ذوالفقار علی بخاری کی"قسمت کی دیوی" ایک حیران کن کتاب ہے۔۔۔زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ انقلابی قسم کی کہانیاں جو قاری کو بغاوت پر اکساتی ہیں۔ ذوالفقار بھائی کے قلم سے لکھی گئیں جو خود بظاہر ایک متحمل مزاج کے صابر و شاکر سے فرمانبردار قسم کے انسان لگتے ہیں👍🏼😊 ویسے دنیا میں ایسے ہی خاموش طبع انسان ہی انقلاب لاتے ہیں۔ ذوالفقار بھائی کا دعوی ہے کہ یہ "سوچ کے دھارے کو بدل دینے والئ"" کہانیاں ہیں۔۔۔۔اور کہانیاں پڑھ کر ان کا یہ دعوی سچ ثابت ہوجاتا ہے۔ اسی لئے میں نے بھی یہ کتاب ٹہر ٹہر کر پڑھی کہ کہانیاں کچھ خاص لگی تھیں۔۔۔۔ایسی سبق دیتی کہانیاں آرام آرام سے ہی پڑھنی چاہئے ۔ (ویسے زیادہ ٹہرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کا پوائنٹ سائز بہت ہی چھوٹا تھا جو پڑھنے میں ذرا دقت ہوتی ہے🤭😄) اس کتاب کا انتساب بھی بڑا منفرد ہے جو بہت ہی بڑی شخصیات کے نام ہے جیسے حکیم محمد سعید، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر امجد ثاقب، عبدالستار ایدھی، اور ان تمام لوگوں کے نام جنہوں نے پاکستان کے علمی،سماجی اور دفاع کے شعبوں میں وہ کام کیا جو اپنی مثال آپ ہیں۔ مصنف کہتے ہیں کہ "اکثر جو کہانیاں بچپن میں سنی ہوتی ہیں وہی بچوں کی زندگی کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کہ ان کہانیوں کا بچوں کی زندگی پر اثر گہرا ہوتا ہے اور وہ ساری عمر ان کی گرفت میں رہتے ہیں،اس لئے کہانیوں میں کچھ ایسا ہونا چایئے جس سے پڑھنے والا کچھ حاصل کر سکے۔ ان کو کامل یقین ہے کہ جہاں یہ کہانیاں پڑھنے والوں کی سوچ بدل سکتی ہیں وہیں یہ کسی بھی قاری کو مثبت سوچ کے ساتھ زندگی کا سفر پھر سے شروع کرنے پر مائل کرسکتی ہیں، مجھ سے بہتر یہ کون جان سکتا ہے کہ پہلا مثبت قدم کتنی بڑی کامیابیاں دلوا سکتا ہے۔ اگر آپ نے 'قسمت کی دیوی' کے پیغام کو سمجھ لیا تو جان لیجئے کہ یہ آپ پر بھی مہربان ہوجائے گی۔ " اللہ کرے کہ ان کا یہ دعوی سچ ثابت ہو اور یہ کہانیاں پڑھنے والے ان سے اچھا اور مثبت سبق حاصل کر سکیں۔ ان کی کہانی "زلفی بھائی جان" سے پتہ چلا کہ ذوالفقار بھائی جیسا سنجیدہ انسان دراصل بہت شرارتی ہے، اور جب وہ شرارت کرکے ایسی معصول شکل بنا لیتے ہیں کہ ان سے زیادہ شریف ترین انسان دنیا میں نہ ہوگا تو ان کے والد کہتے ہیں "شریف سے بڑا کوئی بدمعاش نہیں ہوتا۔۔۔!"🤭🤨 پہلی کہانی"شناخت" میں ایک اہم ایجاد اور اس کے آئیڈیا چوری ہونے کی کہانی ہے ، جس میں ایجاد کرنے والا ہمت کرتا ہے اور معاشرے کے اس با اثر شخص کی بے ایمانی کا راز فاش کرتا ہے، پھر بے خوف ہوکر اپنی ایجاد کے ثمرات سے فائدہ اٹھاتا ہے جو اپنی افادیت کے باعث مشہور ہوجاتی ہے ۔ کہانی"قسمت کی دیوی" میں ایک غریب لڑکا جو معاشرے کو سدھارنے کا جذبہ رکھتا ہے،اپنی معمولی کمائی سے غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے اس لئے پورا علاقہ اسے پسند کرتا ہے، ایک دن قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوجاتی ہے اور وہ ایم این اے منتخب ہوجاتا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے کس طرح محنت اور صبر و تحمل سے کام کرنا چایئے۔ یہ ایک ایم این اے کی سچی کہانی ہے ۔ ایک کہانی"بغاوت" خصوصا قابل ذکر ہے ، جس میں تین ہزار قالین باف بچوں کی بغاوت کرکے آزادی حاصل کرنے کی سچی کہانی ہے۔ ان سب کو بغاوت پر اکسانے اور انہیں آزادی دلانے والے دس سالہ بچے اقبال کو بالآخر دشمن ختم کردیتے ہیں۔ لیکن اس اقبال کا نظریہ ہمیشہ زندہ رہا۔ کہانی"انکشاف" میں ایک لڑکی والد کی بجائے اپنی پسند کی شادی کرنے کو ترجیح دیتی ہے ،اپنے موقف کے لئے وہ باپ اور سوتیلے بھائی سے بغاوت کرتی ہے جس کے نتیجے میں قتل کردی جاتی ہے۔ لیکن اس کا کلاس فیلو مقدمہ کرتا ہے اور لڑکی کے باپ اور بھائی کو سزا ہوجاتی ہے۔ باقی کہانیاں آپ نے خود پڑھنئ ہیں اور ان پر تبصرہ بھی کرنا ہے۔ سبھی کہانیوں میں کسی نہ کسی صورت بغاوت کر کے اپنا حق حاصل کرنا سکھایا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بخاری ادب اطفال میں بہت مقبول ہیں، لیکن یہ بڑوں کی کہانیاں ہیں جو زندگی میں کامیابی حاصل کرنے اور قسمت کی دیوی کو قابو کرنے کا سبق دیتی ہیں۔ شرط یہ ہے آپ بھی اپنے اندر بغاوت کا جذبہ اور ہمت پیدا کرلیں۔۔۔تو پھر "تخت یا تختہ"۔۔۔! بلا شبہ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کہانیاں ہیں جن میں سبق بھی منفرد دیا گیا ہے۔۔۔ اس کتاب کو لکھنے اور شایع کرنے پر ذوالفقار علی بخاری مبارک باد کے مستحق ہیں ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔لیکن بغاوت کے جذبہ کو اس سے زیادہ بڑھنے نہ دیجئے گا ، صبر تحمل سے اور جہد مسلسل سے حاصل کی گئی کامیابی زیادہ دیر پا ہوتی ہے۔سلامت رہی، خوش رہیں🌹🌹🌹🌹🌹— ایمازون سے براہ راست خریدی جا سکتی ہے۔ https://www.amazon.com/Kismat-Devi-Urdu-short-stories/dp/8196005555 قسمت کی دیوی کو تعمیرپبلی کیشن، حیدرآباد (قسمت کی دیوی کو تعمیرپبلی کیشن، حیدرآباد (+91 80969 61731) سے بھی خریدا جا سکتا ہے۔ |