اردو سائنسی ادب کی روایت اور ارتقا
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
|
اردو ادب کی تاریخ محض شعری جمالیات، رومانوی احساسات اور تہذیبی اقدار کی تاریخ نہیں بلکہ یہ انسانی شعور، فکری ارتقا اور علمی بیداری کی تاریخ بھی ہے۔ اردو زبان نے اپنے ارتقائی سفر میں زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو اپنے دامن میں سمیٹا اور ہر دور کے فکری میلانات کو جذب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں جہاں مذہبی، اخلاقی، فلسفیانہ اور سماجی موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں وہاں سائنسی اور فنی شعور کی جھلک بھی مختلف صورتوں میں موجود رہی ہے۔ اگرچہ اردو میں باقاعدہ سائنسی ادب کی روایت نسبتاً تاخیر سے مستحکم ہوئی، تاہم اس کے ابتدائی نقوش قدیم فنی اور علمی متون میں مل جاتے ہیں اور یہی ابتدائی نقوش بعد ازاں اردو کے سائنسی ادب کی بنیاد بنے۔ اردو میں سائنسی اور فنی شعور کے اولین آثار موسیقی، طب، فلکیات اور حساب سے متعلق تحریروں میں ملتے ہیں۔ اس ضمن میں راگ بلاول کو ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کا سال 1591ء بتایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر فنِ موسیقی سے متعلق کتاب ہے، تاہم موسیقی کے رموز و اسرار، سُروں، آہنگ اور فنی اصولوں کی منظم اور اصولی تدوین اپنے اندر ایک سائنسی اور فنی طرزِ فکر رکھتی ہے۔ اسی بنا پر اسے اردو میں فنی اور سائنسی ادب کے ابتدائی نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں موسیقی کے قواعد و ضوابط کو جس انداز سے مرتب کیا گیا وہ محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ مشاہدہ، تجربہ اور فنی تجزیے پر مبنی علمی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ موسیقی بنیادی طور پر ریاضیاتی تناسب، صوتی ارتعاش اور آہنگی اصولوں سے وابستہ فن ہے، اس لیے اس کی فنی تدوین دراصل ایک سائنسی ذہن کی نمائندگی کرتی ہے۔ چنانچہ “راگ بلاول” کو اردو کے ابتدائی فنی و سائنسی شعور کی علامت سمجھنا بے جا نہیں۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں اردو زبان اگرچہ زیادہ تر شعری اظہار کا وسیلہ تھی، تاہم اسی دور میں علمی اور فنی موضوعات پر بھی تحریریں سامنے آنے لگیں۔ طب، نجوم، عملیات اور موسیقی سے متعلق متعدد رسائل اور مخطوطات لکھے گئے جن میں مشاہداتی اور تجرباتی اندازِ فکر پایا جاتا تھا۔ اگرچہ ان تحریروں میں جدید سائنس کی باقاعدہ اصطلاحات موجود نہیں تھیں، تاہم ان میں علم کو منظم اور اصولی انداز میں مرتب کرنے کی کوشش ضرور ملتی ہے۔ اٹھارویں صدی تک آتے آتے اردو نثر کا دائرہ وسیع ہونا شروع ہوا اور علمی و معلوماتی موضوعات بھی نثر کا حصہ بننے لگے۔ یہی وہ دور تھا جب اردو زبان نے محض جذباتی اظہار کے بجائے علمی اظہار کی طرف پیش رفت کی۔ اٹھارویں صدی میں سائنسی ادب کے ابتدائی خدوخال زیادہ واضح صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس زمانے میں ہندوستان میں سیاسی اور تہذیبی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے ساتھ ساتھ یورپی اثرات بڑھ رہے تھے اور مغرب کے سائنسی علوم ہندوستان میں متعارف ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ اس وقت تک سائنس کی تدریس منظم انداز میں عام نہ تھی، تاہم علمی حلقوں میں فلکیات، جغرافیہ، طب اور ریاضی کے مباحث موجود تھے۔ اسی عہد میں علمی تراجم کا رجحان بھی پیدا ہوا اور فارسی و عربی کے ذریعے یونانی اور یورپی علوم اردو دنیا تک پہنچنے لگے۔ اس طرح اردو زبان میں سائنسی شعور کی ابتدائی بنیادیں استوار ہوئیں۔ برصغیر میں سائنسی شعور کی ترویج میں دکن کو ایک اہم مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔ دکن کی ریاستوں میں علمی سرگرمیوں کا ایک مضبوط نظام موجود تھا جہاں طب، فلکیات، موسیقی اور دیگر فنی علوم کو منظم انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ دکن میں اردو نثر نے ابتدائی طور پر زیادہ سادہ اور عملی شکل اختیار کی جس نے بعد میں سائنسی اسلوب کے لیے بنیاد فراہم کی۔ اسی طرح عہدِ اودھ میں بھی علمی سرپرستی کا ایک سلسلہ موجود رہا جس نے سائنسی اور فنی تراجم کی حوصلہ افزائی کی۔ لکھنؤ کے علمی ماحول میں زبان کی نزاکت کے ساتھ ساتھ علمی موضوعات کو بھی جگہ دی گئی اور اسی دور میں متعدد علمی تراجم سامنے آئے۔ اس علمی روایت میں سید کمال الدین حیدر لکھنوی کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے جنہوں نے سائنسی موضوعات پر متعدد تراجم کیے۔ ان کے تراجم نے مغربی سائنسی تصورات کو اردو زبان میں منتقل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف مفہوم کی درست ترسیل ملتی ہے بلکہ اصطلاح سازی کی ابتدائی کوششیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اردو سائنسی ادب کے لیے ایک فکری بنیاد فراہم کی جس پر بعد کے مترجمین اور اہلِ علم نے عمارت تعمیر کی۔ انیسویں صدی اردو نثر کی تشکیل اور ارتقا کی صدی ہے۔ یہی وہ دور ہے جب اردو زبان نے جدید علمی اور سائنسی مباحث کے اظہار کی صلاحیت حاصل کی۔ اس صدی میں برصغیر کے سیاسی اور سماجی حالات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ انگریزوں کی آمد کے بعد مغربی علوم و فنون تیزی سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور ایک نئے علمی نظام کی بنیاد پڑی۔ اس صورتحال نے مسلمانوں کو علمی بحران سے دوچار کیا اور جدید تعلیم کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا۔ 1841ء میں دہلی کالج کے قیام نے اردو سائنسی ادب کی تاریخ میں ایک انقلابی کردار ادا کیا۔ اس ادارے نے نہ صرف جدید علوم کی تدریس کو فروغ دیا بلکہ مغربی سائنسی کتابوں کے اردو تراجم کا ایک منظم سلسلہ بھی شروع کیا۔ دہلی کالج کے مترجمین نے طبیعیات، کیمیا، جغرافیہ اور طب جیسے علوم کی درسی کتب اردو میں تیار کیں۔ اس عمل نے اردو زبان میں سائنسی اصطلاحات کے ایک وسیع ذخیرے کو جنم دیا اور اردو نثر کو ایک واضح، سادہ اور منطقی اسلوب عطا کیا۔ انیسویں صدی میں سر سید احمد خان نے اردو سائنسی ادب کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے جدید تعلیم اور سائنسی شعور کو فروغ دیا۔ ان کے رسالے “تہذیب الاخلاق” نے اردو معاشرے میں عقلی فکر، تحقیق اور سائنسی اندازِ نظر کو فروغ دیا۔ ان کی تحریروں میں مشاہدہ، تجربہ اور استدلال کو علم کی بنیاد قرار دیا گیا جو جدید سائنسی فکر کا بنیادی اصول ہے۔ سر سید کے بعد مولوی ذکاء اللہ دہلوی، شبلی نعمانی اور دیگر اہلِ قلم نے سائنسی اور تاریخی موضوعات پر اردو میں اہم خدمات انجام دیں۔ اس دور میں تراجم کا سلسلہ وسیع ہوا اور اردو میں سائنسی اصطلاحات کی تشکیل کا عمل تیز ہوا۔ “جرثومہ”، “خلیہ”، “برقی رو”، “کششِ ثقل” اور “حرکیات” جیسی اصطلاحات اسی علمی عمل کا نتیجہ ہیں۔ اردو میں سائنسی ادب کے فروغ میں رسائل و جرائد نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مختلف علمی رسائل میں سائنسی مضامین شائع ہونے لگے جن میں انسانی جسم، زمین، کائنات اور جدید ایجادات سے متعلق معلومات فراہم کی جاتیں۔ اس طرح سائنسی شعور عام قارئین تک پہنچا۔ بچوں کے رسائل نے بھی اس میدان میں اہم کردار ادا کیا اور نئی نسل میں تجسس اور تحقیق کا جذبہ پیدا کیا۔ سائنسی ادب کی ایک اہم صنف سائنسی افسانہ ہے جس میں ادب اور سائنس کا امتزاج ملتا ہے۔ اس صنف پر ایچ جی ویلز اور جولس ورن کے اثرات نمایاں ہیں۔ اردو میں بھی اس صنف نے مستقبل کی دنیا، خلائی سفر اور سائنسی ایجادات جیسے موضوعات کو متعارف کرایا۔ سائنسی ادب کا بنیادی مقصد انسان میں سوال پیدا کرنا اور اسے تحقیق کی طرف مائل کرنا ہے۔ یہ ادب توہم پرستی کے بجائے عقلیت اور مشاہدے پر زور دیتا ہے اور انسانی ذہن کو آزادی عطا کرتا ہے۔ تاہم اردو سائنسی ادب کو ہمیشہ یہ مسئلہ درپیش رہا کہ اسے تعلیمی اداروں میں وہ مقام نہیں مل سکا جو انگریزی کو حاصل رہا۔ اس کے باوجود انجمن ترقی اردو اور دیگر اداروں نے اس روایت کو زندہ رکھا۔ عصرِ حاضر میں سائنسی ادب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ دنیا تیزی سے سائنسی اور تکنیکی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بدل دیا ہے۔ اس لیے اردو سائنسی ادب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے تاکہ اردو داں طبقہ جدید دنیا کے علمی دھارے سے جڑا رہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو میں سائنسی ادب ایک مسلسل ارتقائی سفر ہے جو ابتدائی فنی متون سے شروع ہو کر دکن، لکھنؤ، دہلی کالج، سر سید تحریک اور جدید دور تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو زبان نہ صرف جذبات و احساسات بلکہ علم، تحقیق، سائنس اور عقلی فکر کے اظہار کی بھی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور اگر اسے مناسب علمی سرپرستی حاصل ہو تو یہ جدید سائنسی دنیا میں ایک مضبوط علمی زبان کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ |
|