قبیلہ ” سلطان خیل “ یوسفزئی کی تاریخ

پشتون قبائل کی ایک تاریخ ہے جو بہادری ، شجاعت اور انسانیت کی خدمت سے بھری ہوئی ہے ، ان قبائل میں سلطان خیل کی اپنی ایک شناخت ہے جس سے وابستہ خاندانوں نے ہر دور میں انفرادیت قائم رکھی ہے اور آج بھی ان کی اولادیں مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں ۔
فضل خالق خان(سوات)
سوات کی تاریخ صرف قدرتی حسن یا ریاستی نظم تک محدود نہیں بلکہ اس خطے کی اصل شناخت یہاں آباد ہونے والے قبائل, ان کے رسم و رواج، زمین کی تقسیم اور خاندانی تسلسل سے جڑی ہوئی ہے۔ یوسفزئی پشتونوں کی آمد نے سوات کے سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو ایک نیا رخ دیا۔ انہی یوسفزئی قبائل کی ایک معتبر شاخ نیکپی خیل، شامزئی اور اس کے اندر سلطان خیل کا کردار سوات کی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔تاریخی حوالوں کے مطابق پندرھویں اور سولہویں صدی عیسوی میں یوسفزئی قبائل نے افغانستان کے علاقوں ننگرہار، لغمان اور کنڑ سے ہجرت کی۔ اس وقت سوات میں سواتی، دلازاک اور دیگر مقامی قبائل آباد تھے۔ طویل معرکوں اور معاہدوں کے بعد یوسفزئیوں نے سوات پر غلبہ حاصل کیا اور یہاں ایک منظم قبائلی معاشرہ قائم کیا۔
یوسفزئیوں کی بڑی شاخوں میں یوں تو بہت سار شاخیں شامل ہیں جس میں نیکپی خیل اور شامزئی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ شامزئی کو اس وقت سوات کے مختلف علاقوں خصوصاً تحصیل مٹہ،کبل، خوازہ خیلہ اور ملحقہ علاقوں میں آباد کیا گیا۔ یہ آبادکاری محض رہائش تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کو زمین، پانی اور چراگاہوں کی باقاعدہ تقسیم کے ذریعے ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کی گئی۔سلطان خیل، علی خیل کی ایک نمایاں شاخ ہے جو اپنے جد امجد سلطان کی نسبت سے جانی جاتی ہے۔نیکپی خیل، شامزئی، یوسفزئی (اسپزئی) پشتون قبیلے کی ایک معروف شاخ ہے جس کا سلسلہ کچھ یوں بنتا ہے نیکپی خیل، قاضی خیل ، علی خیل، سلطان خیل یعنی سلطان خیل، علی خیل کی اولاد ہے، علی خیل، قاضی خیل سے ہیں، قاضی خیل، نیکپی خیل اور شامزئی کی شاخ ہے اور شامزئی آگے چل کر یوسفزئی سے جا ملتے ہیں اور مشہور عالم دین مفتی نظام الدین شامزئی شہید کا تعلق بھی شامزئی دلازاک قبیلے سے تھا ،مفتی نظام الدین شامزئی پاکستان کے نامور علمائے دیوبند میں سے ہیں جنھیں 30 مئی 2004ء کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔آپ جولائی 1952ءکو سوات کی دلازاک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ مظہرالعلوم مینگورہ ضلع سوات اور راوالپنڈی کے مدارس میں حاصل کی تھی اورمزید اعلی تعلیم کے لئے آپ جامعہ فاروقیہ تشریف لے گئے اس وقت آپ تیسرے درجہ میں تھے کہ آپ کے والد حبیب الرحمٰن شامزئی وفات پا گئے، یوں آپ کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری آپ کے بڑے بھائی ڈاکٹر عزیزالدین شامزئی نے اٹھائی۔ آپ کے تعلیمی مراحل کی تکمیل جامعہ فاروقیہ کراچی سے ہوئی تھی۔
اس قبیلے کا قریب ترین جد امجد سلطان (جن کے نام پر سلطان خیل مشہور ہوئے) قبائلی جد امجد ”نیکپی “اور اعلیٰ قبائلی نسبت یوسفزئی سے ہے۔ شامزئی، یوسفزئی کی وہ شاخ ہے جو سوات، بونیر، ملاکنڈ، دیر اور اطراف میں آباد رہی، اس خیل کے اندر کئی ذیلی خیل (clans-Sub) نکلے۔ نیکپی خیل، شامزئی سے جو شاخ آگے چلتی ہے وہ قاضی خیل ہے، قاضی خیل، نیکپی خیل کے بیٹوں/اولاد میں سے ایک اہم خیل ہے۔ تاریخی طور پر قاضی خیل علماء، قاضیوں اور معززین کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔قاضی خیل سے آگے جو سلسلہ چلتا ہے وہ علی خیل ہے، علی خیل، قاضی خیل کی اولاد میں سے ہیں اور پھر علی خیل کے اندر مزید خاندان اور خیل بنے یہی وہ مقام ہے جہاں سے سلطان خیل براہ راست نکلتے ہیں، سلطان خیل کی اصل شناخت یوں بنتی ہے کہ سلطان اس قبیلے کا جد امجد ہیں اورانہی کے نام پر ان کی اولاد سلطان خیل کہلائی۔ دراصل سلطان خیل، علی خیل کی ایک شاخ ہے۔سلطان خیل کو علی خیل کے حصے میں آنے والی زمینوں میں مستقل حصہ ملا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خاندان نہ صرف زراعت بلکہ تعلیم، تجارت اور سماجی خدمات میں بھی آگے بڑھا۔
