چین۔پاکستان خلائی تعاون کے نئے دور کا آغاز
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین۔پاکستان خلائی تعاون کے نئے دور کا آغاز تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا میں خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس میدان میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون بھی مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ لانچنگ، قمری تحقیق، خلانوردوں کی تربیت، سیٹلائٹ نیوی گیشن اور خلائی ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کی شراکت داری اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ابتدا میں یہ تعاون مواصلاتی اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس تک محدود تھا، تاہم اب یہ انسان بردار خلائی مشنز اور گہرے خلائی تحقیقی منصوبوں تک پہنچ چکا ہے، جسے گلوبل ساؤتھ کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں چین نے اپنے خلائی پروگرام کو غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھایا ہے اور اس سفر میں پاکستان بھی ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خلائی تعاون نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ تعلیم، مواصلات، موسمیاتی نگرانی، زرعی ترقی، نقل و حمل اور قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع جیسے شعبوں میں بھی اہم نتائج دے رہا ہے۔
اس تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت رواں برس اپریل میں سامنے آئی جب چین نے اپنے خلائی اسٹیشن پروگرام کے لیے غیر ملکی خلانوردوں کے پہلے گروپ کے انتخاب کا عمل مکمل کیا۔ اس مرحلے میں پاکستان کے دو امیدوار، محمد ذیشان علی اور خرم داؤد، کو منتخب کیا گیا۔ یہ دونوں مستقبل میں چین کے خلائی اسٹیشن مشنز کے لیے تربیت حاصل کرنے والے پہلے غیر ملکی خلانورد ہوں گے۔
چینی حکام کے مطابق تربیت اور مختلف تکنیکی مراحل مکمل ہونے کے بعد ان میں سے ایک پاکستانی خلانورد کو چین کے خلائی اسٹیشن جانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کو نئی جہت ملے گی جبکہ پاکستانی نوجوانوں میں خلائی سائنس کے حوالے سے دلچسپی بھی بڑھے گی۔
چین اور پاکستان کا خلائی تعاون صرف زمینی مدار تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ قمری تحقیق اور گہرے خلا کے منصوبوں تک پھیل چکا ہے۔ 2024 میں پاکستان کا کیوب سیٹ چین کے چھانگ عہ۔6 قمری مشن کے ساتھ خلا میں بھیجا گیا، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی قمری تحقیقی منصوبے میں شمولیت تھی۔ اس سیٹلائٹ نے بعد میں قمری تصاویر اور ڈیٹا پاکستان کو فراہم کیا، جسے ملک کی خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔
اسی سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مستقبل میں چین کے آئندہ چھانگ عہ۔8 مشن میں بھی پاکستان کے سائنسی آلات یا دیگر تحقیقی پے لوڈ شامل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب صرف سیٹلائٹ استعمال کرنے والے ملک کے طور پر نہیں بلکہ جدید خلائی تحقیق میں عملی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔
چین کا بیدو سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم بھی دونوں ممالک کے تعاون کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان دنیا کا پہلا غیر ملکی ملک تھا جس نے بیدو نظام کو مکمل تجارتی بنیادوں پر اختیار کیا۔ اس نظام کو زراعت، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، قدرتی آفات کی نگرانی اور دیگر کئی شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بیدو سسٹم کے استعمال سے جدید زرعی نگرانی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے بہتر انتظام، گاڑیوں کی ٹریکنگ اور ہنگامی صورتحال میں بروقت امدادی کارروائیوں میں مدد ملی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس نظام کے ذریعے اسمارٹ شہروں، خودکار گاڑیوں اور جدید صنعتی نظاموں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
چین نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے متعدد مواصلاتی اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ مئی 2024 میں چین نے شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے پاکستان کا ایک جدید مواصلاتی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیا تھا۔ اس کے بعد 2025 میں ایک چینی تجارتی راکٹ کمپنی نے تین سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچایا جن میں پاکستان کا ایک ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی شامل تھا۔
یہ سیٹلائٹس موسمیاتی نگرانی، زرعی تجزیے، قدرتی وسائل کی میپنگ، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ڈیجیٹل رابطہ کاری اور مواصلاتی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
عالمی سطح پر اب زیادہ سے زیادہ ممالک سیٹلائٹ نیٹ ورکس، قمری تحقیق اور جدید خلائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں چین اور پاکستان کے درمیان خلائی تعاون کو گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ شراکت داری ظاہر کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی مشترکہ تعاون، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ذریعے جدید خلائی میدان میں نمایاں پیش رفت کر سکتے ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان خلائی شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون صرف تکنیکی یا سائنسی شراکت داری نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اعتماد، مشترکہ ترقی اور مستقبل کے وژن کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ مستقبل میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعاون مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ انٹرنیٹ، خلائی تحقیق، موسمیاتی نگرانی اور انسانی خلائی مشنز سمیت مزید کئی شعبوں تک پھیل جائے گا۔یوں چین اور پاکستان کا خلائی سفر اب زمین سے نکل کر چاند اور گہرے خلا تک پہنچ رہا ہے، جہاں دونوں ممالک مشترکہ طور پر نئی تاریخ رقم کرنے کی جانب گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ |
|