آج کا موضوع ہے ہر حالت میں victim card کھیلنا..تب بھی جب آپ غلط ہوں..انسان کو اللہ نے بہت ہی پیار سے تخلیق کیا ہے،اور تخلیق کرنے کے بعد زندگی گزارنے کے کچھ اصول سکھا دئے...جن لوگوں نے اصولوں پر عمل کیا وہ کامیاب جنھوں نے نہ کیا وہ رب حوالے..آپ لوگوں نے ایک لفظ اکثر سنا ہوگا.."مکافات عمل"..یہ لفظ اکثر ہم اس وقت سوچتے ہیں جب کوئی ہمارے ساتھ کچھ برا کردے...برا کرنے کے زمرے میں صرف قتل و غارت نہیں آتا..برا کرنے کی کچھ خاص اور عام شکلیں ہیں جو میں اب آپکو بتانے والی ہوں خاص قسم: بھروسہ ٹورنا کسی سے جھوٹ بولنا اور اپنے جال میں پھنسانا اس وقت کسی کے ساتھ برا کرنا جب انسان ہر جگہ سے ہرٹ ہو رہا ہو کسی کا راز افشاں کرنا عام قسم: جب کوئی انسان آپسے انتہائ خوشی کے عالم میں کوئ بات کرنے آئے مگر آپ اتنا برا ردعمل دیں کہ سامنے والے کا دل خراب ہو جائے کسی کو اسکی financial حالت پر جج کرنا کسی کی ایسی کمزوری استعمال کرنا جو آپکو نہیں کرنی چاہیئے.
اب آتے ہیں اس طرف کے جب انسان کسی کے ساتھ کوئ بڑی الٹی حرکت کردے تب ہی مکافات عمل ہوتا ہے؟ تو اسکا جواب ہے نہیں! آپ لوگ نوٹس کرنا اپنی نارمل زندگی میں کہ آپ اگر کسی کا مذاق اڑاتے ہیں یا کسی کو دھوکہ دیتے ہیں یا کسی جگہ کسی انسان کی ویلیو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ سب باتیں آپ کے ساتھ کچھ وقت بعد لازمی ہوتی ہے..اس وقت انسان یہ سوچتا ہے کہ میں کیوں؟میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اسکا دل اسے چینخ چینخ کر بتا رہا ہوتا ہے کہ تم نے بھی یہی کیا تھا فلاں بندے کے ساتھ مگر ہمارا خود ترسی کا شکار دماغ اس بات کو قبول نہیں کرتا اور لگاتار یہی رونا ڈالتا ہے کہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا؟میں کیوں؟ اس عادت کے دو نقصانات ہیں..ایک تو یہ کہ ہم کبھی اپنی خامیوں پر کام نہیں کر پاتے اور اپنے اندر کے Monster کو نہیں پہچان پاتے،اکثر لوگوں کو اپنی ذات کی خامیوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا کیوں کہ انہوں نے کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنا سیکھی ہی نہیں ہوتی..اور دوسرا نقصان یہ کہ ہم ہر وقت نفرت نامی جذبے میں مبتلا رہتے ہیں..ہم ہر اس شخص سے نفرت کرتے رہتے ہیں جسکی وجہ سے ہمیں کوئ نقصان ہوا ہو جبکہ اکثر ایسے حالات میں 50 فیصد غلطی ہماری بھی ہوتی ہے...تو براہ کرم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور ان پر کام کریں تاکہ معاشرے کو ہماری وجہ سے کوئ نقصان نہ ہو۔
پڑھنے کے لیے شکریہ |