والدین زندہ ہیں مگر اولاد یتیم ہے

یہ تحریر اس تلخ حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ یتیمی صرف والدین کے انتقال کا نام نہیں، بلکہ والدین کی موجودگی کے باوجود محبت، توجہ اور رہنمائی کی کمی بھی اولاد کو جذباتی طور پر یتیم بنا دیتی ہے۔ مصروف زندگی، موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال اور معاشرتی دباؤ نے خاندانی رشتوں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ بچے مادی سہولیات تو پا لیتے ہیں، مگر انہیں توجہ، سننے والا کان اور جذباتی سہارا نہیں مل پاتا، جس سے وہ تنہائی اور دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تحریر اس بات پر زور دیتی ہے کہ جسمانی موجودگی کافی نہیں، جذباتی قربت ضروری ہے۔ والدین اگر روزمرہ کی مصروفیات میں سے کچھ وقت اولاد کے لیے مخصوص کریں، ان کی بات سنیں، محبت اور حوصلہ افزائی کا اظہار کریں تو یہ خلا پُر ہو سکتا ہے۔ پیغام واضح ہے کہ مضبوط مستقبل کے لیے آج کے رشتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، ورنہ خاموش یتیمی نسلوں میں فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔
یہ جملہ بظاہر سخت محسوس ہوتا ہے، مگر اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو اس کی تلخی دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ یتیمی ہمیشہ ماں باپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کا نام نہیں ہوتی، بعض اوقات یتیمی اُس خلا کا نام ہے جو والدین کی موجودگی کے باوجود اولاد کے دل میں جنم لے لیتا ہے۔ جب گھر میں سب موجود ہوں، مگر محبت، توجہ اور رہنمائی غائب ہو جائے تو اولاد زندہ والدین کے ہوتے ہوئے بھی یتیم ہو جاتی ہے۔

آج کی زندگی تیز رفتار ہو چکی ہے۔ صبح کی دوڑ، دن بھر کی مصروفیات، شام کی تھکن اور رات کی بے حسی — یہ ہمارا معمول بن چکا ہے۔ باپ رزق کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے تو واپسی پر اس کے پاس جسمانی طاقت تو ہوتی ہے، مگر جذباتی توانائی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ ماں دن بھر گھریلو ذمہ داریوں یا ملازمت کی مشقت کے بعد تھکن سے نڈھال ہو جاتی ہے۔ بچے سارا دن تعلیمی اداروں اور پھر ڈیجیٹل دنیا میں وقت گزارتے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد، ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے سے قاصر ہیں۔

موبائل فون نے زندگی آسان ضرور بنائی، مگر رشتوں کو مشکل بنا دیا۔ پہلے شام ہوتے ہی گھر کے صحن یا کمرے میں بیٹھک لگتی تھی۔ دن بھر کے قصے سنائے جاتے، مسائل پر مشورہ ہوتا، ہنسی مذاق سے فضا گونج اٹھتی۔ آج شام کا منظر بدل چکا ہے۔ ہر فرد کے ہاتھ میں ایک سکرین ہے، ہر آنکھ کسی اور دنیا میں مصروف ہے۔ بات چیت مختصر ہو گئی ہے، مکالمہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ موبائل برا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے اپنے رشتوں پر حاوی ہونے دیا ہے؟

اولاد کو صرف اچھے کپڑے، معیاری تعلیم اور آرام دہ گھر ہی نہیں چاہیے ہوتا، اسے توجہ بھی چاہیے ہوتی ہے۔ اسے چاہیے کہ اس کی بات سنی جائے، اس کے سوالوں کو اہمیت دی جائے، اس کے خوف اور الجھنوں کو سمجھا جائے۔ جب بچہ اپنے والدین سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے، جب وہ اپنی پریشانی دوستوں یا انجان لوگوں سے شیئر کرے، جب وہ رہنمائی کے لیے گھر کے بجائے انٹرنیٹ کا سہارا لے — تو یہ لمحہ تشویش کا ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جذباتی یتیمی جنم لیتی ہے۔

پہلے باپ صرف کفیل نہیں ہوتا تھا، رہبر بھی ہوتا تھا۔ اس کے تجربات اولاد کے لیے چراغِ راہ بنتے تھے۔ ماں صرف گھر سنبھالنے والی نہیں، دل سنبھالنے والی بھی ہوتی تھی۔ اس کی گود میں سکون تھا، اس کی نصیحت میں محبت تھی، اس کی ڈانٹ میں خیرخواہی تھی۔ آج کردار تو وہی ہیں، مگر رابطہ کمزور پڑ گیا ہے۔ وقت کی کمی نے جذبات کی ترسیل روک دی ہے۔

