صدائے لبیک اور سفرِ بندگی

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
انسان اس کائنات کی وہ منفرد مخلوق ہے جسے عقل و شعور، ارادہ و اختیار اور خیر و شر میں تمیز کی صلاحیت عطا کی گئی ہے۔ یہی خصوصیات اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتی ہیں، لیکن یہی خصوصیات اسے آزمائشوں، خواہشات، نفسانی کشمکش اور روحانی بے چینی کا شکار بھی کر دیتی ہیں۔ انسان مادی ترقی کی بلند ترین منزلیں طے کر لینے کے باوجود اکثر قلبی سکون، روحانی اطمینان اور حقیقی مقصدِ حیات کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان اپنے خالق سے تعلق کمزور کر لیتا ہے تو اس کی زندگی میں بے مقصدیت، اضطراب، خود غرضی اور اخلاقی زوال جنم لینے لگتا ہے۔ اسلام نے انسان کی اسی روحانی پیاس کو بجھانے اور اسے اس کے اصل مقصدِ تخلیق سے جوڑنے کے لیے عبادات کا ایک جامع نظام عطا کیا ہے۔ ان عبادات میں حج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے کیونکہ یہ محض چند مذہبی رسوم کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی، روحانی اور اجتماعی تربیتی نظام ہے۔ حج کا فلسفہ انسان کو اس کی حقیقت سے روشناس کراتا، اسے اس کے خالق سے جوڑتا اور زندگی کے حقیقی مفہوم سے آشنا کرتا ہے۔
حج کے لغوی معنی ارادہ کرنے، قصد باندھنے اور کسی عظیم مقصد کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں ذوالحج کے مخصوص ایام میں بیت اللہ کی زیارت اور مقررہ مناسک کی ادائیگی کو حج کہا جاتا ہے، لیکن اگر اس کی ظاہری تعریف سے آگے بڑھ کر اس کے باطن میں جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حج دراصل انسان کی پوری زندگی کو ایک نئے رخ پر استوار کرنے کا نام ہے۔ یہ ایسا سفر ہے جو قدموں سے پہلے دل میں شروع ہوتا ہے۔ انسان جب حج کا ارادہ کرتا ہے تو گویا وہ اپنی غفلتوں، کمزوریوں، گناہوں اور دنیا پرستی سے ہجرت کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج کو صرف ایک عبادت نہیں بلکہ ’’سفرِ بندگی‘‘ کہا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا: ’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیجیے کہ وہ آپ کے پاس پیدل آئیں اور دور دراز راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو لمبے سفر سے دبلی ہو گئی ہوں۔‘‘ یہ اعلان درحقیقت انسانی تاریخ کی ایک ابدی دعوت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے بلند ہونے والی یہ صدا وقت اور مکان کی حدود سے بلند ہو کر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے دلوں میں اتر گئی۔ آج بھی دنیا کے ہر خطے سے لاکھوں مسلمان اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے بیت اللہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ اس حقیقت میں فلسفۂ حج کا پہلا درس پوشیدہ ہے کہ انسان کی اصل منزل دنیا کی ظاہری کامیابیاں نہیں بلکہ اپنے رب کا قرب حاصل کرنا ہے۔
فلسفۂ حج کا بنیادی محور توحید ہے۔ اسلام کا پورا نظامِ فکر اسی عقیدے کے گرد گردش کرتا ہے کہ کائنات کا خالق، مالک، رازق اور حاکم صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ حج کے تمام مناسک اسی حقیقت کو دل و دماغ میں راسخ کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ جب حاجی بیت اللہ کے گرد طواف کرتا ہے تو گویا وہ اعلان کرتا ہے کہ میری زندگی کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ دنیا کے تمام مفادات، خواہشات اور ترجیحات اسی مرکز کے تابع ہیں۔ موجودہ دور میں انسان کی زندگی بے شمار جھوٹے خداؤں کے گرد گھومنے لگی ہے۔ کہیں دولت معبود بن گئی ہے، کہیں اقتدار، کہیں شہرت اور کہیں نفس کی خواہشات۔ حج انسان کو ان تمام مصنوعی خداؤں سے آزاد کر کے ایک خدا کی بندگی کی طرف بلاتا ہے۔ یہی توحید انسان کو فکری آزادی، قلبی سکون اور اخلاقی استحکام عطا کرتی ہے۔
