ہم بنیان مرصوص ہیں

ہم بنیان مرصوص ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ۔
قرآنِ مجید کی یہ عظیم آیت اتحاد، نظم و ضبط، استقامت اور اجتماعی قوت کا ایسا تصور پیش کرتی ہے جو کسی بھی قوم کی بقا اور سلامتی کی بنیاد بن جاتا ہے۔ جب افراد اپنے ذاتی اختلافات، سیاسی وابستگیوں اور فکری تقسیم سے بلند ہو کر ایک مقصد کے لیے متحد ہوجائیں تو وہ محض ایک ہجوم نہیں رہتے بلکہ ایک ایسی مضبوط دیوار بن جاتے ہیں جسے حالات کی سختیاں اور دشمن کی سازشیں متزلزل نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ہر آزمائش میں اسی جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب بھی وطن کو بیرونی خطرات، جارحیت یا قومی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہوا، پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دی۔
برصغیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ہمیشہ حساس نوعیت کا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی کشیدگی، تنازعات اور بداعتمادی کا شکار رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر، سرحدی تنازعات، آبی مسائل اور خطے میں بالادستی کی خواہش نے دونوں ممالک کو کئی مرتبہ جنگی ماحول کی طرف دھکیلا۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا محض ایک عسکری ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا کا تقاضا بن گیا۔
حالیہ کشیدہ حالات میں ایک مرتبہ پھر خطے میں تناؤ نے شدت اختیار کی۔ 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد خطے کی فضا مزید کشیدہ ہوگئی۔ واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع نے پورے خطے کو اضطراب میں مبتلا کیا۔ اس سانحے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سفارتی سطح پر کشیدگی بڑھتی گئی اور میڈیا بیانیوں نے ماحول کو مزید سخت بنا دیا۔
بعدازاں بھارت کی جانب سے “آپریشن سندور” کے نام سے کی جانے والی عسکری کارروائی نے جنوبی ایشیا کو ایک خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا۔ پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر حملوں اور کشیدگی میں اضافے نے پورے خطے کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ ان حالات میں پاکستان نے یہ واضح کیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پوری قوم ایک مرتبہ پھر “بنیان مرصوص” کی عملی تصویر بن کر سامنے آئی۔
پاکستانی قوم کی سب سے بڑی طاقت اس کی اجتماعی قوت ہے۔ اس ملک کی بنیاد ہی قربانی، ایمان اور اتحاد پر رکھی گئی تھی۔ جب کبھی وطن پر مشکل وقت آیا، عوام نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دی۔ یہی جذبہ 1965ء کی جنگ میں دکھائی دیا، یہی جذبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آیا اور یہی عزم ہر اس موقع پر نمایاں ہوا جب دشمن نے پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
آپریشن “بنیان مرصوص” کے تناظر میں بھی پاکستانی قوم اور افواج کے درمیان غیر معمولی یکجہتی دیکھنے میں آئی۔ عوام نے اپنی مسلح افواج پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے قومی دفاع کے عزم کو اجاگر کیا۔ پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات، سیاسی حلقوں، مذہبی قیادت، میڈیا اور نوجوان نسل نے اس موقع پر اتحاد و یگانگت کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا۔
پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی پیشہ ور افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ بری فوج، بحریہ اور فضائیہ تینوں ادارے جدید عسکری تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، سائبر صلاحیت اور فضائی برتری اس میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی دفاعی حکمت عملی کو انہی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستانی فضائیہ خصوصاً اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردعمل کی صلاحیت کے باعث عالمی سطح پر توجہ حاصل کرتی رہی ہے۔ 2019ء میں پیش آنے والے واقعات کے بعد دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کا دفاع کیا بلکہ محدود وسائل کے باوجود عسکری توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔ ان واقعات کے بعد قومی سطح پر دفاعی اعتماد میں اضافہ ہوا اور نوجوان نسل کے اندر وطن سے وابستگی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا۔
پاکستان کے دفاعی نظام کی بنیاد صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ ایک واضح نظریاتی اور تزویراتی حکمت عملی پر قائم ہے۔ “قابلِ اعتبار کم از کم بازداریت” کی پالیسی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد جنگ کو روکنا اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان کے ایٹمی تجربات نے جنوبی ایشیا میں ایک نئے توازن کو جنم دیا۔ اس کے بعد پاکستان کی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی اور دشمن کو یہ پیغام ملا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
