اقبال دردِ دل رکھنے والے رہنما


قوم جو 1920ء تک تقریباً خواب غفلت میں ڈوبی تھی۔ ان کی زیادہ سے زیادہ دوڑ انگریزحاکموں کو درخواستیں ارسال کرنے اور ایک دوسرے کی شکایتیں کرنے تک تھی۔ مسلمان انگریزوں سے ڈرے اور مستقبل میں ہندو اکثریت سے سہمے ہوئے تھے۔ ان کی کوئی منزل تھی نہ کوئی واضح نصب العین۔ علامہ اقبالؒ نے قوم کو جھنجھوڑا، جگایا اور ان کے ہاتھ میں اپنی شناخت، اپنے حقوق اور آزادی کا پرچم تھمایا

اقبال دردِ دل رکھنے والے رہنما
تحریر: طارق محمود مرزا۔ آسٹریلیا
1935 ء سے علامہ بیماری اور ضُعف سے صاحبِ فراش ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود وہ اپنے مقاصد سے دستبردار نہیں ہوئے تھے۔ انھیں وقت کی نزاکت کا بخوبی احساس تھا۔ علامہ کو یہ بھی احساس تھا کہ مسلمانانِ ہند کو ایسے قائد کی ضرورت ہے جو انھیں منزلِ مقصود تک پہنچا سکے۔ پورے ہندوستان میں انھیں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آیا جو اس ڈوبتی نیا کو بچا کر کنارے پر لے جا سکے۔ جو اس بد قسمت قوم کو غلامی کی زنجیروں سے بچا سکے۔ کیونکہ اس وقت مسلم رہنماؤں میں اتفاق و اتحاد ناپید تھا۔ وہ ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔ مسلم لیگ 1930ء کے بعد سے مردہ جسم بن چکی تھی۔ اس کی جگہ مسلم کانفرنس نے لے لی تھی جو اب تک علامہ اقبال کی قیادت کی وجہ سے فعال کردار ادا کرتی رہی تھی۔ مگر اب جب کہ وہ صاحبِ فراش ہو چکے تھے تو اسلامیانِ ہند بے ملاح کی کشتی کے مسافر جیسے تھے جسے موسم کے تھپیڑے جدھر چاہے لے جا سکتے تھے۔
قوم کا درد محسوس کرنے والے علامہ اقبال ؒکے لیے یہ صورتِ حال ناقابل برداشت تھی۔ لہٰذا انھوں نے اس دور میں مسلمانوں کے سب سے مخلص اور بہترین رہنما محمد علی جناح سے رابطہ کیا جو مسلمان رہنماؤں کے طرزِ عمل سے برگشتہ ہو کر ملک چھوڑ کر لندن میں مقیم ہو گئے تھے۔ محمد علی جناح ہندوستان کی سیاست سے سخت آزردہ تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے پچیس بہترین سال اس سیاست کی نذر کیے تھے مگر نہ تو کوئی تبدیلی لا سکے اور نہ کسی کو ان کی قربانیوں کا احساس تھا۔ 1906ء سے وہ کانگریس میں شامل تھے اور اسے راہِ راست پر لانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ 1913 ءمیں مولانا محمد علی جوہر کے اصرار پر مسلم لیگ میں بھی شامل ہو گئے۔ 1913ء سے 1920ء تک وہ مسلم لیگ اور کانگریس دونوں میں شامل ہندو مسلم اتحاد کے لیے سرگرداں رہے۔ مگر ان کی اتنی جانفشانی کے بعد بھی جب کانگریسی لیڈروں نے منافقت ترک نہ کی تو وہ ان سے بیزار ہو کر کانگریس سے الگ ہو گئے۔ ان کے بعد وہ مسلمانوں کے آئینی، قانونی اور سیاسی حقوق کی جنگ لڑتے رہے۔ مگر مسلم لیگ کے اندر اور دیگر مسلمان لیڈروں میں اتنا نفاق اور بدنظمی تھی کہ قائداعظم جیسا حساس اور ناک کی سیدھ میں چلنے والا اصولی اور کھرا سیاست دان اسے برداشت نہ کر سکا اور سیاست سے کنارہ کش ہو کر ملک سے باہر جا بسا۔
علامہ اقبالؒ کی مردم شناس نظر قائداعظم محمد علی جناح کی صلاحیتوں سے آگاہ تھی۔ اس لیے انھوں نے قائداعظم سے رابطہ برقرار رکھا اور انھیں وطن واپس آنے اور مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لیے بار بار کہتے رہے۔ کئی اور مسلم رہنماؤں جیسے نواب زادہ لیاقت علی خان نے بھی قائداعظم سے یہ درخواست کی۔ مگر علامہ اقبالؒ کا علمی، ادبی اور سیاسی رُتبہ اتنا بلند تھا کہ قائداعظم ان سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ لہٰذا اقبالؒ کی درخواست پرانھوں نے نے لندن میں اپنی قانونی پریکٹس کاسلسلہ ترک کیا۔ اپنی آرام دہ اور پر سکون زندگی کو خیر باد کہا اور مسلمانانِ ہند کی کشتی کا پتوار سنبھالنے ہندوستان واپس آگئے۔
