اسلام آباد: بدلتا ہوا شہر، خوابوں سے حقیقت تک کا سفر

اسلام آباد… کبھی یہ شہر میرے ذہن میں ایک الگ ہی تصویر بناتا تھا۔ صاف ستھری سڑکیں، درختوں کی قطاریں، مارگلہ کی پہاڑیاں اور وہ خاموشی جو کانوں میں نہیں بلکہ دل میں اترتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ شہر باقی ملک سے نہیں بلکہ کسی اور ہی دنیا سے آیا ہو۔ یہاں آ کر انسان کو لگتا تھا کہ زندگی شاید واقعی اتنی ہی خوبصورت اور منظم ہو سکتی ہے۔
میں نے جب پہلی بار اس شہر کو قریب سے دیکھا تو دل میں ایک عجیب سا سکون اترا۔ نہ شور، نہ بے ترتیبی، نہ جلد بازی… بس ایک ترتیب، ایک خاموشی اور ایک خاص سا حسن۔ صبح کے وقت پرندوں کی آوازیں، درختوں سے گزرتی ہوا، اور شام کو ہلکی ٹھنڈی فضا—یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے تھے جو انسان کو تھوڑی دیر کے لیے اپنی پریشانیاں بھلا دیتا تھا۔
مگر وقت گزرتا گیا اور چیزیں بدلنے لگیں۔ وہی شہر جو کبھی سکون کی مثال سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے ایک مصروف اور بڑھتے ہوئے دباؤ والے شہر میں بدل رہا ہے۔ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہر طرف پھیل رہی ہیں، عمارتیں اونچی ہو رہی ہیں، اور آبادی میں اضافہ ہر سال مزید نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
مارگلہ کی پہاڑیاں آج بھی ویسی ہی کھڑی ہیں، مگر ان کے نیچے زندگی کا انداز بدل گیا ہے۔ پہلے جو فضا کھلی اور آزاد محسوس ہوتی تھی، اب وہاں بھی تعمیرات کا دباؤ دکھائی دیتا ہے۔ کہیں کہیں ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے قدرتی خوبصورتی کو ترقی کے نام پر دبا دیا ہو۔
یہ بھی سچ ہے کہ اسلام آباد نے بے حد ترقی کی ہے۔ بہتر انفراسٹرکچر، جدید مارکیٹس، تعلیمی ادارے، اور رہائشی سہولیات نے لوگوں کی زندگی آسان بنائی ہے۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے یہاں آ کر اپنے خوابوں کی تلاش میں بس رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ترقی کی علامت ہے، اور اس سے انکار ممکن نہیں۔
لیکن ہر ترقی کے ساتھ کچھ قیمت بھی ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں اب ٹریفک کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ وہ سڑکیں جہاں کبھی سکون سے سفر ہوتا تھا، اب وہاں بھی رش اور ہارن کی آوازیں عام ہو گئی ہیں۔ پارکنگ کا مسئلہ، آلودگی، اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے شہر کے سکون کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد کی اصل پہچان اس کا نظم و ضبط، اس کی صفائی اور اس کا قدرتی ماحول تھا۔ لوگ اسے ایک “ماڈل سٹی” کے طور پر دیکھتے تھے۔ مگر اب یہ سوال ذہن میں بار بار آتا ہے کہ کیا یہ ماڈل سٹی اپنی اصل روح کو برقرار رکھ پا رہا ہے یا صرف شکل باقی رہ گئی ہے؟
کبھی کبھی لگتا ہے جیسے شہر دو حصوں میں بٹ گیا ہو۔ ایک طرف پرانا اسلام آباد ہے جو درختوں، خاموش سڑکوں اور سکون سے جڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف نیا اسلام آباد ہے جو تیزی، تعمیرات اور مصروف زندگی کی علامت بن چکا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سوچ رک جاتی ہے۔ کیا ہم ترقی کے نام پر اپنے سکون کو قربان کر رہے ہیں؟ یا ہم واقعی ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
اسلام آباد آج بھی خوبصورت ہے، مگر اس کی خوبصورتی اب مختلف محسوس ہوتی ہے۔ پہلے یہ خوبصورتی دل کو سکون دیتی تھی، اب یہ خوبصورتی ایک تیز رفتار زندگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
یہاں علامہ اقبال کا ایک شعر بالکل فٹ بیٹھتا ہے:
“ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”
یہ شعر صرف خوابوں کی وسعت نہیں بتاتا بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہر حاصل کے بعد بھی ایک نیا سفر باقی رہتا ہے۔ شاید اسلام آباد بھی اسی سفر میں ہے—ایک تبدیلی کے سفر میں، جہاں خواب اب حقیقت میں ڈھل رہے ہیں، مگر ان خوابوں کا سکون شاید کسی اور شکل میں ڈھل رہا ہے۔
آخر میں یہی سوال رہ جاتا ہے کہ ہم اس شہر کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ ایک بے ہنگم ترقی کی طرف یا ایک ایسے توازن کی طرف جہاں فطرت، سکون اور ترقی ساتھ ساتھ چل سکیں؟
اسلام آباد اب بھی خواب ہے… مگر وہ خواب اب پہلے جیسا سادہ نہیں رہا۔ 
Sardar Muhammad Shoaib Saifi
About the Author: Sardar Muhammad Shoaib Saifi Read More Articles by Sardar Muhammad Shoaib Saifi: 25 Articles with 4607 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.