جدید دور میں میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر دفاع جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ان شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے دفاعی نظام اور جنگی ٹیکنالوجی اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک دفاعی خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق جدید دفاعی تیاری صرف جنگ جیتنے کے لیے نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے۔
آپریشن “بنیان مرصوص” کے دوران پاکستانی قوم میں یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ جب کوئی قوم اپنے دفاع، نظریے اور قومی وقار کے لیے متحد ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی اس کے شاملِ حال ہوجاتی ہے۔ پاکستانی عوام کی دعائیں، افواجِ پاکستان کا عزم، اور قومی اتحاد ایک ایسی قوت بن کر سامنے آئے جس نے قوم کے حوصلے بلند کیے۔ پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس تاثر کا اظہار کیا گیا کہ مشکل گھڑی میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوم کی یکجہتی نے ملک کے دفاع کو مضبوط بنایا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کسی بھی قوم کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیار نہیں ہوتے بلکہ اس کے عوام کا حوصلہ، اعتماد اور قومی یکجہتی ہوتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ قدرتی آفات ہوں، دہشت گردی کا خطرہ ہو یا بیرونی دباؤ، پاکستانی قوم نے ہمیشہ ثابت کیا کہ وہ مشکلات کے سامنے جھکنے والی قوم نہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے “بنیان مرصوص” کہا جاسکتا ہے؛ یعنی ایک ایسی متحد قوم جو اختلافات کے باوجود اپنے قومی مفاد پر متفق ہو۔
میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی قومی بیانیے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جدید دور میں اطلاعات کی جنگ اتنی ہی اہم ہوچکی ہے جتنی روایتی جنگ۔ جھوٹی خبروں، پروپیگنڈے اور نفسیاتی دباؤ کے ماحول میں قومی شعور، ذمہ دار صحافت اور مستند معلومات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ پاکستانی میڈیا نے کئی مواقع پر قومی مفاد کے تحفظ اور عوامی حوصلے کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ اس میدان میں مزید ذمہ داری اور احتیاط کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
خطے کی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ سفارت کاری کو فروغ دیا جائے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی امن تک پھیل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بھی ہمیشہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیتی رہی ہے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام تنازعات کا حل مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ تاہم ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار ریاست امن چاہتی ہے، مگر اپنی خودمختاری، سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
پاکستان کی اقلیتوں نے بھی ہمیشہ قومی دفاع اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ملک مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے۔ دفاعِ وطن کے معاملے میں پاکستانی قوم کی یہی یکجہتی اس کی اصل طاقت ہے۔ جب قوم کا ہر فرد خود کو اس سرزمین کا محافظ سمجھنے لگے تو دشمن کے لیے اس کے حوصلے کو توڑنا ممکن نہیں رہتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قومی یکجہتی، معاشی استحکام، تعلیمی ترقی اور سائنسی تحقیق کو اپنی ترجیحات بنائیں۔ مضبوط معیشت، جدید تعلیم اور سیاسی استحکام ہی کسی بھی ملک کی حقیقی دفاعی طاقت ہوتے ہیں۔ اگر قوم اندرونی انتشار، نفرت اور تقسیم کا شکار ہوجائے تو بیرونی خطرات سے نمٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لیے “ہم بنیان مرصوص ہیں” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی فکر ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ قومیں صرف جنگی میدانوں میں نہیں بلکہ کردار، علم، اتحاد اور نظم و ضبط سے بھی مضبوط بنتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ آزمائش کے وقت متحد ہو کر کھڑی ہوسکتی ہے۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل قوت ہے اور یہی اس کی بقا کی ضمانت بھی۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، عالمی سیاست نئے رخ اختیار کر رہی ہے اور خطے میں طاقت کے نئے توازن تشکیل پا رہے ہیں، پاکستان کو بھی قومی بصیرت، داخلی استحکام اور دفاعی تیاری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں نفرت کے بجائے اعتماد، تقسیم کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے امید کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو مضبوط، باوقار اور ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔
پاکستان ایک نظریے، قربانی اور جدوجہد کا حاصل ہے۔ اس کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا قومی فرض ہے۔ جب قوم اپنے اداروں پر اعتماد کرے، اپنے اختلافات کو قومی مفاد کے تابع رکھے اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے متحد ہوجائے تو وہ واقعی “بنیان مرصوص” بن جاتی ہے؛ ایک ایسی مضبوط دیوار جسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ 
Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 59 Articles with 20264 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.