حج کا ایک عظیم فلسفہ انسانی مساوات کا شعور پیدا کرنا ہے۔ دنیا میں انسان رنگ، نسل، زبان، قومیت، دولت اور منصب کی بنیاد پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہ تقسیم اکثر غرور، تعصب اور ناانصافی کو جنم دیتی ہے، لیکن حج کے موقع پر تمام امتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک بادشاہ اور ایک مزدور، ایک عالم اور ایک عام شخص، ایک امیر اور ایک غریب، سب ایک ہی لباس میں ملبوس ہو کر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ احرام کی دو سفید چادریں تمام دنیاوی تفاخر کو مٹا دیتی ہیں۔ اس منظر میں انسانیت کے لیے ایک عظیم پیغام پوشیدہ ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے کردار، تقویٰ اور اخلاق میں ہے، نہ کہ اس کی دولت یا سماجی حیثیت میں۔ آج جب دنیا نسلی تعصب، طبقاتی تقسیم اور معاشی ناہمواریوں کا شکار ہے، حج کا یہ فلسفہ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
فلسفۂ حج انسان کو عاجزی اور انکساری کا درس بھی دیتا ہے۔ انسان جب دنیا میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو اکثر غرور اور خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی طاقت، علم، دولت یا حیثیت پر فخر کرنے لگتا ہے، لیکن حج اسے اس کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے۔ احرام کا لباس کفن کی یاد تازہ کرتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ ایک دن اسے اسی طرح اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اس وقت نہ کوئی دنیاوی عہدہ کام آئے گا، نہ دولت اور نہ شہرت۔ وہاں صرف اعمال اور نیت کا وزن ہوگا۔ یہی احساس انسان کے دل میں عاجزی پیدا کرتا ہے اور اسے تکبر جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔
حج کا ایک اہم فلسفہ اطاعتِ الٰہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اطاعت اور تسلیم و رضا کی روشن مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف آزمائشوں میں ڈالا، لیکن انہوں نے ہر حکم کو بلا چون و چرا قبول کیا۔ اپنے وطن کو چھوڑنا پڑا تو چھوڑ دیا، بیوی اور شیر خوار بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کا حکم ملا تو تعمیل کی، اور جب بیٹے کی قربانی کا حکم ملا تو اس کے لیے بھی تیار ہو گئے۔ حج کے تمام مناسک دراصل اسی اطاعت کی یادگار ہیں۔ یہ انسان کو سکھاتے ہیں کہ بندگی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کر دے۔ آج کا انسان اپنی مرضی کو سب سے بڑی حقیقت سمجھنے لگا ہے، جبکہ حج اسے یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی آزادی اپنی خواہشات کا غلام بننے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہے۔
فلسفۂ حج کا ایک اہم پہلو قربانی کا تصور بھی ہے۔ انسانی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ علم کے لیے قربانی درکار ہوتی ہے، معاشی ترقی کے لیے قربانی درکار ہوتی ہے اور اعلیٰ کردار کے لیے بھی قربانی ضروری ہے۔ حج انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو اپنی خواہشات، مفادات اور انا کو قربان کرنا ہوگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اسی حقیقت کی علامت ہے۔ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس کی سرکشی کو ختم کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھنا ہے۔
حج انسان کے اندر صبر اور برداشت کی صفات بھی پیدا کرتا ہے۔ لاکھوں افراد کے درمیان رہنا، سفر کی مشقت برداشت کرنا، گرمی اور ہجوم کا سامنا کرنا اور مختلف مشکلات کے باوجود عبادت میں مصروف رہنا انسان کو صبر کی عملی تربیت دیتا ہے۔ موجودہ دور میں انسان معمولی مشکلات سے گھبرا جاتا ہے، لیکن حج اسے سکھاتا ہے کہ کامیاب زندگی کے لیے صبر ناگزیر ہے۔ قرآنِ مجید نے بار بار صبر کو کامیابی کی کنجی قرار دیا ہے اور حج اس صبر کو عملی شکل میں انسان کے کردار کا حصہ بنا دیتا ہے۔
فلسفۂ حج کا ایک اور اہم پہلو امید اور جدوجہد کا درس ہے جو صفا اور مروہ کی سعی میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی جدوجہد ہمیں بتاتی ہے کہ مایوسی مومن کا شیوہ نہیں۔ جب تمام ظاہری اسباب ختم ہو جائیں تب بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انسان کا فرض کوشش کرنا ہے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔ یہی اصول زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔
عرفات کا قیام فلسفۂ حج کا نقطۂ عروج ہے۔ یہ مقام انسان کو خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔ زندگی کی دوڑ دھوپ میں انسان اکثر اپنے اعمال کا جائزہ لینا بھول جاتا ہے، لیکن عرفات میں کھڑے ہو کر وہ اپنی پوری زندگی پر نظر ڈالتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو یاد کرتا ہے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے۔ یہی خود احتسابی انسان کی اصلاح کا پہلا قدم ہے۔ جو قومیں اور افراد اپنا محاسبہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں، وہ زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
