ہم نے آسان راستے کیوں چن لیے؟
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
|
ہم نے آسان راستے کیوں چن لیے؟ (تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان) ۔۔۔۔۔ زندگی کبھی مشکل نہیں ہوتی، ہم اسے مشکل بنا لیتے ہیں یا شاید ہم نے آسانی کے نام پر ایسے راستے چن لیے ہیں جو وقتی طور پر سہل ضرور ہوتے ہیں، مگر انجام میں زیادہ پیچیدہ نکلتے ہیں۔ آج کا انسان سہولتوں کے عہد میں جی رہا ہے، مگر سکون کی تلاش میں پہلے سے زیادہ بے قرار ہے۔ یہ تضاد محض حالات کا نہیں، ہمارے انتخاب کا بھی نتیجہ ہے۔ ہم نے محنت کی جگہ شارٹ کٹ کو ترجیح دی، صبر کی جگہ جلدبازی کو اپنایا اور اصولوں کی جگہ مفاد کو معیار بنا لیا۔ ہمیں وہ راستہ پسند آنے لگا جو کم وقت میں زیادہ فائدہ دے، چاہے اس کے اثرات دیرپا نہ ہوں۔ ہم نے زندگی کو ایک دوڑ بنا دیا ہے، جس میں منزل سے زیادہ رفتار کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کامیابی کا مفہوم بھی بدل چکا ہے۔ پہلے کامیابی ایک سفر ہوتی تھی؛ محنت، دیانت اور استقامت کا سفر۔ اب کامیابی ایک منظر بن گئی ہے۔ جو دکھائی دے، جو سراہا جائے، چاہے اس کے پیچھے حقیقت کچھ بھی ہو۔ ہم نے اصل سے زیادہ عکس کو اہمیت دے دی ہے۔ زندگی کو اگر دریا سے تشبیہ دی جائے تو ہم نے اس کے بہاؤ کے ساتھ چلنے کے بجائے اس کے کنارے کنارے چلنا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں گہرائی سے ڈر لگتا ہے، اس لیے ہم سطح پر رہ کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سطح پر رہنے والا کبھی اصل سکون نہیں پا سکتا، کیونکہ سکون ہمیشہ گہرائی میں چھپا ہوتا ہے۔ ہماری ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ہم مشکل فیصلوں سے بھاگتے ہیں۔ ہم سچ بولنے سے گریز کرتے ہیں اگر اس سے نقصان کا اندیشہ ہو، ہم حق کا ساتھ دینے سے ہچکچاتے ہیں اگر اس میں تنہائی کا خطرہ ہو۔ ہم نے اپنے اصولوں کو حالات کے تابع کر دیا ہے، حالانکہ اصول وہ ہوتے ہیں جو حالات کو بدلنے کی قوت رکھتے ہیں۔ یہ دنیا ایک آئینہ ہے۔ ہم جو چہرہ اس کے سامنے رکھتے ہیں، وہی ہمیں لوٹا دیتی ہے۔ اگر ہم سہولت کو اصول بنا لیں تو دنیا ہمیں وقتی آسانیاں دے گی، مگر مستقل بے چینی بھی ساتھ دے گی۔ اگر ہم اصول کو ترجیح دیں تو راستہ کٹھن ضرور ہوگا، مگر انجام میں اطمینان ضرور ملے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آسان راستے ہمیشہ زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں جلدی کامیابی کا وعدہ کرتے ہیں، کم محنت کا یقین دلاتے ہیں اور فوری خوشی کا احساس دیتے ہیں۔ مگر یہ راستے اکثر ہمیں اس مقام تک نہیں پہنچاتے جہاں ہم واقعی پہنچنا چاہتے ہیں۔ انسان کی بنیاد اس کے اصولوں کی عمارت ہوتے ہیں۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت چاہے جتنی خوبصورت ہو، ایک دن گر جاتی ہے اور اگر بنیاد مضبوط ہو تو عمارت سادہ ہونے کے باوجود قائم رہتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آسانی ہمیشہ کامیابی نہیں ہوتی اور مشکل ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی اس راستے میں ہے جو ہمیں اندر سے مضبوط کرے، نہ کہ صرف باہر سے کامیاب دکھائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے انتخاب پر نظرِ ثانی کریں۔ ہم یہ دیکھیں کہ ہم جو راستہ چن رہے ہیں، وہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔ کیا وہ ہمیں وقتی فائدہ دے رہا ہے یا مستقل سکون؟ کیا وہ ہمیں دوسروں کی نظر میں بڑا بنا رہا ہے یا اپنی نظر میں چھوٹا؟ بات یہ نہیں کہ راستہ کتنا آسان ہے؛ اصل بات یہ ہے کہ وہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے کیونکہ بعض اوقات سب سے آسان راستہ ہی انسان کو سب سے مشکل انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ راستوں کی آسانی دھوکہ بھی ہو سکتی ہے؛ اصل پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیں بلندی کی طرف لے جا رہے ہیں یا آہستہ آہستہ گرا رہے ہیں۔
|
|