چین کا تعلیمی نظام: وسعت، معیار اور مستقبل کی سمت

چین کا تعلیمی نظام: وسعت، معیار اور مستقبل کی سمت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ مضبوط تعلیمی نظام نہ صرف ہنر مند افرادی قوت تیار کرتا ہے بلکہ سماجی استحکام، اقتصادی ترقی اور قومی خود انحصاری کو بھی یقینی بناتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتے ہیں۔

چین نے بھی گزشتہ دہائیوں میں تعلیم کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، اور اب وہ دنیا کے سب سے بڑے اور معیاری تعلیمی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ چین نے تعلیم کو عام، قابلِ رسائی اور معیاری بنانے کے لیے مسلسل اور منظم کوششیں کی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین اس وقت ایک وسیع اور منظم تعلیمی ڈھانچے کا حامل ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں 28 کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ 1 کروڑ 87 لاکھ اساتذہ اس نظام کا حصہ ہیں۔یہ اعداد و شمار نہ صرف اس نظام کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیم کو قومی ترقی کا بنیادی ستون بنایا گیا ہے۔

چین نے ابتدائی اور بنیادی تعلیم کے میدان میں خاصی ترقی کی ہے۔ پری اسکول تعلیم میں داخلے کی شرح 92.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو عالمی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ایک سالہ مفت پری اسکول تعلیم سے لاکھوں بچوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

لازمی تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک کے تمام اضلاع میں بنیادی تعلیمی توازن حاصل کیا جا چکا ہے جبکہ سینکڑوں اضلاع میں اعلیٰ معیار کی تعلیم کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
اسی طرح ہائی اسکول سطح پر داخلے کی شرح بڑھ کر 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور نئے تعلیمی اداروں کی تعمیر سے لاکھوں طلبہ کے لیے مزید مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔

چین نے تعلیم کے میدان میں مساوات کو بھی خاص اہمیت دی ہے۔ دیہی علاقوں، تارک وطن خاندانوں کے بچوں اور خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔آج 97 فیصد سے زائد بچے اپنے والدین کے ساتھ شہروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ معذور بچوں کی تعلیم میں شمولیت کی شرح بھی اسی سطح پر برقرار ہے۔مزید برآں، قومی مالی معاونت کے نظام کے تحت ہر سال تقریباً 15 کروڑ طلبہ کو مختلف تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم کو ہر طبقے تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بھی چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ افراد کو اعلیٰ تعلیم فراہم کی گئی ہے، جبکہ مجموعی داخلہ شرح بڑھ کر 60 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔نئے تعلیمی اداروں کے قیام اور موجودہ اداروں کی توسیع کے ذریعے لاکھوں نئے طلبہ کے لیے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلیم کو بھی فروغ دیا گیا ہے تاکہ عملی مہارتوں پر مبنی افرادی قوت تیار کی جا سکے۔بین الاقوامی تعاون بھی اس شعبے کا اہم حصہ بن چکا ہے، جہاں سینکڑوں مشترکہ تعلیمی پروگرامز کے ذریعے عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

چینی طلبہ کی کارکردگی بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں رہی ہے، خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ شنگھائی میں بین الاقوامی سٹیم نظام تعلیم کے ادارے کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ چین کی تعلیمی کامیابیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ چین نے نہ صرف تعلیم کو عام کیا ہے بلکہ اس کے معیار کو بھی مسلسل بہتر بنایا ہے۔

چین مستقبل میں اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس میں تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم، دیہی اور پسماندہ علاقوں میں سہولیات کی بہتری اور اساتذہ کی تربیت جیسے پہلو شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، طلبہ کی فلاح اور محفوظ ماحول کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ تعلیم نہ صرف معیاری ہو بلکہ ایک مثبت اور محفوظ تجربہ بھی فراہم کرے۔

کہا جا سکتا ہے کہ چین کا تعلیمی نظام اس بات کی مثال ہے کہ مضبوط منصوبہ بندی، مسلسل سرمایہ کاری اور مساوات پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے کس طرح تعلیم کو قومی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ آج چین نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام رکھتا ہے بلکہ معیار کے لحاظ سے بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں اگر یہی رفتار برقرار رہی تو چین تعلیم کے میدان میں عالمی رہنماؤں میں مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092704 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More