گویا علامہ اقبال ؒنے مسلمانوں کے لیے جس آزاد ریاست کا مطالبہ کیا تھا اور اپنوں اور غیروں کی مخالفت کے باوجود برسوں تک عملی جدوجہد کی تھی اب اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے قائداعظم کو میدان میں لانے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ قائداعظم آغاز میں جس طرح ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے اسی طرح وہ پورے ہندوستان کے لیے جدوجہد کرنے والے قوم پرست رہنما بھی تھے۔ انھیں مسلمانوں کے حقوق کی طرف راغب کرنے میں کانگریس رہنماؤں کی دوغلی پالیسیوں کے ساتھ علامہ اقبالؒ کا کلیدی کردار تھا۔ دراصل تمام مسلمان قیادت کو مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑنے کا راستہ علامہ نے ہی دکھایا تھا۔ ہندوستان میں مسلم تشخص کو قائم رکھنے اور ان کی آزادی کے لیے جو مجاہدانہ کردار علامہ اقبال ؒنے ادا کیا وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔
1926ء سے 1934ء کے درمیان میں علامہ اقبالؒ اپنا کردار ادا نہ کرتے تو مسلمان کانگریس کی بھول بھلیوں میں آکر اپنی شناخت اور اپنا سیاسی مقام کھو بیٹھتے۔ علامہ اقبالؒ نے نہ صرف مسلمانوں کی انفرادیت مٹنے نہیں دی بلکہ مسلمان قوم کو بیدار کر کے فعال قوم بنا دیا۔
یہ وہ قوم تھی جو 1920ء تک تقریباً خواب غفلت میں ڈوبی تھی۔ ان کی زیادہ سے زیادہ دوڑ انگریزحاکموں کو درخواستیں ارسال کرنے اور ایک دوسرے کی شکایتیں کرنے تک تھی۔ مسلمان انگریزوں سے ڈرے اور مستقبل میں ہندو اکثریت سے سہمے ہوئے تھے۔ ان کی کوئی منزل تھی نہ کوئی واضح نصب العین۔ علامہ اقبالؒ نے قوم کو جھنجھوڑا، جگایا اور ان کے ہاتھ میں اپنی شناخت، اپنے حقوق اور آزادی کا پرچم تھمایا۔ علامہؒ کی بصیرت نے قوم کے نصب العین کا تعین کیا اور ان کی انقلابی شاعری نے ملت کا لہو گرم کیا۔ یوں یہ ایک ایسی قوم بن کر اُبھری جس نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ لیا۔
اس مضمون سے یہ نہ سمجھا جائے کہ تخلیقِ پاکستان میں قائداعظم کا کردار کم تھا۔ قائداعظم پاکستان کے معمار ہیں اس میں کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ مگر اس عمارت کی اہمیت و افادیت اُجاگر کرنے اور اس کے خد و خال بیان کرنے والی شخصیت حضرت علامہ اقبال کی تھی۔ تحریکِ پاکستان اگر ایک ریلے ریس تھی تو اس دوڑ میں کبھی علامہ اقبال نے پرچم تھامے رکھا اور کبھی قائداعظم محمد علی جناح کے ہاتھ میں جھنڈا رہا۔ یوں یہ ٹیم ورک تھا۔ علامہ اقبالؒ اگر حضرت قائداعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف تھے تو قائداعظم بھی علامہ اقبال کو ایسا رہنما مانتے تھے جو مشکل سے مشکل وقت میں چٹان کی طرح جما رہتاہے اور اس کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آتی۔ علامہ اقبال نے قائد اعظم کے بارے میں فرمایا:
’’He( Jinnah) is incorruptible and Unpurchaseable‘‘
قائداعظم جو بلحاظ پیشہ وکیل تھے اور نپے تلے الفاظ ادا کرتے تھے انھوں نے علامہ اقبال کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
"to me,he is friend,guide,philospher,during the darkest moments through which the Muslim League had to go, he stood like a rock and never flinched for one single moment"
