"نسوار پر لائسنس، اب ہونٹوں کے نیچے بھی قانون کی نظر"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں آخرکار وہ دن آ ہی گیا جس کا شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اب اگر کوئی شخص نسوار بنانا یا بیچنا چاہے تو پہلے حکومت سے لائسنس لینا ہوگا، ورنہ تیس ہزار روپے جرمانہ اس کے انتظار میں ہوگا۔ یعنی اب نسوار صرف ایک عادت یا کاروبار نہیں رہے گی بلکہ ایک باقاعدہ سرکاری نگرانی والا شعبہ بن جائے گی۔ یہ خبر سنتے ہی صوبے کے حجرے، بازار، چائے خانے اور دکانیں یقیناً حیرت میں پڑ گئے ہوں گے۔ جس نسوار کو لوگ برسوں سے جیب میں رکھ کر فخر سے پھرتے تھے، اب اس کے لیے لائسنس درکار ہوگا۔ گویا کل تک جو چیز ہر گلی نکڑ پر عام تھی، آج وہ اتنی اہم ہو گئی کہ اس پر قانون سازی ضروری سمجھی گئی۔
ہمارے ہاں عام طور پر قانون ا±ن معاملات پر بنتا ہے جہاں عوام کی جان و مال یا امن و امان کا مسئلہ ہو، مگر خیبرپختونخوا میں شاید سب سے بڑا مسئلہ یہی رہ گیا تھا کہ نسوار کون بنا رہا ہے اور کون بیچ رہا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، کھیل اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر قانون سازوں کی توجہ آخرکار نسوار پر جا ٹھہری۔ یوں لگتا ہے جیسے صوبے کے تمام بڑے مسائل حل ہو چکے ہوں اور ترقی کی راہ میں آخری رکاوٹ صرف یہی تھی کہ نسوار بغیر لائسنس فروخت ہو رہی تھی۔ شاید اگلا مرحلہ یہ ہو کہ نسوار کی پ±ڑیا پر بھی وارننگ لکھی جائے: "نسوار صحت کے لیے مضر ہے، مگر بغیر لائسنس بیچنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔"
اب ممکن ہے کہ "معیاری نسوار" اور "غیر معیاری نسوار" کی سرکاری تعریف بھی سامنے آئے۔ کوئی محکمہ چیک کرے کہ نسوار میں چونا اور تمباکو مناسب تناسب میں ہے یا نہیں۔ اگر معیار پورا نہ ہوا تو دکاندار جرمانہ بھرے گا۔ گویا نسوار بھی اب ایک باقاعدہ "برانڈڈ آئٹم" بننے جا رہی ہے۔ اس قانون سے دفتری نظام میں بھی نئی رونق پیدا ہوگی۔ لائسنس کے لیے درخواستیں ہوں گی، انسپکشن ہوگی، فائلیں بنیں گی، اور یوں سرکاری دفاتر میں ایک نیا باب کھلے گا۔ جہاں فائل ہوگی، وہاں کارروائی ہوگی، اور جہاں کارروائی ہوگی وہاں "رفتار تیز" کرنے کے غیر رسمی راستے بھی نکل سکتے ہیں۔ یوں نسوار کا کاروبار صرف دکاندار کے لیے نہیں بلکہ دفتری نظام کے لیے بھی فائدہ مند بن سکتا ہے۔
عوام کے لیے یہ صورتحال کسی طنزیہ ڈرامے سے کم نہیں۔ ایک طرف لوگ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی مسائل سے پریشان ہیں، دوسری طرف حکومت فکر مند ہے کہ نسوار بغیر لائسنس کیوں بک رہی ہے۔ گویا صوبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی تھی کہ نسوار فروش ابھی تک رجسٹرڈ نہیں تھے۔ اور بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں پولیس کی تلاشی کا انداز بھی بدل جائے۔ پہلے جیب سے موبائل، شناختی کارڈ یا نقدی برآمد ہونے کی خبر آتی تھی، اب شاید ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا جائے کہ "ملزم کی جیب سے غیر لائسنس یافتہ نسوار برآمد ہوئی"۔ ممکن ہے ناکوں پر اہلکار لوگوں سے کہیں کہ منہ کھولیں تاکہ چیک کیا جا سکے کہ ہونٹوں کے نیچے رکھی گئی نسوار قانونی ہے یا غیر قانونی۔ اگر نسوار غیر لائسنس یافتہ نکلی تو شاید سوال ہوگا: "اس نسوار کا پرمٹ کہاں ہے؟"
سوچئے، اگر یہی روایت چل پڑی تو کل بازار میں لوگ پوچھ رہے ہوں گے: "بھائی لائسنس والی نسوار ہے یا بغیر لائسنس؟" اور اگر بغیر لائسنس ہو تو شاید جواب آئے: "قانونی نہیں ہے، مگر ذائقہ اصلی ہے۔"یہ ساری صورتحال مزاحیہ ضرور لگتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسے قوانین واقعی عوامی فلاح کے لیے بن رہے ہیں یا محض انتظامی بوجھ بڑھانے کے لیے؟ اگر قانون صرف کاغذوں تک محدود رہا تو یہ ایک اور رسمی کارروائی ہوگی، اور اگر سختی سے نافذ ہوا تو ممکن ہے کہ کل نسوار فروش بھی فائلیں اٹھائے دفاتر کے چکر لگا رہے ہوں۔
خیبرپختونخوا کے عوام اب شاید یہ دن بھی دیکھیں کہ حجرے میں بیٹھا بزرگ نوجوان سے کہے: "بیٹا، نسوار تو لے آو¿ مگر دیکھنا لائسنس یافتہ ہو۔" جب روزمرہ زندگی میں ایسے جملے سنائی دیں گے تو سمجھ لیں کہ قانون واقعی ہونٹوں کے نیچے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ قانون صحت اور معیار کے نام پر ضرور لایا جا رہا ہے، مگر عوام اسے طنز اور حیرت کے ملے جلے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ جب بڑے مسائل جوں کے توں موجود ہوں اور ترجیح نسوار کو ملے تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اصل ترجیحات کیا ہیں۔
فی الحال عوام یہی کہہ رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں اب نسوار بھی سرکاری نگرانی میں آ گئی ہے۔ اگر یہی سنجیدگی تعلیم، صحت، کھیل اور روزگار کے شعبوں میں بھی نظر آتی تو شاید حالات واقعی بدل جاتے۔ مگر فی الحال صورتحال یہ ہے کہ اب ہونٹوں کے نیچے رکھی جانے والی نسوار بھی قانون کی نظر میں ہے۔
#NaswarAct2026 #KPKNews #PoliticalSatire #FunnyColumn #PakistanPolitics #NaswarRegulation #KhyberPakhtunkhwa #UrduColumn #SatireWriting #BreakingNews
|