پاکستان تاریخ بن جائے گا؟ بھارتی آرمی چیف کے بیان نے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
جنوبی ایشیا ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے جہاں الفاظ بھی بارود کا کام کر رہے ہیں۔ جب دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کریں تو صرف سیاسی ماحول ہی خراب نہیں ہوتا بلکہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں خوف بھی جنم لیتا ہے۔ حالیہ دنوں بھارتی آرمی چیف کے اس بیان نے پورے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں پاکستان کے بارے میں سخت اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا گیا۔ یہ بیان صرف ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کے امن کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنوبی ایشیا واقعی ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے یا یہ صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے؟ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے تنازعات، بداعتمادی اور جنگی ماحول کا شکار رہے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد سے دونوں ممالک کئی جنگیں لڑ چکے ہیں، سرحدی جھڑپیں معمول بن چکی ہیں جبکہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع ہے۔ لیکن ماضی کی نسبت آج کی صورتحال زیادہ حساس اس لیے ہے کیونکہ اب دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی جنگی زبان صرف جذبات نہیں بھڑکاتی بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا حالیہ بیان بھی اسی وجہ سے خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں سفارتی احتیاط کم اور جارحانہ انداز زیادہ دکھائی دیا۔ بھارت میں اس وقت قوم پرستی کی سیاست اپنے عروج پر ہے۔ وہاں ہر انتخاب کے قریب پاکستان مخالف بیانات میں شدت آ جاتی ہے۔ بعض بھارتی سیاست دان اور ٹی وی چینلز ایسے بیانات دیتے ہیں جیسے جنگ کسی فلم کا منظر ہو اور اس کے نتائج صرف سرحد تک محدود رہیں گے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسی سوچ نوجوان نسل میں بھی منتقل ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے جہاں نفرت انگیز مہمات چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ پاکستانی عوام کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا اب بھارتی میڈیا کے ایک حصے کے لیے ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بڑا فوجی عہدیدار سخت بیان دیتا ہے تو وہ صرف ایک خبر نہیں رہتی بلکہ پورے خطے میں خوف، غصہ اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دیتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہے لیکن اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت بارہا واضح کر چکی ہیں کہ ملک کے دفاع پر کوئی حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی آرمی چیف کے بیان پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ پاکستان نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی ایٹمی ریاست کو مٹانے کی بات غیر ذمہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے نعرے لگانا آسان ہوتا ہے لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد اسے روکنا کسی کے اختیار میں نہیں رہتا۔ دنیا نے روس یوکرین جنگ میں دیکھ لیا کہ ایک تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کی معیشت، سیاست اور امن کو متاثر کرتا ہے۔ اگر خدانخواستہ جنوبی ایشیا میں کوئی بڑا تصادم ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی دھمکی آمیز زبان کیوں استعمال کی جاتی ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ داخلی سیاست ہوتی ہے۔ جب حکومتیں معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی یا عوامی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں تو اکثر بیرونی خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے۔ بھارت میں بھی اس وقت بے شمار اندرونی مسائل موجود ہیں لیکن پاکستان مخالف بیانیہ ہمیشہ ایک آسان سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی عوام ایسے بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہیں کیونکہ پاکستانی قوم اپنے دفاع کے معاملے میں انتہائی حساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طرف جذبات تیزی سے بھڑکتے ہیں اور ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے مسائل سب سے زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود اربوں ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ ہوں تو خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سیاست، طاقت اور دشمنی نے ترقی کا راستہ روک رکھا ہے۔ ایک عام پاکستانی یا بھارتی شہری جنگ نہیں چاہتا۔ وہ صرف امن، روزگار اور بہتر مستقبل چاہتا ہے۔ مگر طاقتور حلقے اکثر عوامی جذبات کو جنگی نعروں کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک ہوش مندی کا مظاہرہ کریں۔ فوجی دھمکیوں اور اشتعال انگیز بیانات سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن مستقل امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بدل رہی ہے۔ اب معیشت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری طاقت کا اصل معیار بن چکے ہیں۔ جو ممالک جنگی سوچ سے باہر نہیں نکلتے وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت اگر مسلسل دشمنی میں الجھے رہے تو آنے والی نسلیں بھی خوف اور عدم استحکام کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گی۔ بھارتی آرمی چیف کا بیان یقیناً تشویش کا باعث ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ذہنیت ہے جو جنگی ماحول کو معمول سمجھنے لگی ہے۔ جنوبی ایشیا مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دونوں ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کی شروعات ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے نشے میں دی جانے والی دھمکیاں وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں مگر مستقل امن نہیں لا سکتیں۔ آج اگر خطے کو واقعی محفوظ بنانا ہے تو نفرت کی زبان بند کرنا ہوگی، مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا اور عوام کو خوف نہیں بلکہ امید دینی ہوگی، کیونکہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان سب سے بڑی فتح جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہوتی ہے۔ |
|