ہر کمانے والی عورت خود مختار نہیں ہوتی

آج کل لڑکیوں کی اچھی تعلیم اور ہنر مندی کی ضرورت پر صرف اس لئے ہی زور نہیں دیا جا رہا کہ اُن پر نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے ، بلکہ بنیادی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر ان کا واسطہ کوئی بد نسلوں سے پڑ جائے تو وہ دو وقت کی روٹی اور ایک چھت کے لئے اُن کے جوتے کھانے پر مجبور نہ ہوں ۔ تو کیا واقعی ایک تعلیمیافتہ یا ہنر مند لڑکی کو شادی کے بعد تحفظ حاصل ہو جاتا ہے؟
کچھ لوگ شادی کے لئے تلاش ہی کوئی ملازمت پیشہ لڑکی کرتے ہیں تاکہ وہ گھر کے اخراجات میں مالی معاونت کرے کفالت میں حصہ ڈالے ۔ جبکہ کچھ لوگ صرف گھریلو لڑکی چاہتے ہیں جو صرف گھر کے کام کاج کرے بچے پالے اور سسرال والوں کی خدمت کرے اکثر ہی لوگ پہلے جاب نہ چھڑانے کا وعدہ کر کے شادی کے بعد صاف مکر جاتے ہیں ۔ اور لڑکی کی لگی لگائی جاب چھڑوا کر اسے اپنے پورے خاندان کی کُل وقتی ملازمہ بنا دیتے ہیں ۔ بہت سے مرد ضروری ہونے پر بھی بیوی کو جاب کی اجازت نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ جو میں کما رہا ہوں اسی میں گزارہ کرو ۔ یہاں محبت یا فکر کہیں نہیں ہوتی کہ بیوی کو زمانے کے دھکے اور ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں یہ صرف اسے اپنا محتاج بنا کر رکھنے اور اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہونے دینے کا جذبہ ہوتا ہے ۔ معاشی طور سے مستحکم اور خود کفیل عورت اپنے مرد کی خود اعتمادی کے لئے ایک چیلنج بن جاتی ہے نہ بھی بنے تو مرد کو محسوس ہوتا ہے ۔
کیا شادی کے بعد ملازمت جاری رکھنے سے لڑکیوں کو کوئی اضافی ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے ان کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے؟ آخر وہ گھر کے اخراجات کا بوجھ بٹاتی ہیں ۔ اکثریت کو مشترکہ گھرانے کے کام کاج میں کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی جاب پر جانے سے سے پہلے اور واپس آنے کے بعد بھی ذمہ داریوں کا ایک طوفان ان کا منتظر ہوتا ہے جس سے نمٹنے کے بعد بھی کوئی پزیرائی نہیں کوئی ہمت افزائی نہیں ۔ نہ سہی مگر اکثر ہی انہیں جلی کٹی سننے کو ملتی ہے شاید اس لئے کہ کہیں سر پر ہی نہ چڑھ جائیں انہیں ان کی اوقات میں رکھو ۔ جاب کرنے والی بہوؤں میں کچھ کی قسمت اس لحاظ سے اچھی ہوتی ہے کہ دوہری ذمہ داریوں کے ساتھ انہیں شوہر یا سسرال والوں کی بد خلقی کا کوئی زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑتا وہ انہیں دودھ دینے والی گائے سمجھ کر ان کی لاتیں کھانے پر بھی آمادہ ہوئے رہتے ہیں ۔ بُرا بھلا گزارہ چلتا رہتا ہے مگر بہت بڑے پیمانے پر ایک جو قدر مشترک ہوتی ہے وہ یہ کہ جاب کرنے والی خواتین کا خود اپنی کمائی پر کوئی اختیار نہیں ہوتا نہ ہی وہ کوئی بھی فیصلہ اپنی مرضی سے کر سکتی ہیں وہ اوور سیز کی طرح صرف نوٹ جھاڑنے کی مشین ہوتی ہیں جس کا کنٹرول شوہر کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جوائنٹ فیملی ہو تو وہ خود اپنے والدین کے اشاروں پر ناچنے والا کٹھ پُتلا ۔
