اخلاقیات سے محروم جدید معاشرہ

انسانی تہذیب کی بقا ہمیشہ اعلیٰ اخلاقی اقدار سے وابستہ رہی ہے۔ سچائی، دیانت داری، عدل، برداشت، احترامِ انسانیت اور احساسِ ذمہ داری وہ سنہری اصول ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مہذب، پرامن اور مستحکم بناتے ہیں۔ جب یہ اقدار کمزور پڑنے لگیں تو معاشرہ اخلاقی انحطاط، فکری انتشار اور سماجی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کا جدید انسان اگرچہ سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کی بلند ترین منازل طے کر چکا ہے، مگر اخلاقی اعتبار سے شدید تنزلی کا سامنا کر رہا ہے۔ مادہ پرستی، خود غرضی، عدم برداشت، خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، بدعنوانی، اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات نے انسانی اقدار کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا ترقی یافتہ ہونے کے باوجود ذہنی بے سکونی، سماجی بے اعتمادی اور اخلاقی بحران کا شکار نظر آتی ہے۔
اخلاقی زوال سے مراد معاشرے میں اعلیٰ انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کا کمزور ہونا ہے۔ جب افراد ذاتی مفاد کے لیے سچائی، انصاف، ہمدردی اور امانت داری کو قربان کرنے لگیں تو معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھتا ہے۔ موجودہ دور میں جھوٹ، دھوکہ دہی، رشوت، اقربا پروری، نفرت انگیزی اور عدم برداشت عام ہو چکے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں سیاسی کرپشن اور مالیاتی اسکینڈلز اس اخلاقی بحران کی واضح مثال ہیں۔ مثال کے طور پر مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق کرپشن ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں نقل، جعلی اسناد اور میرٹ کی پامالی نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت پر سوالیہ نشان ہیں۔
اخلاقی زوال کی بنیادی وجوہات میں مادہ پرستی سرفہرست ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کی کامیابی کو دولت، عیش و عشرت اور ظاہری نمود و نمائش سے جوڑ دیا ہے۔ آج ایک فرد کی عزت اور مقام کا تعین اس کے کردار سے زیادہ اس کی مالی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ دولت کی اندھی دوڑ نے انسان کو لالچی اور خود غرض بنا دیا ہے۔ لوگ دولت کے حصول کے لیے رشوت، فراڈ، ذخیرہ اندوزی اور استحصال جیسے غیر اخلاقی ذرائع اختیار کرنے لگے ہیں۔ عالمی سطح پر مالیاتی بدعنوانی، ٹیکس چوری اور کارپوریٹ فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
خاندانی نظام کی کمزوری بھی اخلاقی انحطاط کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ماضی میں خاندان بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کا سب سے مؤثر ادارہ ہوتے تھے، جہاں احترام، صبر، ایثار اور برداشت جیسی اقدار سکھائی جاتی تھیں۔ لیکن جدید مصروف زندگی، معاشی دباؤ اور مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید نے خاندانی رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔ والدین بچوں کو وقت دینے کے بجائے انہیں موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹی وی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً نئی نسل جذباتی عدم توازن، بدتمیزی اور بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔ مغربی معاشروں میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح، اولڈ ہاؤسز کا رواج اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ اس بحران کی نمایاں مثالیں ہیں۔
سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے، مگر اس کے منفی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے نوجوان نسل کو مصنوعی زندگی، جھوٹی شہرت اور دکھاوے کی دوڑ میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر فحاشی، نفرت انگیز تقاریر، جعلی خبریں اور سائبر بُلنگ جیسے رجحانات معاشرتی اقدار کو تباہ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی ممالک میں نوجوانوں میں ڈپریشن، اضطراب اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی طرح “وائرل ہونے” کی خواہش نے نوجوانوں کو خطرناک اور غیر اخلاقی حرکات کی طرف مائل کر دیا ہے۔
اخلاقی اور دینی تعلیم کی کمی بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ جدید تعلیمی نظام زیادہ تر سائنسی، تکنیکی اور معاشی مہارتوں پر زور دیتا ہے جبکہ کردار سازی کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ تعلیمی ادارے اچھے انسان بنانے کے بجائے صرف کامیاب پیشہ ور افراد تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بڑھنے کے باوجود جرائم، کرپشن اور عدم برداشت میں کمی نہیں آ رہی۔ C. S. Lewis کا یہ قول اس صورتحال کی بہترین عکاسی کرتا ہے:

“اخلاقی اقدار کے بغیر تعلیم انسان کو زیادہ چالاک شیطان بنا دیتی ہے۔”
بدعنوان قیادت اور کمزور ادارے بھی اخلاقی زوال کو فروغ دیتے ہیں۔ جب حکمران طبقہ خود قانون شکنی، اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث ہو تو عوام میں بھی قانون اور اخلاقیات کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں قیادت ایماندار اور جوابدہ ہو۔ اسکینڈینیوین ممالک جیسے Norway اور Sweden کی ترقی کی ایک بڑی وجہ شفاف نظامِ حکومت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار ہیں، جبکہ بدعنوانی کا شکار ممالک معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہتے ہیں۔
اخلاقی زوال کے اثرات نہایت تباہ کن ہیں۔ یہ نہ صرف جرائم، تشدد اور انتہا پسندی کو جنم دیتا ہے بلکہ معاشرتی اعتماد کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو دیں تو معاشرہ خوف، نفرت اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اخلاقی کمزوری ذہنی دباؤ، تنہائی اور نفسیاتی مسائل کو بھی بڑھاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ذہنی امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ جدید معاشرتی بے حسی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔
تاہم اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ اجتماعی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے خاندانی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ بچوں کی بہتر اخلاقی تربیت ہو سکے۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات، کردار سازی اور سماجی ذمہ داری کے مضامین کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو تعمیری اور اخلاقی سوچ فراہم کی جا سکے۔ مذہبی اور روحانی تعلیمات کو عام کرنا بھی ناگزیر ہے کیونکہ مذہب انسان کو انصاف، صبر، محبت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ حکومت کو بدعنوانی کے خاتمے، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
بعض دانشور یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اخلاقی اقدار ختم نہیں ہو رہیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہیں۔ بلاشبہ معاشرتی تبدیلی ایک فطری عمل ہے، لیکن جب جھوٹ، بے حیائی، بدعنوانی، عدم برداشت اور خود غرضی معمول بن جائیں تو یہ صرف تبدیلی نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط کہلاتا ہے۔ ترقی اگر اخلاقیات سے خالی ہو تو وہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔
Mahatma Gandhi نے بجا طور پر کہا تھا:
“کسی قوم کی عظمت اور اس کی اخلاقی ترقی کا اندازہ اس کے لوگوں کے رویّوں سے لگایا جا سکتا ہے۔”
اسی طرح Allama Muhammad Iqbal نے فرمایا:
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاقی زوال جدید معاشرے کا ایک نہایت سنگین اور ہمہ گیر مسئلہ ہے۔ مادہ پرستی، سوشل میڈیا کا منفی استعمال، خاندانی نظام کی کمزوری، کرپشن اور اخلاقی تعلیم کی کمی نے انسانی اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر معاشرے کو امن، انصاف، استحکام اور حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اخلاقی تربیت، کردار سازی اور انسانی اقدار کے فروغ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا، کیونکہ مضبوط اخلاق ہی مضبوط قوموں کی حقیقی بنیاد ہوتے ہیں۔قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
 
Faisal Karim
About the Author: Faisal Karim Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.