ماں : وجود کی ازلی روشنی
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
کائنات کے تمام رشتوں میں اگر کسی ایک تعلق کو ازلی تقدس اور فطری حرمت حاصل ہے تو وہ ماں کا رشتہ ہے۔ یہ محض خون اور گوشت کا تعلق نہیں بلکہ احساس، دعا، ایثار اور محبت کی وہ ہمہ گیر حقیقت ہے جو انسان کے وجود کو معنی عطا کرتی ہے۔ انسان کی زندگی کا آغاز کسی کتاب، کسی استاد یا کسی تجربے سے نہیں ہوتا بلکہ ایک زندہ لمس، ایک دھڑکتے دل اور ایک مہربان آغوش سے ہوتا ہے، اور وہ آغوش ماں کی ہوتی ہے۔ یہی وہ پہلی کائنات ہے جس میں انسان سانس لیتا ہے، پہلا سکوت جس میں اس کی چیخ معنی پاتی ہے، اور پہلا لمس جس میں زندگی اپنا تعارف لکھتی ہے۔ اسی لیے انسانی تہذیب کے ارتقاء کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو کر سامنے آتی ہے کہ ماں صرف ایک خاندانی کردار نہیں بلکہ پوری تہذیب کی بنیاد ہے۔ جس معاشرے نے ماں کو احترام، وقار اور مرکزیت دی، وہاں اخلاق، محبت اور انسانیت نے فروغ پایا، اور جہاں اس رشتے کو محض ایک سماجی ذمہ داری تک محدود کر دیا گیا، وہاں روحانی خلا نے جنم لیا۔ عالمی یومِ مادر دراصل اسی ازلی حقیقت کی یاد دہانی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک پوری کائنات کو صرف ایک دن کے خراج میں سمیٹا جا سکتا ہے؟ کیا وہ ہستی جس نے اپنی ذات کو اولاد کی ذات میں گم کر دیا، صرف رسمی تعریفوں اور وقتی جذبات کی محتاج ہو سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ماں کسی دن کی نہیں، وہ ہر دن کی حقیقت ہے، ہر لمحے کی دعا ہے، اور ہر سانس کی حفاظت ہے۔ معروف شاعر عباس تابش نے ماں کے وجود کو جس سادگی مگر گہرائی سے بیان کیا، وہ اردو شاعری کی روحانی روایت کا حصہ بن چکا ہے: کلاہ و تخت سے شہزادگی بالکل نہیں مشروط کہ جب تک ماں ہو زندہ، بوئے سلطانی نہیں جاتی یہ شعر محض جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی ایک گہری حقیقت ہے۔ انسان دنیا کی ہر کامیابی حاصل کر لے، اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جائے، شہرت اور دولت کے تمام دروازے اُس پر کھل جائیں، مگر اُس کی اصل طاقت اور اصل سکون ماں کی دعا سے وابستہ رہتا ہے۔ ماں زندہ ہو تو انسان کے اندر ایک انجانا سا تحفظ موجود رہتا ہے، جیسے کوئی خاموش دعا ہر وقت اُس کے گرد حصار بنائے کھڑی ہو۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عظیم تہذیبوں کی بنیاد صرف سیاسی قوت یا معاشی ترقی نہیں تھی بلکہ خاندانی نظام کی مضبوطی تھی، اور اس نظام کا مرکز ہمیشہ ماں رہی۔ ماں نے صرف بچوں کی پرورش نہیں کی بلکہ نسلوں کی فکری اور اخلاقی تعمیر کی۔ وہ قومیں جنہوں نے ماں کے مقام کو بلند رکھا، اُن کے معاشرے اخلاقی طور پر مستحکم رہے، جبکہ جن معاشروں میں ماں کا کردار کمزور ہوا، وہاں روحانی اور اخلاقی بحران پیدا ہوا۔ آج کی جدید دنیا ترقی، ٹیکنالوجی اور مادّی آسائشوں کے باوجود شدید داخلی تنہائی کا شکار ہے۔ انسان کے پاس سہولتیں تو بے شمار ہیں مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے شور، مصنوعی تعلقات اور مشینی زندگی نے انسان کے احساس کو مضمحل کر دیا ہے۔ مغربی معاشروں میں اولڈ ہومز کی بڑھتی ہوئی تعداد اسی تہذیبی بحران کا استعارہ ہے جہاں مائیں اپنی زندگی کے آخری ایام تنہائی اور خاموش اذیت میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ بچے، جنہیں کبھی ماں نے اپنی نیندیں قربان کر کے پالا، آج اپنی مصروفیات کے باعث اُن کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ المیہ یہ ہے کہ یہی رویّے اب مشرقی معاشروں میں بھی سرایت کرتے جا رہے ہیں۔ کبھی ہمارے گھروں میں ماں کو برکت، دعا اور رحمت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اُس کی آواز گھر کی اذان محسوس ہوتی تھی، اُس کی دعا سفر کی حفاظت، اور اُس کی مسکراہٹ زندگی کی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ مگر اب مادّہ پرستی اور انفرادی آزادی کے نام پر خاندانی رشتوں کی روح کمزور ہو رہی ہے۔ نئی نسل کامیابی کو صرف دولت اور شہرت کے پیمانوں سے ناپ رہی ہے، جبکہ ماں کی خدمت اور اُس کی دعا کو ثانوی حیثیت دی جا رہی ہے۔ یہ بحران صرف اخلاقی نہیں بلکہ تہذیبی بحران ہے۔ کیونکہ تہذیبیں صرف عمارتوں، سڑکوں اور ایجادات سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اُن انسانی اقدار سے زندہ رہتی ہیں جو رشتوں کو احترام اور محبت عطا کرتی ہیں۔ اگر معاشرے سے ماں کی عظمت کا تصور کمزور ہو جائے تو دراصل انسان کے اندر سے رحم، ایثار اور محبت کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ اسلام نے ماں کو جو مقام عطا کیا، وہ انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ قرآنِ مجید نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو عبادت کے بعد سب سے بڑی نیکی قرار دیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: “جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔” اس مختصر مگر عظیم فرمان میں ایک مکمل سماجی فلسفہ پوشیدہ ہے۔ اسلام دراصل یہ واضح کرتا ہے کہ ماں کی خدمت صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ روحانی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ماں کی محبت دنیا کی واحد محبت ہے جو انسان کی ناکامیوں کے باوجود کم نہیں ہوتی۔ دنیا انسان کو اُس کی کامیابی کے پیمانوں سے جانچتی ہے، مگر ماں انسان کو اُس کے وجود سے محبت کرتی ہے۔ اگر پوری دنیا انسان کے خلاف ہو جائے تب بھی ماں کی دعا اُس کے حق میں کھڑی رہتی ہے۔ ماں کی قربانی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اُسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنی نیند قربان کرتی ہے تاکہ اولاد سکون سے سو سکے۔ وہ اپنی خواہشات دفن کرتی ہے تاکہ اولاد کے خواب زندہ رہیں۔ وہ خود دکھ سہہ لیتی ہے مگر اولاد کے چہرے پر اداسی برداشت نہیں کر سکتی۔ ایک ماں دراصل ایثار کی وہ معراج ہے جس کی مثال فطرت میں کم ملتی ہے۔ دنیا کی عظیم شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو پس منظر میں ایک عظیم ماں کی عظمت و شخصیت ضرور موجود نظر آتی ہے۔ ماں کی عظمت کسی ایک تہذیب، مذہب یا زمانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس پر انسانیت کے بڑے بڑے مفکرین، فلسفیوں اور اہلِ علم نے بھی سرِ تسلیم خم کیا ہے۔ چاہے مغرب کے فلسفی ہوں یا مشرق کے صوفی، سائنس دان ہوں یا ادیب، سب نے کسی نہ کسی انداز میں اس امر کو تسلیم کیا کہ انسان کی اخلاقی تشکیل، اس کی جذباتی تربیت اور اس کی داخلی شخصیت کی بنیاد ماں کے وجود سے وابستہ ہے۔ ماں کے کردار کو جب ہم علمی اور فکری زاویے سے دیکھتے ہیں تو یہ محض ایک گھریلو رشتہ نہیں رہتا بلکہ ایک تہذیبی ادارہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے بڑے مفکرین نے ماں کو صرف محبت کا استعارہ نہیں بلکہ انسانی تمدن کی بنیاد قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم جتنا بھی وسیع ہو جائے، فلسفہ جتنا بھی گہرا ہو جائے اور تحقیق جتنی بھی ترقی کر لے، ماں کی عظمت ایک ایسی سچائی ہے جس پر اختلاف ممکن نہیں۔
