دنیا کی سپر مارکیٹ ای وو
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
دنیا کی سپر مارکیٹ ای وو تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ
چین کے تاریخی اور ترقی یافتہ صوبے زے چیانگ کے مشہور تجارتی شہر ای وو کا دوبارہ دورہ کرنے کا موقع ملا تو اس بار یہ تجربہ پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپ اور متاثر کن محسوس ہوا۔ پاکستانی سرکاری ٹی وی کے دوستوں اور چند چینی احباب کے ہمراہ ای وو انٹرنیشنل ٹریڈ مارکیٹ کا دورہ محض ایک صحافتی سرگرمی نہیں بلکہ جدید چین کی تجارتی قوت کو قریب سے دیکھنے کا ایک عملی تجربہ تھا۔ اس دوران نہ صرف مختلف تجارتی مراکز کا مشاہدہ کیا بلکہ خریداری کا بھی موقع ملا، جہاں دنیا بھر کی بے شمار مصنوعات ایک ہی مقام پر دستیاب دکھائی دیں۔
ای وو کو اکثر “دنیا کی سپر مارکیٹ” کہا جاتا ہے اور جب کوئی اس شہر کی تجارتی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھتا ہے تو یہ لقب بالکل درست محسوس ہوتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر جدید طرز کی آرائشی اشیاء، ملبوسات، جوتے، کھلونے، الیکٹرانکس، ہارڈ ویئر، گھریلو سامان، اسٹیشنری، دستکاری اور بے شمار مصنوعات یہاں ایک ہی چھت تلے دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ای وو آج دنیا کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ای وو انٹرنیشنل ٹریڈ مارکیٹ کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں تقریباً 80 ہزار دکانیں اور اسٹورز موجود ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ آٹھ گھنٹے صرف کرے اور ہر دکان پر تین منٹ رکے تو پوری مارکیٹ دیکھنے میں ایک سال سے زائد عرصہ درکار ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے ہزاروں تاجر روزانہ یہاں آتے ہیں اور کاروباری معاہدے کرتے ہیں۔
ای وو کی معیشت صرف مقامی تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر عالمی تجارتی نیٹ ورک کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ای وو کی مجموعی درآمدات و برآمدات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ سرحد پار ای کامرس اور ڈیجیٹل تجارت نے بھی شہر کی معیشت کو نئی رفتار دی۔ آج ای وو کی مصنوعات دنیا کے دو سو سے زائد ممالک اور خطوں تک پہنچ رہی ہیں۔
یہ شہر “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ” کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ چین یورپ ریلوے ایکسپریس کے ذریعے ای وو سے یورپ، وسط ایشیا اور دیگر خطوں تک باقاعدہ مال بردار ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ ای وو سے روانہ ہونے والی بین الاقوامی ریل گاڑیوں نے تجارتی لاجسٹکس کو مزید تیز، سستا اور مؤثر بنا دیا ہے۔
دورے کے دوران سب سے زیادہ متاثر کن پہلو یہ محسوس ہوا کہ ای وو کی مارکیٹ صرف روایتی تجارت پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ یہاں ڈیجیٹل معیشت اور لائیو اسٹریمنگ تجارت کو بھی بھرپور فروغ دیا جا رہا ہے۔ متعدد دکانوں میں لائیو براڈکاسٹنگ اسٹوڈیوز قائم ہیں جہاں میزبان مختلف مصنوعات دنیا بھر کے خریداروں کو براہِ راست متعارف کرا رہے تھے۔ ای کامرس پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل ادائیگی کے جدید نظام نے کاروبار کو مزید آسان اور عالمی سطح پر مربوط بنا دیا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ای وو میں فعال کمپنیوں نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، مصنوعات کے معیار، جدید ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ای وو کی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسلسل اپنی جگہ مضبوط کر رہی ہیں۔
مارکیٹ میں گھومتے ہوئے مختلف ممالک سے آئے تاجروں کو دیکھنا بھی ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ عرب ممالک، افریقہ، وسط ایشیا، یورپ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کاروباری افراد یہاں مستقل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ بہت سے غیر ملکی تاجروں نے یہاں دفاتر اور کاروباری مراکز قائم کر رکھے ہیں، جس سے ای وو ایک حقیقی بین الاقوامی تجارتی شہر بن چکا ہے۔
خریداری کے دوران یہ احساس بھی نمایاں طور پر ابھرا کہ چینی مصنوعات کے معیار، ڈیزائن اور پیکیجنگ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ اب “میڈ اِن چائنا” صرف کم قیمت مصنوعات کی علامت نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، جدت اور عالمی معیار کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
ای وو کی کامیابی صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ لاجسٹکس، ایکسپریس ڈلیوری، گودام سازی، ای کامرس، مالیاتی خدمات اور سپلائی چین کے دیگر شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شہر چین کی نجی معیشت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی کامیاب مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دورے کے اختتام پر یہی محسوس ہوا کہ ای وو محض ایک تجارتی شہر نہیں بلکہ جدید چین کی معاشی حرکیات، صنعتی طاقت، اختراعی صلاحیت اور عالمی رابطہ کاری کی عملی تصویر ہے۔ دنیا بھر کے تاجروں کے لیے یہ شہر آج بھی امید، مواقع اور کاروباری وسعت کی علامت ہے، جبکہ چین کے لیے ای وو عالمی تجارت میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور معاشی اعتماد کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ |
|