ایران جنگ: بڑھتی ہوئی شدت، پاکستان کا امتحان اور ثالثی کا موقع
(Ghulamullah Kiyani, Islamabad)
ایران جنگ: بڑھتی ہوئی شدت، پاکستان کا امتحان اور ثالثی کا موقع غلام الہ کیانی مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ اب ایک محدود عسکری تصادم سے نکل کر ایک وسیع علاقائی اور عالمی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والی یہ جنگ مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے، اور اس کے اثرات اب صرف ایران یا خلیج تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی، اور خطے کے سکیورٹی توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے صرف خطرات کا سامنا ہی نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع بھی حاصل ہے۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے اور ایران جنگ نے اس پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پاکستان اپنی تقریباً نوّے فیصد تیل ضروریات درآمد کرتا ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ اس کے لیے براہِ راست اقتصادی خطرہ بن جاتی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے باعث درآمدی بل بڑھ رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور روپے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر محدود ہیں اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث ان میں مزید کمی کا خدشہ ہے، جبکہ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی صورتحال بھی پیچیدہ ہے۔ مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ کشیدگی، ایران کے ساتھ سرحدی عدم استحکام اور داخلی سطح پر فرقہ وارانہ دباؤ پاکستان کے لیے ایک کثیر الجہتی چیلنج بن چکا ہے۔ مشرقی سرحد پر بھارت کی موجودگی اسٹریٹجک دباؤ ہے۔یوں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔
لیکن اس تمام بحران کے اندر ایک اہم موقع بھی پوشیدہ ہے—اور وہ ہے پاکستان کا بطور ثالث اور سہولت کار (mediator & facilitator) کردار۔ پاکستان ماضی میں بھی مسلم دنیا اور عالمی سطح پر سفارتی رابطوں کا پل بنتا رہا ہے۔ اس کے ایران، سعودی عرب، چین اور مغربی دنیا کے ساتھ متوازن تعلقات اسے ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں کہ وہ اس تنازع میں ڈائیلاگ کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر سکے۔
اسلام آباد سنجیدگی سے اس کردار کو اپنائے تو وہ نہ صرف جنگ کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ اپنی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے چند واضح حکمت عملیوں کی ضرورت ہوگی۔
سب سے پہلے پاکستان کو فعال مگر غیر جانبدار سفارت کاری اختیار کرنا ہوگی۔ اسے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام فریقین کے ساتھ اعتماد پر مبنی رابطہ رکھنا ہوگا۔ ایران، خلیجی ممالک، امریکہ اور چین کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کو مضبوط بنانا ضروری ہوگا تاکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ نکات تلاش کیے جا سکیں۔
دوسرا اہم قدم یہ ہوگا کہ پاکستان خود کو ڈائیلاگ کے مرکز کے طور پر پیش کرے۔ اسلام آباد یا کسی نیوٹرل مقام پر مذاکرات کی پیشکش، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی (ceasefire) کی اپیل اور اعتماد سازی کے اقدامات (confidence-building measures) کو فروغ دینا اس حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
تیسرا، پاکستان کو چین جیسے اہم عالمی کھلاڑی کے ساتھ قریبی مشاورت کرنی ہوگی۔ چین نہ صرف خطے میں اقتصادی اثر رکھتا ہے بلکہ اس کا مفاد بھی استحکام میں ہے۔ اگر پاکستان اور چین مل کر سفارتی کوشش کریں تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
چوتھا، داخلی سطح پر استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ جب تک پاکستان اندرونی طور پر مضبوط نہیں ہوگا، وہ مؤثر ثالثی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے سکیورٹی، معیشت اور سیاسی استحکام کو ترجیح دینا ہوگی۔
اگر پاکستان اس کردار میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے فوائد صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ ایران میں استحکام آئے گا، خلیجی معیشتیں بحال ہوں گی، توانائی کی سپلائی بہتر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں استحکام آئے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی بالواسطہ فائدہ ہوگا کیونکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے سے سرحدی دباؤ کم ہوگا اور معاشی سرگرمیاں بہتر ہوں گی۔ افغانستان کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی کیونکہ خطے میں امن سے وہاں استحکام کے امکانات بڑھیں گے اور اقتصادی روابط کو فروغ ملے گا۔ یوں پاکستان اگر ایک کامیاب ثالث بنتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ساکھ بہتر کرے گا بلکہ پورے جنوبی و مغربی ایشیا کے لیے ایک امن کا محور (pivot of stability) بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران جنگ پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ہے اور ایک تاریخی موقع بھی۔ یہ موقع اس بات کا ہے کہ پاکستان خود کو صرف ایک متاثرہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرے۔
اگر اسلام آباد نے دانشمندانہ، متوازن اور فعال سفارت کاری اختیار کی تو یہ بحران پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی شناخت کا آغاز بن سکتا ہے۔ لیکن اگر روایتی ردعمل اور غیر واضح پالیسیوں کو توجہ ملی تو یہ موقع بھی ضائع ہو سکتا ہے۔
آخرکار، یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ سفارت کاری، حکمت عملی اور قیادت کی بھی جنگ ہے—اور اس میدان میں کامیابی ان ہی کو ملتی ہے جو وقت پر درست فیصلے کرتے ہیں ۔ |