بیشمار کیس ذاتی طور سے علم میں ہیں اکثریت گورنمنٹ ٹیچرز کی ہے ۔ تنخواہ ابھی آئی نہیں ہوتی پورے پریوار کا بجٹ پہلے سے تیار ہوتا ہے کہ کتنی رقم کس مد میں خرچ ہو گی؟ خود وہ قربانی کی بکری کسی گنتی شمار میں ہی نہیں ۔ ایک کزن نے شادی کے بعد اپنی پہلی تنخواہ اپنے سسر کے ہاتھ پر رکھی بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ بیٹا! بہت صحیح وقت پر تم نے بہت سمجھداری سے کام لیا ہے پیسوں کی بہت ضرورت تھی شادی پر کافی قرض چڑھ گیا ہے ۔ پوری رقم اپنے قبضے میں کی ایک پھوٹی کوڑی بھی بہو کے ہاتھ پر نہیں رکھی ۔ پھر بزرگوار جب تک حیات رہے بہو کی کمائی اپنے کنٹرول میں رکھی بس یہ شکر ہے کہ اخلاق اچھا تھا سبھی کا اور کماؤ بہو پر اپنی بے جا خدمتوں کا بوجھ بھی نہیں ڈالا ۔ گھر میں بھی نوکرانی بنا کر رکھتے تو کوئی کیا کر لیتا ۔
جاننے والوں میں سے ایک لڑکی جتنی خوبصورت اور خوب سیرت تھی اُتنی ہی قسمت کی کھوٹی نکلی ۔ گورنمنٹ ٹیچر تھی دوران ملازمت ہی ایم اے ایم ایڈ بھی کر لیا ۔ برادری سے ہی ایک بظاہر بہت اچھا رشتہ آ گیا کوئی چھان بین کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی دھوم دھام سے شادی ہوئی ۔ اس کے بعد کی کہانی بہت طولانی و تفصیلی ہے مختصراً یہ کہ شوہر اور سسرال والے اتنے بد خلق اور شقی القلب نکلے کہ کہنے کی بات نہیں ۔ ساس نندیں انتہائی حاسد اور ٹاکسک قسم کی عورتیں تھیں جنہوں نے اتنی لائق فائق لڑکی کی زندگی عذاب کر کے رکھ دی ۔ شوہر کام کاج چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا نشئی موالی پہلے کا تھا جس کی تحقیق نہیں کی گئی تھی اور گریڈ سولہ پر کام کرنے والی بیوی کا حال کسی زر خرید کنیز سے بھی بد تر کر ڈالا اس کی پوری تنخواہ اپنے قبضے میں کر کے گالی گلوچ اور مار پیٹ الگ ۔ اِن ہی حالات میں بچے بھی ہو گئے اور لڑکی کے قدم مضبوط ہونے کی بجائے مزید کمزور ہو گئے کہ اولاد ہی پیروں کی زنجیر بن گئی کسی فیصلے پر پہنچنا مشکل ہو گیا ۔ حالات بد ترین ہو گئے ذہنی و جسمانی دونوں طرح کی اذیت سہہ سہہ کر لڑکی کے سر کے پورے بال اتر گئے اُسے رکھا ہوا بھی کسی قیدی کی طرح تھا صرف اسکول جانے اور آنے کی اجازت تھی ۔ پھر ایک روز اسے بچوں سمیت اس عقوبت خانے سے نکال لیا گیا اور بذریعہ عدالت طلاق لے لی گئی ۔ کچھ ہی عرصے بعد اس کے نابکار سابقہ شوہر کو کینسر تشخیص ہوا اور وہ بنا کسی علاج کے دو سال بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا ۔ ہم مکافات عمل پر کوئی خاص یقین نہیں رکھتے مگر ایسی ہی کوئی اکا دکا مثال ہمیں مطلق منکر ہونے سے بھی روکے رکھتی ہے کیونکہ بعد میں ساس بھی ایک انتہائی عبرتناک موت سے ہمکنار ہوئی ۔
تو لڑکیوں کو اچھی تعلیم دلانا انہیں کسی بھی ہنر میں طاق کر دینا ہی مسئلے کا حل نہیں ہے ضرورت پورے معاشرے کی اصلاح کی ہے ۔ خود کمانے والی لڑکی کو اپنی سسرال میں معاشی خود مختاری اور خود انحصاری بھی حاصل ہونی چاہیے جو کئی ایک کو نصیب نہیں ہوتی ۔ مجازی خدا ہی اسے بھکارن بنا کر رکھتا ہے اور ساتھ ہی اپنے پورے خاندان کی خادمہ بھی ۔ تعلیم اور ہنر کا بنیادی مقصد یہی نہیں ہونا چاہیے کہ خراب شادی میں خود کفالتی کا ذریعہ بنے اور کسی بھی کماؤ لڑکی کو معاشی خود مختاری شادی ختم ہونے کے بعد ہی حاصل ہو ۔ باقی بیشمار کماؤ پوت لڑکیوں کی شادی کی عمر اپنے گھرانے کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے میں نکل جاتی ہے ، ذمہ داریوں کے بوجھ تلے وہ اپنے سب خواب و خواہشات سمیت پِس کر رہ جاتی ہیں ۔ اُن کا معاشی استحکام ہی انہیں بے اختیار اور اپنے حق سے دستبردار کرنے کا سبب بن جاتا ہے خود اپنوں ہی کے بیچ تو پھر غیروں سے کیا گلہ ۔

✍🏻 رعنا تبسم پاشا
 
رعنا تبسم پاشا
About the Author: رعنا تبسم پاشا Read More Articles by رعنا تبسم پاشا: 275 Articles with 2212093 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.