ماحول دوست ترقی کی جانب چین کا سفر
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
ماحول دوست ترقی کی جانب چین کا سفر تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کے تیزی سے استعمال نے حکومتوں اور معاشروں کو نئی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم کرنا اب صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ عالمی ضرورت بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں چین نے حالیہ برسوں میں ماحول دوست ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور سبز معیشت کے فروغ کو اپنی قومی پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے، جس کے مثبت نتائج مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
چین اس وقت ایسی جدیدکاری کی راہ پر گامزن ہے جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ملک میں ماحولیاتی تحفظ، آلودگی میں کمی، سبز توانائی کے فروغ اور کم کاربن معیشت کی تشکیل کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات جاری ہیں۔ اعلیٰ معیار کی ترقی کو ایک بہتر ماحول کے ساتھ جوڑتے ہوئے کاربن اخراج میں کمی، آلودگی پر قابو پانے، سبز صنعتوں کے فروغ اور معاشی ترقی کو بیک وقت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ان کوششوں کے نتیجے میں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دارالحکومت بیجنگ میں گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات کی سالانہ اوسط مقدار میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ فضائی معیار میں یہ بہتری صنعتی اصلاحات، صاف توانائی کے استعمال، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ اور آلودگی پھیلانے والی صنعتوں پر سخت نگرانی کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح بعض آبی ذخائر میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ایسی جھیلیں جو ماضی میں سبز الجی اور آلودگی کے باعث شدید ماحولیاتی مسائل کا شکار تھیں، اب دوبارہ شفاف پانی اور بہتر ماحولیاتی نظام کی مثال بن رہی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ان جھیلوں میں فاسفورس کی مقدار میں نمایاں کمی آئی جبکہ پانی کے معیار کو بھی بہتر درجہ بندی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے نزدیک بحالی کے اقدامات کے بعد ماحول پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوشگوار اور خوبصورت ہو چکا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چین نے رواں برس پہلی مرتبہ ماحولیاتی تحفظ کا جامع ضابطہ نافذ کیا ہے۔ اس نئے قانونی ڈھانچے کا مقصد ماحولیات سے متعلق قوانین کو مزید مربوط، مؤثر اور سخت بنانا ہے تاکہ سبز ترقی کے اہداف کو بہتر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔
حالیہ مہینوں میں مرکزی سطح پر ماحولیاتی نگرانی کے خصوصی معائنے بھی شروع کیے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ایک ماہ پر مشتمل ان معائنوں کا مقصد علاقائی ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن پیدا کرنا، سبز تبدیلی کے عمل کو تیز کرنا، ماحولیاتی معیار کو بہتر بنانا اور “خوبصورت چین” کے تصور کو عملی شکل دینا ہے۔
اسی سلسلے میں حکومت نے “خوبصورت چین” کی تعمیر کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی ہیں تاکہ مختلف سطحوں پر ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مارچ سے ملک بھر میں فضائی معیار کے مزید سخت معیارات نافذ کیے گئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں چھوٹے آبی ذخائر میں جمع آلودہ پانی اور دیگر ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قدرتی ماحول میں بہتری کے اثرات جنگلی حیات پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں نایاب پرندوں اور دیگر جنگلی جانوروں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ آبی وسائل کی بحالی، بہتر ماحولیاتی نگرانی اور سبز منصوبوں نے قدرتی ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چین میں زمینی وسائل کے تحفظ اور استعمال کے نظام کو بھی ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں اہم ماحولیاتی علاقوں کے تحفظ، جنگلات کے فروغ، مینگرووز کی بحالی اور سطح مرتفع کے ماحول کے تحفظ جیسے قومی منصوبوں پر مسلسل کام جاری ہے۔ بعض بڑے جنگلاتی منصوبوں کو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان سے صحرا زدگی میں کمی، مٹی کے کٹاؤ پر قابو اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
سبز توانائی کے شعبے میں بھی چین نے تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ رواں برس مارچ کے اختتام تک ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت تقریباً دو اعشاریہ چار ارب کلوواٹ تک پہنچ چکی تھی، جو ملک کی مجموعی بجلی پیداوار کی صلاحیت کا تقریباً چالیس فیصد بنتی ہے۔ سولر، ونڈ اور دیگر متبادل توانائی کے منصوبے چین کی توانائی پالیسی میں مرکزی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت سبز ترقیاتی فنڈز کے ذریعے توانائی کے مؤثر استعمال، کاربن اخراج میں کمی، ری سائیکلنگ اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی بڑھا رہی ہے۔چینی حکام کا اس حوالے سے ایک واضح وژن ہے کہ ماحول دوست صنعتیں مستقبل میں معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔
معاشرتی سطح پر بھی ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ مل رہا ہے۔ عوام میں سبز سفری ذرائع، کم کاربن طرزِ زندگی اور ماحول دوست خریداری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ شہری علاقوں میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں، سائیکلنگ، پبلک ٹرانسپورٹ اور توانائی بچانے والی مصنوعات کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کا دور “خوبصورت چین” کی تعمیر کے لیے نہایت اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ آئندہ برسوں میں سبز اور کم کاربن ترقی کو بنیادی حل کے طور پر اپناتے ہوئے تحفظ ماحول کے اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ 2035ء تک ایک صاف، خوبصورت اور پائیدار ماحول کے قیام کے ہدف کے حصول کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔
وسیع تناظر میں اگر چین کی جانب سے ترقی اور ماحول کے درمیان یہ توازن اسی انداز میں برقرار رکھا گیا تو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے بلکہ معیشت، صحت اور سماجی معیارِ زندگی میں بھی دیرپا بہتری ممکن ہو گی۔ |
|