سولر انرجی: امید یا نئی رکاوٹیں؟
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
پاکستان اس وقت جس معاشی اور توانائی بحران سے گزر رہا ہے، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بل متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مستقل پریشانی بن چکے ہیں۔ گھروں کے بجٹ ہوں یا صنعتی لاگت، ہر جگہ توانائی کے اخراجات نے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں جب لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سولر انرجی کی طرف رخ کیا تو یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب کچھ ریلیف ملے گا اور بجلی کے بحران پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے گا۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومتوں کی جانب سے بھی متبادل توانائی کے فروغ کی بات کی جاتی رہی۔ نتیجتاً مارکیٹ میں سولر سسٹمز کا رجحان تیزی سے بڑھا۔ شہریوں نے اپنی جمع پونجی، زیورات، حتیٰ کہ قرض لے کر بھی گھروں اور کاروباروں کے لیے سولر سسٹمز نصب کروائے۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف بچت نہیں بلکہ ایک امید بھی تھی کہ اب وہ مہنگی اور غیر مستحکم بجلی سے کسی حد تک آزاد ہو سکیں گے۔ اسی دوران نیٹ میٹرنگ کا نظام متعارف ہوا جس نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت سولر صارفین اپنی اضافی پیدا کردہ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں مالی ریلیف دیا جاتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا بلکہ قومی گرڈ پر دباؤ کم کرنے میں بھی معاون رہا۔ نتیجتاً ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ سولر انرجی کی طرف متوجہ ہوئے۔ تاہم حالیہ عرصے میں NEPRA کی جانب سے نیٹ میٹرنگ اور لائسنسنگ سے متعلق مجوزہ تبدیلیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے نرخوں میں کمی، اضافی شرائط یا پیچیدہ لائسنسنگ جیسے اقدامات کی خبریں عوام میں بے چینی پیدا کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک پالیسی عوام کو توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف راغب کرتی ہے تو پھر اچانک اس کے راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں؟ اگر کوئی شہری اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے سولر سسٹم لگاتا ہے، ماحول دوست توانائی پیدا کرتا ہے اور قومی گرڈ پر بوجھ کم کرتا ہے تو اسے سہولت ملنی چاہیے یا مشکلات؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں توانائی بحران ایک طویل عرصے سے جاری ہے، وہاں سولر انرجی کوئی لگژری نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پالیسیوں کا تسلسل ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوام کو کسی سمت راغب کیا جاتا ہے، وہ اس میں سرمایہ کاری کر دیتے ہیں، اور پھر اچانک قوانین تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال کا سب سے بڑا نقصان عوام کے اعتماد کو پہنچتا ہے۔ ساتھ ہی سولر انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں انجینئرز، ٹیکنیشنز اور چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب پالیسیوں میں استحکام نہ ہو تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ نہ صرف نئی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے بلکہ پہلے سے موجود صارفین بھی اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ توانائی جیسے حساس شعبے میں اس قسم کی غیر یقینی صورتحال ملک کی مجموعی معاشی سمت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ترقی یافتہ ممالک قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینے کے لیے اپنے شہریوں کو سبسڈی، ٹیکس میں رعایت اور آسان قرضے فراہم کر رہے ہیں۔ چین، یورپ اور امریکہ جیسے ممالک بڑے پیمانے پر سولر اور ونڈ انرجی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مستقبل صاف اور سستی توانائی سے وابستہ ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع موسم اور فضائی آلودگی پہلے ہی بڑے چیلنجز ہیں۔ ایسے میں اگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ شکنی کی جائے تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ماحول بھی مزید دباؤ کا شکار ہوگا۔ NEPRA اور حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ توانائی کے بحران کا حل عوام پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ اگر نیٹ میٹرنگ کے نظام میں واقعی کوئی مالی یا تکنیکی مسائل موجود ہیں تو ان کا حل سخت فیصلوں کے بجائے مشاورت اور متوازن پالیسی سازی کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ اس عمل میں توانائی ماہرین، سولر انڈسٹری کے نمائندگان اور صارفین کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جانا چاہیے جو نہ صرف ریاست کے مفاد میں ہو بلکہ عوام کے لیے بھی قابلِ قبول ہو۔ اچانک اور غیر واضح فیصلے ہمیشہ بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں، جو کسی بھی پالیسی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان پہلے ہی توانائی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ بجلی کی کمی، مہنگی پیداوار اور ترسیلی نقصانات جیسے مسائل طویل عرصے سے موجود ہیں۔ ایسے میں سولر انرجی ایک ریلیف کے طور پر سامنے آئی، جس نے نہ صرف گھریلو صارفین کو سہارا دیا بلکہ صنعتی شعبے کو بھی کسی حد تک سہولت فراہم کی۔ اگر اس ابھرتے ہوئے شعبے کو غیر یقینی پالیسیوں کے ذریعے متاثر کیا گیا تو اس کا نقصان پورے نظام کو ہوگا۔ نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ ملک میں گرین انرجی کے فروغ کی رفتار بھی سست پڑ جائے گی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سولر انرجی کے لیے ایک مستقل، واضح اور عوام دوست پالیسی مرتب کی جائے۔ ایسی پالیسی جو وقت کے ساتھ تبدیل نہ ہو بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر اعتماد فراہم کرے۔ صرف اسی صورت میں لوگ بغیر خوف اور ہچکچاہٹ کے اس شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھ سکیں گے۔ آخر میں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سورج کی روشنی کسی کی جاگیر نہیں۔ یہ ایک قدرتی نعمت ہے جو سب کے لیے یکساں ہے۔ اسے پیچیدہ قوانین، غیر واضح شرائط اور وقتی پالیسیوں کے حصار میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنے قدرتی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کرتی ہیں، نہ کہ انہیں عوام ہی کے لیے مشکل بنا دیتی ہیں۔ |
|