صہبا لکھنؤی اردو ادب کی اُس روشن روایت کا نام ہیں، جس میں علم، تحقیق اور تخلیق ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ آپ 25 دسمبر 1919ء کو بھوپال (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سیّد شرافت علی تھا، مگر اپنے آبائی تعلق—لکھنؤ—کی نسبت سے "لکھنؤی" کہلائے، اور یہی نسبت آپ کی علمی و ادبی شناخت کا حصہ بن گئی۔
صہبا لکھنؤیؔ صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر ادیب اور سنجیدہ محقق بھی تھے۔ آپ کی تحریروں میں گہرائی، سلاست اور ایک خاص طرح کی فکری پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا، مگر اقبالیاتی ادب میں آپ کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف "اقبال اور بھوپال" دراصل ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے جس میں آپ نے نہایت باریک بینی اور محبت سے علامہ اقبالؒ کے بھوپال میں گزارے گئے لمحات، وہاں کی فضا، اور اُن سے جڑی یادوں اور واقعات کو قلمبند کیا۔ یہ کتاب محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی جھلک اور ایک عظیم مفکر کے اثرات کا زندہ نقشہ ہے۔ اسی نسبت سے بھوپال کو "دارالاقبال" بھی کہا جانے لگا، جو اس شہر کے علمی اور فکری مقام کا ثبوت ہے۔
ادارت کے میدان میں بھی آپ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ آپ جریدہ افکار کے مدیر رہے، جس کا اجرا 1945ء میں بھوپال سے ہوا۔ یہ رسالہ اُس دور کے علمی و ادبی مباحث کا ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد جب آپ کراچی منتقل ہوئے تو علم و ادب سے آپ کی وابستگی میں کوئی کمی نہ آئی۔ آپ نے اسی جذبے کے تحت 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کراچی سے کیا، اور یوں ہجرت کے بعد بھی ادبی روایت کا چراغ روشن رکھا۔
بطور شاعر، آپ کا کلام بھی اپنے اندر ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ آپ کے شعری مجموعے "ماہ پارے" اور "زیرِ آسماں" اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ کے اندر ایک حساس دل، ایک بیدار ذہن اور ایک سچا مشاہدہ رکھنے والی شخصیت موجود تھی۔ آپ کی شاعری میں جذبات کی لطافت، فکر کی گہرائی اور زبان کی مٹھاس ایک ساتھ ملتی ہے، جو قاری کو دیر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔
30 مارچ 2002ء کو کراچی میں یہ عظیم ادیب و شاعر اس دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اپنے پیچھے علم، ادب اور تحقیق کا ایک ایسا سرمایہ چھوڑ گیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ صہبا لکھنؤیؔ کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ سچا ادب وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے—وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، دلوں میں، کتابوں میں، اور فکر کے اُفق پر جگمگاتا ہوا۔ |