خاندانی فاصلے صرف جغرافیائی نہیں ہوتے، دلوں کے فاصلے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی اگر بات چیت رسمی ہو جائے، اگر مسکراہٹ مصنوعی ہو جائے، اگر ایک دوسرے کے لیے وقت بوجھ لگنے لگے — تو سمجھ لیجیے کہ رشتوں کی بنیاد ہل رہی ہے۔ بچے خاموش ہو جاتے ہیں، مگر ان کی خاموشی چیخ رہی ہوتی ہے۔ وہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر اندر سے کمزور ہو رہے ہوتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف والدین کا قصور نہیں، یہ پورے معاشرے کا عکس ہے۔ ہم نے کامیابی کو دولت سے جوڑ دیا، خوشی کو آسائش سے، اور ترقی کو مصروفیت سے۔ ہم سمجھ بیٹھے کہ بہتر مستقبل کے لیے آج کی قربانی ضروری ہے، مگر ہم یہ بھول گئے کہ اگر آج کا رشتہ کمزور ہو گیا تو کل کی بنیاد کیسے مضبوط ہوگی؟ اولاد کو محفوظ مستقبل دینے کی خواہش میں ہم نے ان کا محفوظ حال چھین لیا۔

تعلیم کے میدان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ بچوں پر نمبروں کا دباؤ ہے، مقابلے کی دوڑ ہے، توقعات کا بوجھ ہے۔ اگر ایسے میں انہیں گھر سے سہارا نہ ملے، حوصلہ افزائی نہ ملے، تو وہ ٹوٹنے لگتے ہیں۔ کئی نوجوان ذہنی دباؤ، تنہائی اور احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ ہنستے ہیں، مگر دل اداس ہوتا ہے۔ وہ کامیاب نظر آتے ہیں، مگر اندر سے خالی ہوتے ہیں۔ یہ خالی پن اس وقت بڑھتا ہے جب انہیں محسوس ہو کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔

والدین کا زندہ ہونا یقیناً ایک نعمت ہے، مگر اس نعمت کی قدر تب ہے جب اس میں قربت شامل ہو۔ جسمانی موجودگی کافی نہیں، جذباتی موجودگی ضروری ہے۔ اگر باپ روز گھر آتا ہے مگر بچوں کے ساتھ چند لمحے بھی خلوص سے نہیں گزارتا، اگر ماں ساتھ رہتی ہے مگر اولاد کی کیفیت کو محسوس نہیں کرتی — تو یہ خلا بڑھتا چلا جاتا ہے۔

حل کیا ہے؟ حل مشکل نہیں، مگر ارادہ چاہیے۔ دن کا کچھ وقت صرف خاندان کے نام کر دیا جائے۔ کھانے کی میز پر موبائل ممنوع قرار دے دیا جائے۔ ہفتے میں ایک دن سب مل کر بیٹھیں، بات کریں، ہنسیں، یادیں تازہ کریں۔ بچوں کی بات سنیں، ان کے سوالوں کا جواب دیں، انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اہم ہیں۔ محبت کا اظہار کریں، تعریف کریں، حوصلہ بڑھائیں۔ کبھی کبھی صرف سر پر ہاتھ رکھ دینا بھی معجزہ کر دیتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اولاد صرف جسمانی پرورش سے پروان نہیں چڑھتی، اسے جذباتی غذا بھی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط کردار کے مالک بنیں، بااعتماد ہوں، اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کر سکیں، تو ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ان کی رہنمائی صرف نصیحت سے نہیں، وقت دینے سے ہوگی۔

آج اگر ہم نے اس خاموش یتیمی کو نہ پہچانا تو کل یہی بچے بڑے ہو کر ہم سے دور ہو جائیں گے۔ پھر ہم شکایت کریں گے کہ اولاد وقت نہیں دیتی، حالانکہ وقت نہ دینے کی روایت شاید ہم نے ہی ڈالی ہوگی۔ رشتے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے، آہستہ آہستہ کمزور ہوتے ہیں۔ اسی طرح انہیں مضبوط بھی آہستہ آہستہ کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے: کیا ہم اپنے بچوں کو واقعی وہ سب دے رہے ہیں جس کی انہیں ضرورت ہے، یا صرف وہ دے رہے ہیں جو ہمیں آسان لگتا ہے؟ اگر والدین زندہ ہیں تو اولاد کو یتیم محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ محبت کو زندہ رکھنا ہوگا، قربت کو بحال کرنا ہوگا، اور وقت کی اس دوڑ میں رشتوں کو پیچھے نہیں چھوڑنا ہوگا۔ کیونکہ اگر گھر میں محبت زندہ رہے تو اولاد کبھی یتیم نہیں ہوتی، اور اگر محبت مر جائے تو زندگی کی سب سہولتیں بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتیں۔ 
Sardar Muhammad Shoaib Saifi
About the Author: Sardar Muhammad Shoaib Saifi Read More Articles by Sardar Muhammad Shoaib Saifi: 25 Articles with 4985 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.