکن یہاں صورتحال الٹ ہے۔ یہاں بجلی کا بل ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جو لوگوں کو نفسیاتی اور مالی طور پر متاثر کر رہا ہے۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام دشمن پالیسیوں سے وقتی ریونیو تو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر عوام کا اعتماد کھو دیا جائے تو اس کی قیمت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ آج اگر عوام بجلی کے بل پر چیخ رہے ہیں تو یہ صرف پیسوں کا مسئلہ نہیں، یہ احساسِ ناانصافی کا مسئلہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت ترجیحات بدلے، پالیسی میں شفافیت لائے اور عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لے۔ کیونکہ جب بنیادی ضروریات بھی بوجھ بن جائیں، تو خاموشی دیر تک قائم نہیں رہتی۔ آخر میں اربابِ اختیار سے ایک سوال: کیا 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے والا شہری مجرم ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اسے چھ ماہ کی سزا کیوں؟ یہ صرف بجلی کا معاملہ نہیں، یہ انصاف اور انسانی وقار کا معاملہ ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ عوام کے صبر کا احترام کرے اور ان کے لیے سہولت پیدا کرے۔ |
|