حج انسان کو امتِ مسلمہ کے عالمی تصور سے بھی روشناس کراتا ہے۔ مختلف ممالک، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم امت کا حصہ ہیں۔ ان کے مسائل مشترک ہیں، ان کی امیدیں مشترک ہیں اور ان کا عقیدہ مشترک ہے۔ یہ شعور مسلمانوں کے درمیان اخوت، محبت اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ آج جب قومیت، لسانیت اور علاقائیت کے تعصبات نے امتِ مسلمہ کو کمزور کر دیا ہے، حج کا پیغام اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
حج انسان کو نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ لاکھوں افراد کے درمیان رہتے ہوئے انسان دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا سیکھتا ہے۔ وہ نظم کی پابندی کرتا ہے، دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچتا ہے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی اوصاف ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فلسفۂ حج صرف چند دنوں کی عبادت تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر انسان حج کے پیغام کو سمجھ لے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ وہ زیادہ متواضع، زیادہ صابر، زیادہ مخلص، زیادہ عادل اور زیادہ خدا ترس بن سکتا ہے۔ اس کے دل میں انسانیت کے لیے محبت پیدا ہو سکتی ہے اور وہ اپنے رب کے قریب تر ہو سکتا ہے۔
آج کا دور مادیت، خود غرضی، نفسیاتی دباؤ اور روحانی خلا کا دور ہے۔ انسان نے چاند تک رسائی حاصل کر لی ہے لیکن اپنے دل کا سکون کھو بیٹھا ہے۔ اس نے مادی ترقی کے بے شمار کارنامے انجام دیے ہیں لیکن روحانی اطمینان سے محروم ہے۔ ایسے حالات میں فلسفۂ حج انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی نمود و نمائش میں نہیں بلکہ اپنے خالق کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ یہی رضا قلبی سکون کا سرچشمہ ہے اور یہی انسان کی حقیقی منزل بھی۔
اس طرح فلسفۂ حج انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ یہ انسان کو توحید، اخلاص، اطاعت، قربانی، مساوات، صبر، امید، خود احتسابی، اتحاد، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ اگر یہ تعلیمات فرد اور معاشرے کی زندگی میں عملی طور پر نافذ ہو جائیں تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جو عدل، محبت، اخوت اور روحانی بالیدگی کا گہوارہ ہو۔ یہی حج کا اصل مقصد ہے اور یہی اس کی ابدی حکمت۔ چنانچہ انسانی زندگی میں فلسفۂ حج کی اہمیت صرف ایک مذہبی فریضے کی حد تک نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت رکھتی ہے جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑ کر دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہم کنار کر دیتا ہے۔
حج ہمیں سکھاتا ہے کہ عظمت عاجزی میں ہے، قوت تقویٰ میں ہے، حسنِ کردار خدمتِ خلق میں ہے اور کامیابی اللہ تعالیٰ کے قرب میں ہے۔ یہی قرب ایک مومن کی سب سے بڑی آرزو اور اس کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ جب ہر سال دنیا کے مختلف گوشوں سے لاکھوں مسلمان لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے حرمِ کعبہ میں جمع ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان آج بھی زندہ ہے، حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سعی آج بھی امید کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت آج بھی ایمان کو تازگی بخش رہی ہے اور محمد عربی ﷺ کی روشن سنت آج بھی انسانیت کو بندگی، محبت، اخوت، ایثار اور تقویٰ کی راہ دکھا رہی ہے۔ یہی حج کا ابدی پیغام ہے، یہی اس کی روح ہے اور یہی وہ مقدس سفرِ بندگی ہے جو قیامت تک انسانیت کو اپنے رب کی طرف بلاتا رہے گا۔
اللّٰہم ارزقنا حجًّا مبرورًا، وسعیًا مشکورًا، وذنبًا مغفورًا، وعملًا صالحًا متقبّلًا، آمین یا رب العالمین 
Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 59 Articles with 20262 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.