ٹرمپ کی“دیوانگی”اور دنیا کی خاموشی: شرق الاوسط کا گہرا ہوتا بحران تحریر:ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا-

ٹرمپ کی“دیوانگی”اور دنیا کی خاموشی: شرق الاوسط کا گہرا ہوتا بحران
تحریر:ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
شرق الاوسط کی کشیدگی اب خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، خصوصاً امریکہ اوراسرائیل کی ایران کی شہری تنصیبات پر حملوں نے دنیا بھر کے انسانوں کو سوچنے پر مضبور کر دیا ہے کہ آخرکیوں ایک فردِ واحد کے فیصلے عالمی کشیدگی کا سبب بن رہے ہیں۔ اس بحران کے مرکز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کھڑی نظر آتی ہے،ایک ایسا رہنما جس کی پالیسیوں اور بیانات کو ناقدین غیر متوقع، متضاد اور خطرناک حد تک یکطرفہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس صورتِ حال کو محض ایک فرد کی“دیوانگی”قرار دینا حقیقت کا ادھورا بیان ہوگا۔ اصل مسئلہ عالمی برادری کی ناکامی ہے، جو اتحاد، ذمہ داری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
امریکہ کی موجودہ ایران پالیسی واضح تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مقصد صرف ایٹمی پھیلاؤ کو روکنا اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا تھا، جبکہ دوسری جانب عملی اقدامات اس سے کہیں آگے جا کر نظام کی تبدیلی اور طویل المدتی غلبے کی طرف اشارہ ملتے ہیں۔ایرانی تنصیبات پر حملے اور سخت بیانات نے خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، مگر انہی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور امن کی مبہم پیشکشیں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ دوہرا طرزِ عمل اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا کوئی واضح حکمتِ عملی موجود بھی ہے یا نہیں، یا پھر فیصلے محض داخلی سیاسی مفادات کے تابع ہیں۔
موجودہ بحران ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے: سفارت کاری اب بنیادی ذریعہ نہیں رہی بلکہ عسکری طاقت کے سائے میں ایک ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائی ہے جس میں طاقت کا استعمال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔تاہم تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ عسکری برتری ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ایران کی مسلسل مزاحمت اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو متاثر کرنے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے ذریعے پائیدار استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اس بحران کا سب سے تشویشناک پہلو خود جنگ نہیں بلکہ عالمی برادری کا منتشر ردِعمل ہے۔یورپی ممالک نے تشویش کا اظہار تو کیا ہے مگر فیصلہ کن اقدامات سے گریز کیا ہے۔ عالمی ادارے بیانات تک محدود ہیں، جبکہ ابھرتی ہوئی طاقتیں جیسے چین مذاکرات پر زور دیتی ہیں مگر مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا ایک یک قطبی نظام (unipolarity)سے نکل کر ایک غیر یقینی کثیر قطبی نظام(multipolar global order) کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت تقسیم ہے مگر ذمہ داری واضح نہیں۔کیونکہ شرق الاوسط کا تنازع صرف دو یا تین ممالک تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی کشمکش کا حصہ ہے۔ خلیجی ریاستیں، علاقائی قوتیں اور غیر ریاستی عناصر سب اپنے اپنے مفادات کے تحت اس بحران میں شامل ہیں۔اس طرح شرق الاوسط ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی جنگوں کے ذریعے طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ اور طویل ہوتی جا رہی ہے۔
اس جنگ کے اثرات میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں میں خلل، اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر خطرناک ہے، جہاں مہنگائی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگر چہ ناقدین کی کثیر تعداد Donald Trump کی پالیسیوں کو غیر معقول قرار دیتی ہے، لیکن دنیا کی دیگر بااثر حکومتیں اس وقت یا تو خاموش ہیں یا عملی اقدامات سے گریزاں ہیں۔ یہ بحران دراصل پاپولسٹ سیاست کے عروج، بین الاقوامی اصولوں کی کمزوری، اور اجتماعی قیادت کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور غیر فیصلہ کن رویہ اس بحران کو مزید بڑھانے کا سبب بنا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خاموش تماشائی کا کردار چھوڑ دے۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
فعال اور سنجیدہ سفارت کاری، اجتماعی ذمہ داری کا احساس اوراصولی اور غیر جانبدارانہ مؤقف۔اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
شرق الاوسط کا موجودہ بحران محض ایک رہنما کے فیصلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی ناکامی ہے جو توازن، انصاف اور ذمہ داری برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکا ہے۔Donald Trump اس بے یقینی کی علامت ضرور ہے، مگر اصل“دیوانگی”اس عالمی نظام میں پوشیدہ ہے جو طاقت اور ذمہ داری کے درمیان توازن کھو چکا ہے۔اگر دنیا نے بروقت اور متحد ہو کر اقدام نہ کیا تو اس عدم توازن کی قیمت صرف شرق الاوسط ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑے گی۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 171 Articles with 250731 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More