طلبہ پر والدین اور معاشرتی دباؤ: کیریئر کے انتخاب اور ذہنی صحت کے اثرات

طلبہ پر والدین اور معاشرتی دباؤ: کیریئر کے انتخاب اور ذہنی صحت کے اثرات
ہمارے ملک پاکستان میں اکثر 12 کلاس پاس کرنے والے شاگردوں کو اپنی مرضی سے اپنا کیریئر منتخب کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ اکثر اپنا کیریئر اپنی دلچسپی کی بنیاد پر نہیں بلکہ والدین یا معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے منتخب کرتے ہیں، یعنی وہ اپنی مرضی کے مطابق پڑھ بھی نہیں سکتے، اور یہ معاشرہ ڈاکٹر یا انجینئرنگ کے علاوہ کسی اور شعبے کو اہم نہیں سمجھتا۔ اور اگر شاگرد ان کے علاوہ کسی اور شعبے کا انتخاب کرے تو یہ معاشرہ اس شاگرد کو uncompetitive سمجھتا ہے۔
اس معاشرے یا والدین کا شاگرد پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اکثر depression اور anxiety کا شکار ہو جاتا ہے، اور وہ اپنی mental health condition کسی کو بتا بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ معاشرہ پھر اسے کمزور سمجھے گا۔ اور وہ اسی تباہ شدہ mental health کے ساتھ ایسے خطرناک اقدام اٹھاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ختم کرنے کی ہر ممکن اور ناممکن کوشش کرتا ہے، اور ایسے کئی کیسز ہو چکے ہیں۔
اور ان میں سے کچھ کیسز یہ ہیں:
لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (سندھ) کا تیسرے سال کا ایم بی بی ایس طالب علم، عاطف آرائیں، 2019 میں خودکشی کر گیا۔ پولیس کی تحقیقات اور رپورٹس کے مطابق وہ بنیادی طور پر اپنے خاندان کو خوش کرنے کے لیے میڈیکل پڑھ رہا تھا، جبکہ اس کی اس شعبے میں خاص دلچسپی نہیں تھی۔ دوستوں نے تحقیق کرنے والوں کو بتایا کہ وہ اصل میں کرکٹر یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننا چاہتا تھا، مگر خاندان کی توقعات اور دباؤ کی وجہ سے میڈیکل کی تعلیم جاری رکھی۔
لاہور کی University of Lahore میں ڈی فارمیسی کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے جنوری 2026 میں یونیورسٹی کی عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی، جس میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔ پولیس تحقیقات کے مطابق اس پر گھر والوں کا دباؤ تھا کہ ڈی فارمیسی کی تعلیم جاری رکھے، جبکہ اس کی اپنی اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
یہ میں نے صرف دو کیسز آپ کے سامنے رکھے ہیں، اور ایسے کئی اور کیسز بھی پیش آ چکے ہیں۔ آخرکار، ایسے واقعات کے ذمہ دار کون ہیں؟
🔹سال 2025 میں، “Reason for Joining the Profession: Passion or Parental Pressure” کے عنوان سے Nishtar Medical University میں پہلے سال کے 174 طلبہ پر ایک سروے کیا گیا، جس کے مطابق 69.5٪ طلبہ نے میڈیکل فیلڈ کو اپنی دلچسپی کے بجائے والدین کے دباؤ میں آ کر منتخب کیا۔
🔹ایک ایڈیٹوریل Gomal Journal of Medical Sciences میں شائع ہوا، جس میں بتایا گیا کہ 75٪ طلبہ میڈیکل فیلڈ میں اپنی دلچسپی کے بجائے والدین کے دباؤ کی وجہ سے داخلہ لیتے ہیں۔
اگر طالب علم معاشرتی یا والدین کے دباؤ میں آ کر کوئی شعبہ چنتا ہے، اور اسے اس میں نوکری بھی مل جائے، تو پھر اسے اپنی نوکری میں دلچسپی نہیں ہوگی اور وہ صرف پیسوں کے لیے کام کرے گا۔ اس وجہ سے وہ اپنی پوری زندگی depression اور anxiety میں گزار سکتا ہے۔
اب ہمیں معاشرے یا والدین کے اس دباؤ کو ختم کرنا ہوگا، ورنہ ہمارے کئی طلبہ ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے یا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
▫شاگردوں کے لیے پیغام
اب ہمیں معاشرتی یا والدین کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ ہمیں اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے مستقل شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے۔
▫والدین کے لیے پیغام
اب والدین کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتے، تو کل اس کے mental health کے مسائل کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ ہاں، آپ انہیں مشورے ضرور دیں، لیکن دباؤ نہ ڈالیں کہ وہ صرف وہی کریں جو آپ چاہتے ہیں۔
▫اسکول اور کالج کے لیے پیغام
اسکول اور کالج میں career counseling کروائی جائے اور شاگردوں کی mental health کا بھی خیال رکھا جائے۔
▫معاشرے کے لیے پیغام
معاشرے کو یہ سوچ ختم کرنی ہوگی کہ دنیا میں صرف ڈاکٹر یا انجینئر ہی بن سکتا ہے، اور باقی کوئی کام قابل احترام نہیں۔ دنیا آج بہت جدید ہو گئی ہے، اور ہر شعبہ اچھا ہے اگر آپ کا شوق ہو اور آپ اس میں اچھا کام کر سکیں۔ اس لیے وہ شعبہ منتخب کریں جس میں آپ کی دلچسپی ہو۔
مصنف: علی رضا جمالی
نیو سعید آباد، مٹیاری، سندھ 
Ali Raza Jamali
About the Author: Ali Raza Jamali Read More Articles by Ali Raza Jamali: 8 Articles with 1802 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.