پگھلتی برف اور بڑھتے ہوئے خطرات
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
پگھلتی برف اور بڑھتے ہوئے خطرات تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
قدرتی نظام میں بعض عناصر ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت بظاہر نظر نہیں آتی مگر ان کے بغیر زمین پر زندگی کا توازن برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ گلیشیئرز بھی انہی میں شامل ہیں، جو نہ صرف پانی کے بڑے ذخائر ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کے استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال گلیشیئرز کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کو اس تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کیا جا سکے جو پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
گلیشیئرز کو قدرتی "واٹر ٹاورز" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کے تقریباً 70 فیصد میٹھے پانی کو اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ ان سے نکلنے والا پانی دریاؤں، جنگلات اور زرعی زمینوں کو زندگی بخشتا ہے اور کروڑوں انسانوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔اس کے علاوہ گلیشیئرز سمندری سطح کو متوازن رکھنے اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تحفظ درحقیقت انسانی بقا سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ حالیہ برسوں کے اعداد و شمار اس خطرے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں گلیشیئرز کے حجم میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے اور یہ عمل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکا ہے۔1975 سے اب تک دنیا بھر میں گلیشیئرز سے 9 ہزار ارب ٹن سے زائد برف پگھل چکی ہے، جبکہ سن 2000 کے بعد ہر سال اوسطاً سینکڑوں ارب ٹن برف ختم ہو رہی ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی معاشروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
یورپ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں چند ہی برسوں میں گلیشیئرز کے بڑے حصے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ قطب جنوبی میں ہونے والی حالیہ تحقیقات نے گلیشیئرز کے تیزی سے ٹوٹنے کے عمل کو مزید واضح کیا ہے۔
تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ ،گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر ایک سالہ مہم مکمل کی گئی جس کے بعد آئندہ دہائی کو گلیشیئرز اور برفانی نظام کے سائنسی مطالعے کے لیے وقف کیا گیا ہے تاکہ تحقیق، آگاہی اور عملی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس عمل میں دنیا بھر کے سینکڑوں اداروں نے حصہ لیا اور گلیشیئرز کے تحفظ کو عالمی پالیسیوں میں ایک اہم مقام دلانے کی کوشش کی گئی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ محض آگاہی تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کو فروغ دیا جائے۔
دنیا کے دیگر حصوں کی طرح چین میں بھی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کو ایک سنجیدہ چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور برفانی نظام کے تحفظ کو ایک اہم ترجیح بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف جدید اور تجرباتی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، جن میں گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے کے لیے تھرمل کمبل کا استعمال اور مصنوعی برف بنانے کی تکنیکیں شامل ہیں۔
یہ اقدامات عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں سے ہم آہنگ ہیں، جن کے تحت گلیشیئرز کے تحفظ کو ایک عالمی ترجیح کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس حوالے سے طویل المدتی سائنسی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
چین نے گلیشیئرز کے تحفظ میں بین الاقوامی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے۔ ہمالیائی خطے میں نیپال کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے تحت گلیشیئرز کی نگرانی کے لیے متعدد اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں برف کی موٹائی، رقبے اور درجہ حرارت سے متعلق اہم معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ان منصوبوں کے ذریعے جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور نگرانی کے آلات فراہم کیے گئے ہیں، جس سے متعلقہ ممالک کی تحقیقاتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گلیشیئرز کے بارے میں بہتر سائنسی سمجھ حاصل ہو رہی ہے۔
اس حقیقت کا ادراک لازم ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کے اثرات براہ راست انسانی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔ سمندری سطح میں اضافہ اسی عمل کا نتیجہ ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔خصوصاً ہمالیہ جیسے خطے، جنہیں دنیا کا "تیسرا قطب" کہا جاتا ہے، اربوں انسانوں کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اگر یہاں کے گلیشیئرز تیزی سے ختم ہوتے رہے تو پانی کی فراہمی، زراعت اور توانائی کے نظام شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے مکمل پگھلاؤ کو روکنا ممکن نہیں، لیکن اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے سائنسی نگرانی، پیشگی انتباہی نظام اور بہتر منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔حکومتوں اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیح دیں اور ایسے نظام قائم کریں جو ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹنے میں مدد فراہم کریں۔
وسیع تناظر میں ،گلیشیئرز کا تحفظ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔ چین سمیت مختلف ممالک کی کوششیں اس سمت میں اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مسلسل تعاون اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور متوازن ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ |
|