ریاست سوات کے قیام، خصوصاً میاں گل عبد الودود (بادشاہ صاحب) اور بعد ازاں والی سوات میاں گل جہانزیب کے دور میں ویش سسٹم کو ختم کر دیا گیا۔ زمینیں مستقل ملکیت میں تبدیل ہوئیں، رجسٹری اور فرد کا نظام آیا، اور یوں سلطان خیل سمیت تمام قبائل کی آبادکاری مستقل بنیادوں پر طے پا گئی۔سلطان خیل خاندان کی موجودہ نسل سوات میں علمی، معاشی اور صحافتی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ ان میں سے ایک اہم خاندان کی خدمات اہمیت کی حامل ہیں، اس خاندان کا تعارف کچھ یوں ہے کہ اس کا سربراہ محمد روشن جن کے والد کا نام عبدالحلیم تھا ان باوقار شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برصغیر کی معاشی، سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے قریب سے دیکھا بلکہ اپنی محنت، دیانت اور بصیرت سے ان حالات میں ایک باعزت مقام بھی بنایا۔ وہ ایک مدبر کاروباری شخصیت تھے جن کی زندگی تجارت، ہجرت اور مستقل جدوجہد سے عبارت ہے۔ پاک و ہند کی تقسیم سے قبل محمد روشن کا تعلق برصغیر کے اُن بڑے تجارتی مراکز سے رہا جو اس وقت پورے خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے شہر دہلی، بمبئی (موجودہ ممبئی) اور کلکتہ (موجودہ کولکاتا) میں قیام کے دوران خشک چائے کے کاروبار سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دور میں چائے کی تجارت نہایت منظم، محنت طلب اور اعتماد پر مبنی کاروبار سمجھی جاتی تھی جس میں صرف وہی افراد کامیاب ہوتے تھے جو دیانت، معاملہ فہمی اور مستقل مزاجی رکھتے ہوں۔
بعد ازاں انہوں نے وقت کی ضرورت اور منڈی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے کپڑے کے کاروبار کی طرف بھی توجہ دی۔ 1947ءکی تقسیم ہند‘ برصغیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس دور کی سیاسی بے یقینی، فسادات اور معاشی انتشار نے لاکھوں لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ محمد روشن بھی انہی حالات کے تحت تقسیم کے بعد ہندوستان کے بڑے شہروں میں اچھا کاروبار ہونے کے باوجود پاکستان کی طرف ہجرت کر آئے۔ یہ ہجرت محض جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک پورے طرززندگی، کاروباری ڈھانچے اور سماجی ماحول کی تبدیلی تھی۔ پاکستان آمد کے بعد محمد روشن نے کچھ عرصہ گوگدرہ گاوں میں قیام کیا۔ یہ دور نئے حالات سے ہم آہنگ ہونے، خاندان کو سنبھالنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا تھا۔ محدود وسائل کے باوجود ان کا حوصلہ اور محنت کم نہ ہوئی بلکہ یہی دور‘ ان کی ثابت قدمی اور عملی دانائی کا مظہر تھا بعد ازاں انہوں نے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے علاقے امانکوٹ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہی جگہ ان کی زندگی کا مرکز بنی۔ انہوں نے اپنی بقیہ پوری زندگی یہیں گزاری۔ مینگورہ میں قیام کے دوران انہوں نے کاروباری وقار کو برقرار رکھا اور مقامی معاشرت میں ایک معزز مقام حاصل کیا۔
