���اقتدار
(Mudassar Nawaz, Rawalpindi)
ہمارا ایمان ہے کہ اس کائنات کا خالق‘ مالک‘رازق صرف اور صرف ایک اللہ ہے اور اس رو سے ساری زمین اسی کی ہے۔ لہٰذا زمین کے کسی ٹکڑے پر جب کسی فرد‘گروہ‘جتھے یا جماعت کو سیاسی اقتدار ملتا ہے تو وہ اس کا ذاتی حق نہیں ہوتا۔ یہ اقتدار ہر ایک کے لیے صرف محدود مدّت کے لیے ہوتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سیاسی مواقع دے کر اس کو جانچا جائے کہ اس نے اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کیا۔ پھر اس کی اس کارکردگی کی بنیاد پرآخرت میں اس کے لیے انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔قرآن مجید کی سورہ نمبر دس میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے‘ ترجمہ: پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیاتاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو۔(یونس‘14) کسی بھی خطّہ کے اہلِ اقتدار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ خود کو اس خطّہ ارضی کا مالک نہ سمجھیں بلکہ صرف اس کا امین سمجھیں۔ وہ اس سیاسی اقتدار کو اپنے لیے ایک ذمّہ داری سمجھیں نہ کہ کوئی ذاتی حق کا معاملہ۔ وہ اس بارے میں آخری حد تک سنجیدہ ہوں کہ انہیں اپنے اختیار کو ذاتی خواہش کے تحت استعمال نہیں کرنا ہے بلکہ اس کو اللہ کی مرضی کے تحت استعمال کرنا ہے۔ وہ پورے شعور کے ساتھ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں رکھیں کہ انہیں اپنے ہر قول و فعل کے لیے اللہ کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہے جہاں انصاف کے سوا کسی بھی دوسری چیز کی کوئی قیمت نہ ہو گی۔ اہل اقتدار کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انہیں یہ سیاسی موقع اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی زمین کو سنواریں نہ کہ اس کو بگاڑیں۔ وہ اللہ کے بندوں و مخلوق کو انصاف دیں نہ کہ انہیں اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں۔ وہ مملکت کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کریں اور تمام انسانوں کو راحت پہنچائیں نہ کہ انہیں نت نئے نئے مسائل میں الجھا دیں۔ وہ ملک کے وسائل کو ملک کی مثبت تعمیر میں لگائیں نہ کہ اس کو اپنے ذاتی عیش و عشرت یا ذاتی برتری کے لیے استعمال کریں۔ وہ ان مواقع کو اللہ کی امانت سمجھیں نہ کہ ذاتی ملکیّت۔ صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ مالک کائنات تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ ہر روز جب رات آتی ہے تو وہ یہ پیغام لاتی ہے کہ تمہارا عروج بھی لازماََ زوال کا شکار ہو گا۔ زمین کی مسلسل گردش بتا رہی ہے کہ اس دنیا میں کسی کی زندگی کے لیے ٹھہراؤ ہے نہ کسی کے سیاسی اقتدار کے لیے۔ یہ گویا تمام انسانوں کے لیے فطرت کی زبان میں اللہ کی ایک تنبیہہہ ہے۔ دانشمند و عقل مند وہ ہے جس کے لیے یہ انتباہ اس کی اصلاح حال کا ذریعہ بن جائے اور نادان وہ ہے جو اس یاددہانی کو نظر انداز کردے‘ اس کے لیے ذلّت اور ناکامی کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔ |
|