’’ ترجمہ:۔ وہ دوست، رہنما، فلسفی ہے ۔ مسلم لیگ کے تاریک ترین لمحات میں وہ ایک چٹان کی طرح قائم رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی ان میں جھکاؤ نہیں آیا۔ ‘‘
درحقیقت قدرت جب کسی خطے اور اس کے عوام کی قسمت بدلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لیے اسباب و وسائل کا بھی اہتمام کرتی ہے ۔ ربّ کائنات نے جب مملکت خداداد (پاکستان) کے قیام کا فیصلہ کیا تو انیسویں صدی کے ساتویں عشرے میں ارضِ ہندوستان پر یکے بعد دیگرے دو ایسی عظیم شخصیات ورودکیں جنھوں نے آگے چل کر اپنے فکر و فن، قائدانہ صلاحیتوں اور نورِبصیرت سے اس ملک کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ ان دونوں کی تاریخ پیدائش میں صرف گیارہ ماہ کا فرق ہے۔ ان میں سے ایک قائد اعظم محمد علی جناح اور دوسرے حکیم الا ُمّت علامہ محمد اقبال تھے۔ ان دونوں نابغہ شخصیات میں کئی ایسی قدریں مشترک تھیں جو صرف عظیم ترین لوگوں کا خاصّہ ہیں۔ قائداعظم کے اصول تھے، اتحاد، ایمان اور تنظیم اور علامہ اقبالؒ کا ایمان تھا :
یقینِ محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
قائداعظم اگر سچائی، راست بازی اور عزمِ صمیم جیسی بلند صفات کے مالک تھے تو اقبالؒ کا فرمان تھا :
نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
یہ دونوں ایسی نابغہ روزگار شخصیات تھیںجو صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے علم و فضل اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ اپنی جدو جہد اور قائدانہ صلاحیتوں سے خطے کا جغرافیہ ہی بدل ڈالا، وہ بھی سیاسی اور قانونی طریقے سے ۔ ایک نے نئی مملکت کا خواب دیکھا اور پھر اس کا سنگِ بنیا د رکھا ۔ دوسرے نے تن تنہا یہ عظیم مملکت دُنیا کے نقشے پر لا کھڑی کی ۔ دنیا حیران ہے کہ کوئی ایک شخص اکیلے یہ کارنامہ کیسے انجام دے سکتا ہے ۔ مگر جس کا نام محمد بھی ہے اور علی بھی ، اس کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے۔ اس کا اعترف اس کے بد ترین مخالف بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس مردِ آہن نے ان میں سے کسی ایک کی بھی نہیں چلنے دی۔
1934 ء میں قائداعظم لندن سے واپس آئے تو انھیں مسلم لیگ کا تا حیات صدر چن لیا گیا مگر مسلم لیگ کی حالت اس وقت نہایت خستہ تھی اور قائداعظم کو بے شمار چیلنج درپیش تھے۔ ان حالات میں قائداعظم اور علامہ اقبال کے درمیان خطوط کا تبادلہ قائم رہا اور علامہ نے ہر موقع پر قائداعظم کی پشت پناہی کی۔ علاوہ ازیں اپنے ادبی اور سیاسی تعلقات کو بروئے کار لا کر مسلم لیگ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں قائداعظم کی پوری معاونت کی۔ 1938ء کے انتخابات میں کانگریس کو واضح کامیابی ہوئی اور چھے صوبوں میں ان کی حکومت قائم ہوئی۔ ان صوبوں میں کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔ اس سے مسلم لیگ کو دوبارہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ دھیرے دھیرے چھوٹی مسلم جماعتیں مسلم لیگ کا حصہ بن گئیں اور قائداعظم محمد علی جناح کا ستارہ بلندی پر چمکنے لگا۔ قائداعظم کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے علالت کے باوجود علامہ اقبال نے پنجاب مسلم لیگ کی صدارت سنبھالے رکھی۔

 

Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 61 Articles with 60928 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.