محمد روشن نے سادگی، دیانت اور محنت کو زندگی کا اصول بنائے رکھا مینگورہ شہر کے بغل میں گاوں امانکوٹ میں ان کا گھر صرف رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک ایسے خاندان کی بنیاد بنا جہاں تعلیم، اخلاق اور محنت کو ترجیح دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد نے بعد کے ادوار میں تعلیم، تجارت اور صحافت جیسے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ محمد روشن ایک خاموش مزاج مگر مضبوط کردار کے حامل انسان تھے۔ وہ کم گو مگر دوراندیش، سادہ مگر اصول پسند، اور کاروبار میں معاملہ فہم تھے۔ ان کی اصل وراثت دولت نہیں بلکہ محنت کی عادت، دیانت داری، خودداری اور مثبت سوچ تھی جو آج بھی ان کی اولاد اور خاندان میں جھلکتی ہے۔
محمد روشن اپنے خاندان کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے تین صاحبزادے تھے، پروفیسر فضل واحد، وہ شعبہ کیمسٹری سے وابستہ تھے، بطور پروفیسر مختلف کالجوں ضلع دیر، ایبٹ آباد، بکوٹ آزاد کشمیر، چکیسر ضلع شانگلہ کالج ، سوات کے مشہور جہانزیب کالج اور آخر میں آگرہ کالج تھانہ میں بطور کیمیا کے پروفیسر اور کالج پرنسپل علمی خدمات انجام دیں۔ پروفیسر فضل واحد کے چار بیٹے ہیں فضل معبود جو اپنے والد کی طرح میدان عمل میں موجود ہے اوراس وقت محکمہ تعلیم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے ہیں، فضل ودود (مرحوم)وفات پاچکے ہیں جبکہ فضل اکبر اور فضل قادر مختلف شعبوں میں زندگی کی گاڑی رواں رکھے ہوئے ہیں چار بیٹوں کے علاوہ پروفیسر فضل واحد مرحوم کی چھ بیٹیاں بھی ہیں۔
محمد روشن کے منجھلے بیٹے کا نام فضل غنی تھا جو معروف کاروباری شخصیت تھے، فضل غنی نے بھی والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کاروباری شعبے کو سنبھالے رکھا اور مختلف ممالک کی سیر کرتے ہوئے زندگی کے آخری ایام میں چین اور پاکستان کے درمیان کاروباری سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، مرحوم فضل غنی کے سات بیٹے تھے صلاح الدین، احسان الدین، محی الدین، رحمان الدین، عرفان الدین، شہاب الدین اور نظام الدین جس کی وجہ سے ان کے چچا فضل خالق خان انہیں پیار سے“ دین فیملی“ کہہ کر پکارتے ہیں،سات بیٹوں کے علاوہ مرحوم فضل غنی کے تین بیٹیاں بھی ہیں ۔
محمد روشن کے تیسرے اور سب سے چھوٹے بیٹے کا نام فضل خالق خان ہے جواس وقت شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں،انہیں ملک اور بیرون ممالک کے مختلف نیوز اداروں سے منسلک رہنے کا اعزاز حاصل ہے اور اس وقت ملک کے معروف اخبار "نوائے وقت" فیملی میگزین کے سوات سے نمائندہ ہیں اس کے علاوہ وہ ریڈیو پختونخوا سے بھی منسلک ہے اور کرنٹ افیئر کے ایک پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں ۔ فضل خالق خان شعبہ صحافت میں ایک نام رکھتے ہیں اور اس کی سوات کی تاریخ ،سیاحت اور سیاسی امور پر لکھی تحریریں ملک وبیرون ممالک میں بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں، موصوف کو اس میدان میں اہم ملکی و غیر ملکی شخصیات سے اعزازات لینے کا شرف بھی حاصل ہے جو اس خاندان کا طرہ امتیاز ہے۔
فضل خالق خان کے چار بیٹے عبداللہ خان، فضل ربی خان، فضل ہادی خان اور ثناءاللہ خان ہیں اس کے علاوہ دو بیٹیاں بھی ہیں۔
یہ خاندان اس بات کی زندہ مثال ہے کہ سلطان خیل محض ایک قبائلی شناخت نہیں بلکہ تعلیم، تجارت اور صحافت میں فعال کردار ادا کرنے والا ایک متحرک خاندان ہے جو اپنے اپنے شعبہ جات میں قابل فخر کارنامے انجام دے رہے ہیں خاندان کے خانوادے کے طورپر یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ ان کی آنے والی نسل بھی اپنے اسلاف کی طرح ملک پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنے تن من دھن سے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ۔
 
Fazal khaliq khan
About the Author: Fazal khaliq khan Read More Articles by Fazal khaliq khan: 167 Articles with 141341 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.