اقبالؒ جیسے فلسفی شاعر بھی جب اپنی ماں کی وفات پر قلم اٹھاتے ہیں تو اُن کے لہجے میں ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ انسان کی روحانی پناہ گاہ ہوتی ہے۔ انسان زندگی بھر دنیا کے ہجوم میں گھرا رہتا ہے، مگر ماں کی آغوش جیسا سکون اُسے کہیں اور نہیں ملتا۔ آج کے دور میں ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماں کی عظمت کو “تقریباتی کلچر” تک محدود کر دیا ہے۔ ایک دن سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹیں لکھ دینا، تصاویر شیئر کر دینا یا رسمی تحفے دے دینا کافی نہیں۔ ماں کو سب سے زیادہ ضرورت وقت، توجہ، احترام اور احساس کی ہے۔ وہ مہنگے تحائف نہیں مانگتی، بلکہ چاہتی ہے کہ اُس کی اولاد اُس کے ساتھ محبت سے بات کرے، اُس کی تنہائی کو سمجھے، اُس کے بڑھاپے کو بوجھ نہ سمجھے۔ معاشرتی سطح پر ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ماں صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود کردار نہیں بلکہ تہذیب کی معمار ہے۔ ایک ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ اُس کی شخصیت، اُس کے اخلاق، اُس کے شعور اور اُس کے انسان ہونے کی بنیاد رکھتی ہے۔ اگر مائیں باشعور، تعلیم یافتہ اور باوقار ہوں تو معاشرہ بھی اخلاقی استحکام حاصل کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو جدید علوم تو سکھا رہا ہے مگر رشتوں کی حرمت اور والدین کے احترام کا شعور کم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل ذہنی طور پر ترقی یافتہ مگر جذباتی طور پر کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنی تعلیمی اور سماجی ترجیحات میں ماں کے احترام اور خاندانی اقدار کو دوبارہ مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ منور رانا نے ماں کی عظمت کو جس سادگی سے بیان کیا، وہ ہر حساس دل کو چھو لیتا ہے: چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے یہ شعر دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ماں انسان کے لیے خدا کی رحمت کا سب سے روشن استعارہ ہے۔ ماں کے چہرے میں انسان کو دعا، محبت، سکون اور جنت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ آج جب دنیا جنگوں، نفرتوں، معاشی عدم مساوات اور ذہنی اضطراب کا شکار ہے تو انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت ماں جیسی شفقت، برداشت، ایثار اور محبت کی ہے۔ اگر معاشرے ماں کے اوصاف کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو دنیا میں نفرت کے بجائے محبت، تشدد کے بجائے رحم، اور خود غرضی کے بجائے ایثار کو فروغ مل سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ انسان اپنی پوری زندگی بھی اُس ایک رات کا حق ادا نہیں کر سکتا جو ماں نے اُس کی بیماری میں جاگ کر گزاری ہوتی ہے۔ ماں وہ دعا ہے جو انسان کے ساتھ زمین سے آسمان تک سفر کرتی ہے۔ وہ انسان کے مقدر کی خاموش محافظ ہوتی ہے۔ جب انسان زندگی کے تمام تجربات سے گزر کر پلٹتا ہے تو اسے یہ حقیقت سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھ آتی ہے کہ ماں کا رشتہ نہ صرف محبت کا سب سے خالص اظہار ہے بلکہ یہ انسان کے وجود کی سب سے مضبوط اخلاقی اور روحانی بنیاد بھی ہے۔ دنیا کی ہر کامیابی، ہر خوشی اور ہر تعلق اپنی جگہ مگر ماں کی دعا کے مقابل کوئی شے متبادل نہیں بن سکتی۔ یہی وہ ہستی ہے جو خاموشی سے انسان کی تقدیر کے گرد حفاظت کا حصار بناتی ہے، اور جس کی غیر موجودگی میں زندگی کی رونقیں بھی ادھوری محسوس ہونے لگتی ہیں۔ تہذیبیں بدل جاتی ہیں، زمانے گزر جاتے ہیں، مگر ماں کی محبت ایک ایسی ازلی حقیقت ہے جو وقت کے ہر تغیر سے ماورا رہتی ہے اور انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ |
|