ڈاکٹر زاہدہ بقائی: دنیائے طب کا ایک اور درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا! تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی - آسٹریلیا

ڈاکٹر زاہدہ بقائی: دنیائے طب کا ایک اور درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا!
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی - آسٹریلیا
وہ صرف ایک معالج نہیں تھیں، بلکہ ایک عہد ساز شخصیت، ایک ادارہ، ایک فکر، اور ایک مشن کا نام تھیں۔ انہوں نے طب کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ محض پیشہ ورانہ کامیابیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے ایک روشن باب کی صورت اختیار کر گئیں۔
بطور سربراہ بقائی میڈیکل یونیورسٹی، انہوں نے نہ صرف طبی تعلیم کو فروغ دیا بلکہ پاکستان میں جدید طبی سہولیات کی بنیادوں کو بھی مستحکم کیا۔ ان کی قیادت میں یہ ادارہ ایک خواب سے حقیقت بنا؛جہاں علم، تحقیق اور خدمتِ خلق ایک ساتھ پروان چڑھے۔
ڈاکٹر زاہدہ بقائی کی زندگی جدوجہد، اخلاص اور عزم کی ایک روشن مثال تھی۔ انہوں نے اس معاشرے میں، جہاں خواتین کے لیے آگے بڑھنا آسان نہ تھا، اپنی قابلیت اور حوصلے سے وہ مقام حاصل کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ان کی وفات محض ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک عہد کا اختتام ہے۔ وہ ایک ایسی روشنی تھیں جو نہ صرف مریضوں کے زخموں پر مرہم رکھتی تھی بلکہ نوجوان ذہنوں کو علم کی روشنی سے منور بھی کرتی تھی۔
ع وہ چراغِ علم تھیں، بجھ کر بھی روشن رہیں گی
مجھےجنوری 2018آخری دم تک یاد رہے گاکیونکہ زندگی میں بعض ملاقاتیں محض رسمی نہیں ہوتیں بلکہ شعور و احساس کے دریچوں کو وا کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک باوقار اور یادگار ملاقات اُس وقت نصیب ہوئی جب میری تصنیف “در برگِ لالہ و گل” کی تقریبِ پذیرائی کے سلسلے میں کراچی جانا ہوا تو مجھے مسز زاہدہ بقائی جیسی مدبر تعلیمی و انتظامی شخصیت سے ملاقات کا موقع میسر آیا۔
ان کے دفتر میں ہونے والی یہ ملاقات میرے لیے ایک فکری اور روحانی تجربہ ثابت ہوئی۔ اس موقع پر میرے ہمراہ بقائی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پریس اینڈ پبلی کیشنز، جناب سید محمد ناصر علی شاہ بھی موجود تھے، جنہوں نے اس علمی نشست کو مزید بامعنی بنا دیا۔
گفتگو کا آغاز رسمی تعارف سے ہوا مگر جلد ہی ایک سنجیدہ علمی مکالمے میں تبدیل ہو گیا۔ ڈاکٹر زاہدہ بقائی نے ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ کے موضوع کو گہری دلچسپی سے سنا اور اس کے تحقیقی زاویوں کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری میں فطرت اور نباتاتی علامات کا مطالعہ ایک منفرد اور قابلِ قدر علمی جہت ہے، جو ادب اور سائنسی فکر کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرتا ہے۔اس موقع پر جناب سید محمد ناصر علی کی موجودگی نے گفتگو میں ایک اشاعتی اور ادارتی پہلو بھی شامل کیا، اور علمی مباحث کو ایک عملی سمت عطا کی۔ یہ نشست دراصل تین مختلف جہا:ادب، تحقیق اور اشاعت کا حسین امتزاج بن گئی۔
اس ملاقات میں جو پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہوا وہ ڈاکٹر زاہدہ بقائی کی عاجزی، خلوص اور اہلِ علم کی حوصلہ افزائی کا جذبہ تھا؛ایک ایسی خوبی جو بڑی شخصیات کو اور بھی بڑا بنا دیتی ہے۔
