ذائقے کی قربانی

ذائقے کی قربانی

​ہم عورت کی بے شمار قربانیوں کا ہمیشہ ذکر کرتے اور سنتے آرہے ہیں۔ عورت ایک بیٹی کی صورت میں، ایک بہن کی صورت میں، ایک بیوی کی صورت میں اور ایک ماں کی صورت میں بے شمار قربانیاں دیتی آرہی ہے۔ یہ صنفِ نازک کبھی اپنی پسند کی قربانی دیتی ہے تو کبھی اپنی انا کی۔ کبھی اپنی خواہشات قربان کر دیتی ہے تو کبھی اپنی ضروریات۔ ایک ماں کی صورت میں یہ کبھی اپنی نیندیں قربان کرتی ہے تو کبھی اپنی صحت۔
​ان سب اور ایسی بیش بہا قربانیوں کے علاوہ ایک قربانی جو عورت سال ہا سال سے دیتی آرہی ہے وہ ہے "ذائقے کی قربانی"۔
​ایک لڑکی جب اپنے ماں باپ کے گھر سے رخصت ہو کر اپنے شوہر کے گھر جاتی ہے تو وہاں صرف اپنی یادیں، اپنا بچپن ہی نہیں بلکہ تمام رشتوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پسند کا ذائقہ بھی چھوڑ آتی ہے۔
​سسرال میں بنایا ہوا پہلا میٹھا ہی اکثر عورت کا آخری پسندیدہ ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسے صبح شام بتایا جاتا ہے کہ اس گھر میں کھانا کس ذائقے اور کس طریقے سے بنائے جاتے ہیں۔ اور پھر وہ سب کی پسند اور ضرورت کے مطابق کھانا بنانا شروع کر دیتی ہے۔ کھانا گھی میں پکےگا یا آئل میں، نمک کم یا زیادہ، کون سا قسم کا گوشت پسند کرتے ہیں اور کون سا گوشت پکانا سخت ممنون ہے۔ روٹی کس سائز کی ہوگی، روٹی کتنی موٹی یا باریک ہوگی، چاول ہفتے میں کتنی دفعہ بنانے ہیں، ناشتے میں ڈبل روٹی کھانے کی اجازت ہے یا نہیں۔
​کچی ہی عمر میں لڑکی بالکل سسرال والوں کی مرضی کے مطابق کھانے بنانے لگ جاتی ہے۔ اور سب اس کا بنایا ہوا کھانا شوق سے کھاتے ہیں۔ لیکن کیا وہ نئی نویلی دلہن بھی اتنے ہی شوق سے اپنا بنایا ہوا کھانا کھاتی ہے؟ یا پھر وہ کھانا اس کی عادت میں شامل ہو جاتا ہے؟ اگر کبھی وہ اس کھانے کے بجائے کچھ اپنی پسند کا باہر سے کھانا چاہے تو وہ بھی ایک بغاوت کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ شوہر یا تو چھپ کر باہر کا کھانا مہیا کرتا ہے یا پھر سب گھر والوں کے ڈر سے لانے سے انکار کر دیتا ہے تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔
​لڑکی جب کبھی کبھار اپنے میکے جا کر اپنی پسند کا کھانا کھاتی ہے تو اسے اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا پہلے سے بھی کئی زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اکثر وہ اپنے میکے آنے سے پہلے اپنی ماں کو کھانے کی فرمائش بتاتی ہے۔
​زندگی کے اگلے مرحلے میں جب ایک عورت کے بچے کھانا کھانے کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کی پسند کے کھانے بھی ساتھ ساتھ بنانے لگ جاتی ہے۔ اگر گھر کے کھانے میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو وہ بچوں کے لیے آتی ہے۔ اور گھر میں اب بچوں کی فرمائش کو فوقیت دی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ شوہر کی بھی۔
​ایک سوال جو اکثر بیویاں اپنے شوہر سے یا ماں اپنے بچوں سے پوچھتی ہے کہ "آج کیا بناؤں کھانے میں ؟ جواب آتا ہے "جو مرضی پکا لیں"۔ لیکن یہ حقیقت نہیں ہوتی۔ وہ کبھی بھی جو مرضی نہیں پکا سکتی۔ اگر کبھی وہ اپنی مرضی سے کچھ ایسا پکائے جو اس کے شوہر اور بچوں سے زیادہ اسے پسند ہو تو گھر والے یا تو کھانا شوق سے نہیں کھاتے یا باہر سے منگوا لیتے ہیں۔ اس وجہ سے عورت اس جواب کے باوجود مرضی نہیں بنا سکتی۔ وہ صرف ایسے کھانے ہی بناتی ہے جو گھر والے شوق سے کھائیں کیونکہ وہ تو گزارہ کرنے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے۔
​ہم میں سے بیشتر لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری والدہ کا پسندیدہ کھانا کون سا ہے؟ ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ ہماری والدہ کے ہاتھ کا سب سے ذائقہ دار کھانا کون سا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری والدہ کا پسندیدہ ریسٹورنٹ کون سا ہے کیونکہ ریسٹورنٹ بھی بچوں کی پسند سے ہی چنا جاتا ہے۔
​ذائقے کی قربانی سب سے طویل ذائقے کی قربانی ہے، جو عورت شادی کے بعد دیتی ہے اور تمام عمر دیتی رہتی ہے۔ گھر کا کھانا گھر والوں کی پسند کو مدِ نظر رکھ کر، دعوت کے کھانے مہمانوں کی پسند کو مدِ نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ بس بنانے والی خود کی مرضی کو مدِ نظر نہیں رکھ پاتی۔ لیکن اس قربانی کا صلہ اسے اپنے بچے اور شوہر کے خوش ہو کر کھانے میں ملتا ہے اور وہ فخر محسوس کرتی ہے جب بچے اور شوہر اس کے بنائے ہوئے کھانوں کی تعریف کرتے ہیں۔ اس قربانی کا یہی صلہ ہے۔ 
Naira Usman
About the Author: Naira Usman Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.