آج جب وہ اس دنیا میں موجود نہیں رہیں، یہ ملاقات ایک قیمتی یادگار کی صورت اختیار کر گئی ہے؛ایک ایسا لمحہ جو دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ روشن رہے گا۔
در برگِ لالہ و گل کی دوسری جلد کی اشاعت پرانہوں نے اپنے پیغام میں لکھاکہ’’کلام ِاقبال کے ایک خاص پہلو پر لکھی گئی اس کتاب کا مطالعہ میرے لئے باعث مسرت ہے۔ علامہ اقبال کے نام اور کلام سے تو میں ابّاجان ابوالمکارم سلیم اللہ فہمی__معروف شاعر و ادیب__کی ادب اور ادیبوں کی قدر دانی کی وجہ سے بچپن میں ہی واقف ہوگئی تھی، لیکن سائنس اور میڈیکل کی مسلسل تعلیم کی وجہ سے شاعری سے دلچسپی آگے نہ بڑھ سکی۔
2007 میں بقائی یونیورسٹی پریس کی بنیاد رکھتے وقت میرے شریک حیات ڈاکٹر فریدالدین بقائی کی خواہش تھی کہ پریس سے طب، سائنس اورادب کے تعلق سے کتابیں شائع ہوں۔ اسی خواہش اور علامہ اقبال سے دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے افضل رضوی کی کتاب ”دربرگِ لالہ و گل“جلداول بقائی یونیورسٹی پریس میں چھاپنے کی منظوری دی۔ ان کا فیصلہ کتنا صحیح تھا اس کا اندازہ مجھے کتاب چھپنے اور اس کے بارے میں ہونے والی متعدد تقا ریب کی رپورٹوں سے ہوا۔ مجھے آج ڈاکٹر بقائی کے الفاظ یاد آرہے ہیں کہ’’لوگ سوچتے رہ جاتے ہیں اور ہم کر گزرتے ہیں‘‘۔ ۔ ۔ میں سوچتی ہوں کہ بقائی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے کتنی صلاحیتوں سے نوازا تھا کہ وہ ایک نظر میں انسان کو بھی پہچان لیتے تھے اور کسی کی تحریر کا بھی بخوبی اندازہ لگا لیتے تھے۔ ان کے الفاظ یاد رکھنے کے ہیں کہ ’’فکرِ اقبال پربہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جارہاہے۔حال ہی میں آر۔ایم۔افضل رضویؔ، مقیم آسٹریلیا نے علامہ اقبالؒ کے حوالے سے جو کام کیا ہے اور جس کی پہلی جلد آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ ہر پہلو سے منفرد ہے۔ اس کا سرنامہ”در برگِ لالہ وگل“ ہی چونکا دینے والا ہے۔ ہم سب علامہ اقبالؒ کو شاعر ہی نہیں بلکہ بہت بلند پایہ شاعر تصور کرتے ہیں، مگر محترم افضل رضویؔ نے جس طرح نباتات جیسے سائنسی موضوع کے حوالے سے اقبال کو تلاش کیا ہے۔ اس پر غالب ؔکا یہ مصرعہ صادق آتا ہے۔“ع
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
جنوری 2018 کے اوائل میں مصنف کتاب کی تعارفی تقریب کے لیے آسٹریلیا سے کراچی آئے تو ان سے مختصر لیکن دلچسپ گفتگو ہوئی۔ وہ مجھ سے ملنے میرے آفس آنے سے قبل بقائی مرحوم کے مزار پر فاتحہ کے لیے گئے، دیر تک وہاں ٹھہرے تومجھے بقائی صاحب جیسی علم دوست شخصیت سے ان کی محبت کااندازہ ہوا‘‘۔
انہوں نے آخر میں جو دعائیں دیں وہ میرے لیے کسی سرمائے سے کم نہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’یقیناًعلامہ اقبال کے حوالے سے افضل رضوی کا یہ بہت بڑا کام ہے جسے ادبی حلقوں میں مدتوں یاد رکھاجائے گا۔ میری دعائیں افضل رضویؔ کے ساتھ ہیں‘‘۔
ڈاکٹر زاہدہ بقائی ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک روایت تھیں:علم، خدمت اور وقار کی روایت۔
یہ روایت اُن کے اداروں، شاگردوں اور اُن یادوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے گی جو انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249486 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More