جدید انسان کا داخلی زوال
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
ہر عہد کی تہذیب اپنے تعلیمی، فکری اور روحانی اداروں سے پہچانی جاتی ہے۔ جب یہ ادارے اپنی اصل روح، مقصد اور معنویت کھو دیتے ہیں تو معاشرے میں ظاہری ترقی کے باوجود داخلی زوال جنم لینے لگتا ہے۔ انسان علم کے باوجود بے بصیرت، عبادت کے باوجود بے روح، اور تعلقات کے باوجود تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اقبال نے اسی تہذیبی اور فکری بحران کو نہایت گہرے شعور اور داخلی کرب کے ساتھ محسوس کیا۔ ان کی فکری کائنات دراصل مسلم معاشرے کی فکر بےـ اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ (اقبال) یہ شعر محض دو مصرعوں پر مشتمل ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ پوری مسلم تہذیب کے فکری انحطاط، روحانی زوال اور سماجی جمود کا ایک ہمہ گیر مرثیہ ہے۔ اس شعر کے باطن میں صدیوں کی تہذیبی تھکن، علمی بے روحی، مذہبی جمود اور انسانی شعور کی شکست کا ایسا درد پوشیدہ ہے جو ہر عہد میں نئی معنویت کے ساتھ آشکار ہوتا ہے۔ اقبال جب مدرسہ اور خانقاہ دونوں سے “غمناک” اُٹھتے ہیں تو گویا وہ اُن دو بنیادی اداروں کی ناکامی پر ماتم کرتے ہیں جو کبھی امتِ مسلمہ کے فکری، اخلاقی اور روحانی وجود کی اساس سمجھے جاتے تھے۔ ایک عقل و دانش کا مرکز تھا اور دوسرا دل و وجدان کی آماجگاہ، مگر اقبال کے نزدیک دونوں اپنی اصل روح سے محروم ہو چکے تھے۔ نہ علم میں حرکت باقی رہی تھی، نہ روحانیت میں حرارت، نہ عبادت میں بیداری، نہ فکر میں وسعت، نہ نگاہ میں بصیرت، اور نہ محبت میں خلوص۔ یہ شعر دراصل اُس تہذیبی بحران کی علامت ہے جس میں انسان اپنے ظاہری وجود کے باوجود اندر سے شکستہ، منتشر اور کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اقبال نے اس بحران کو صرف مذہبی یا تعلیمی سطح پر نہیں دیکھا بلکہ اسے پوری انسانی زندگی کے داخلی انہدام سے تعبیر کیا۔ ان کے نزدیک جب علم اپنی تخلیقی روح کھو دے، جب روحانیت عمل سے جدا ہو جائے، جب عبادت کردار میں انقلاب پیدا نہ کرے، اور جب تعلیم انسان کے باطن کو بیدار کرنے کے بجائے محض معاشی ضرورتوں کی تکمیل کا وسیلہ بن جائے، تو تہذیبیں بظاہر قائم رہتے ہوئے بھی اندر سے مر جاتی ہیں۔ عصرِ حاضر اس شعر کی سب سے بڑی تفسیر معلوم ہوتا ہے۔ آج انسان سائنسی ترقی، تکنیکی ایجادات، مصنوعی ذہانت، عالمی رابطوں اور مادی آسائشوں کی اُس بلندی پر کھڑا ہے جہاں تک ماضی کے انسان کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا تھا، مگر اس تمام ظاہری ترقی کے باوجود جدید انسان کے باطن میں ایک عجیب قسم کی ویرانی، بے معنویت اور اضطراب پیدا ہو چکا ہے۔ انسان نے چاند کو تسخیر کر لیا، سمندروں کی تہہ تک پہنچ گیا، مشینوں کو سوچنے کے قابل بنا دیا، مگر وہ اپنے دل کی تاریکی کو روشن نہ کر سکا۔ اس کے پاس معلومات کا سمندر ہے مگر حکمت کا ایک قطرہ نہیں۔ وہ دنیا کے ہر گوشے سے رابطہ قائم کر سکتا ہے مگر اپنے ہی باطن سے کٹ چکا ہے۔ آج کا انسان بظاہر مصروف ہے مگر درحقیقت اپنے وجود سے فرار اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کی زندگی میں شور بہت ہے مگر سکوتِ باطن ناپید ہے۔ وہ مسلسل حرکت میں ہے مگر اس کی روح جمود کا شکار ہے۔ جدید تہذیب نے انسان کو سہولت تو دی مگر سکون نہ دے سکی۔ اس نے آسائشیں بڑھا دیں مگر قلبی اطمینان چھین لیا۔ یہی وہ داخلی خلا ہے جسے اقبال نے دہائیوں پہلے محسوس کر لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تہذیب کا تعلق روح سے ٹوٹ جائے تو ترقی کی چکاچوند بھی انسان کو مکمل نہیں کر سکتی۔ مدرسہ، جو کبھی تحقیق، اجتہاد، فکری جرات اور تہذیبی شعور کا سرچشمہ تھا، رفتہ رفتہ محدودیت اور جمود کا شکار ہو گیا۔ علم کا مقصد کبھی انسان کو حقیقت سے آشنا کرنا، اس کے شعور کو بیدار کرنا اور اسے زندگی کے اسرار و رموز سمجھانا تھا، مگر جدید دور میں تعلیم بتدریج معاشی دوڑ کا آلہ بنتی چلی گئی۔ آج طالبِ علم کتابوں کے انبار تو اٹھائے پھرتا ہے مگر زندگی کی معنویت سے محروم ہے۔ اس کے ذہن میں معلومات جمع ہوتی رہتی ہیں مگر اس کے باطن میں بصیرت جنم نہیں لیتی۔ وہ امتحان پاس کرنا جانتا ہے مگر اپنے آپ کو پہچاننا نہیں جانتا۔ جدید تعلیمی نظام ، کالج اور یونیورسٹی بظاہر علم کے عظیم مراکز دکھائی دیتے ہیں۔ بلند عمارتیں، جدید تجربہ گاہیں، وسیع نصاب اور جدید سہولیات ترقی کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مگر اس نظام اور اداروں میں اکثر وہ روح مفقود دکھائی دیتی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ وہاں کردار سازی کے بجائے مسابقت، شعور کے بجائے مادیت، اور تخلیق کے بجائے تقلید کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ طالبِ علم کو مسلسل یہ سکھایا جاتا ہے کہ کامیابی کا معیار بڑی ملازمت، زیادہ تنخواہ اور سماجی مرتبہ ہے۔ نتیجتاً نوجوان زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہی شدید ذہنی دباؤ، فکری بے سمتی اور روحانی خلا کا شکار ہو جاتا ہے۔ عصر حاضر کے تعلیمی نظام کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ علم کو حکمت سے جدا کر دیا گیا ہے۔ معلومات بڑھتی جا رہی ہیں مگر انسان کے اندر تحمل، بصیرت اور اخلاقی شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔ طالبِ علم نظریات یاد کر لیتا ہے مگر حقیقت کا ادراک حاصل نہیں کر پاتا۔ وہ ٹیکنالوجی کا ماہر بن جاتا ہے مگر انسان دوستی کے مفہوم سے ناآشنا رہتا ہے۔ اس کی عقل ترقی کرتی ہے مگر اس کا دل سکڑتا جاتا ہے۔ اقبال اسی مردہ علم کے خلاف تھے جو انسان کو صرف مشین بنا دے۔ ان کے نزدیک حقیقی تعلیم وہ تھی جو انسان کے اندر خودی، عشق، جرات، تخلیقی قوت اور مقصدِ حیات کا شعور پیدا کرے۔ وہ ایسی تعلیم کے خواہش مند تھے جو نوجوان کو زمانے کا غلام نہیں بلکہ زمانے کا معمار بنائے۔ مگر عصرِ حاضر کا تعلیمی نظام اکثر جگہوں پر انسان کو محض سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک پرزہ بنا رہا ہے۔ نوجوان کی شخصیت کو نمبروں، گریڈز اور ملازمتوں کے پیمانے سے ناپا جا رہا ہے۔ اس کی داخلی دنیا، اس کے احساسات، اس کی فکری آزادی اور اس کی روحانی ضرورتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ یہی بحران مذہبی تعلیم کے بعض حلقوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ دین جو کبھی فکر، محبت، رواداری، حکمت اور حرکت کا پیغام تھا، بہت سی جگہوں پر محض ظاہری رسوم، فقہی مناظروں اور محدود تعبیرات تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ نوجوان ذہن سوال کرتا ہے مگر اسے سوال کرنے کے بجائے خاموش رہنے کا درس دیا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے برداشت کرنے کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یا تو نوجوان مذہب سے بدظن ہو جاتا ہے یا پھر شدت پسندانہ ذہنیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اقبال اس جمود کے سب سے بڑے ناقد تھے۔ ان کے نزدیک دین زندگی کی سب سے بڑی تخلیقی قوت تھا۔ وہ ایسا مسلمان چاہتے تھے جس کی نگاہ وسیع ہو، جس کے اندر عشق کی حرارت ہو، جو زمانے کے چیلنجز کا سامنا فکری جرات سے کرے، اور جو مذہب کو محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی تعمیر کا سرچشمہ سمجھے۔ مگر جب دین فکر کے بجائے تعصب، محبت کے بجائے نفرت، اور حرکت کے بجائے جمود پیدا کرنے لگے تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ خانقاہ کا بحران بھی اسی زوال کی ایک علامت ہے۔ تصوف کی اصل روح انسان کے باطن کو پاکیزگی، محبت، صبر، عاجزی اور خدمت کے نور سے منور کرنا تھی۔ حقیقی صوفی انسان کو دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کی اصلاح کا شعور دیتا تھا۔ وہ انسان کو اپنی ذات کے حصار سے نکال کر انسانیت کے درد سے آشنا کرتا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی خانقاہیں رسمی عقیدت، موروثی تقدس اور شخصیت پرستی کا مرکز بنتی چلی گئیں۔ وہاں ذکر تو باقی رہا مگر فکر مفقود ہو گئی۔ وجد تو باقی رہا مگر عمل کی حرارت سرد پڑ گئی۔
عصر حاضر میں روحانیت بھی ایک نمائشی شے بنتی جا رہی ہے۔ مذہبی اور روحانی شخصیات سوشل میڈیا، سیاسی اثر و رسوخ اور مالی طاقت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ عقیدت شعور کو نگل رہی ہے۔ لوگ حقیقت کی تلاش کے بجائے شخصیات کے حصار میں قید ہوتے جا رہے ہیں۔ اقبال اسی کیفیت کے خلاف تھے۔ ان کے نزدیک حقیقی روحانیت وہ تھی جو انسان کے اندر خودی کی آگ روشن کرے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے، اور اسے انسانیت کے لیے روشنی بنا دے- دور جدید کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ انسان نے ترقی کی رفتار تو تیز کر لی مگر اپنی روح کو پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ مشینوں سے بات کر سکتا ہے مگر اپنے دل سے نہیں۔ اس کے پاس دنیا بھر کی خبریں ہیں مگر اپنے باطن کی خبر نہیں۔ وہ ہزاروں لوگوں سے جڑا ہوا ہے مگر خود اپنے وجود سے منقطع ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انسان اب حقیقی زندگی سے زیادہ مصنوعی زندگی میں رہنے لگا ہے۔ ہر شخص اپنی خوشیوں کی نمائش کر رہا ہے جبکہ اندر سے ٹوٹا ہوا ہے۔ مسکراہٹیں تصویروں میں محفوظ ہیں مگر دلوں میں ویرانی ہے۔ نوجوان نسل مسلسل تقابل، احساسِ کمتری اور ذہنی اضطراب کا شکار ہے۔ اسے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ کامیابی کا مطلب شہرت، دولت اور ظاہری کشش ہے۔ نتیجتاً انسان اپنی اصل شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ محبت اب خلوص، وفاداری اور ایثار کا نام کم اور وقتی وابستگی کا نام زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ رشتے مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔ برداشت کم ہو گئی ہے، قربتیں سطحی ہو گئی ہیں، اور انسان تنہائی کے صحرا میں بھٹک رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اندر سے اجنبی ہیں۔ “نہ معرفت” کا بحران اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ انسان نے کائنات کے راز تو دریافت کر لیے مگر اپنے نفس کی تاریکی کو نہ سمجھ سکا۔ علم بڑھا مگر حکمت کم ہو گئی۔ طاقت بڑھی مگر انسانیت سکڑ گئی۔ سیاست اصول کے بجائے مفاد کی غلام بن گئی، معیشت انسان کے بجائے سرمایہ کی خادم بن گئی، اور اخلاقیات کمزوری سمجھی جانے لگیں۔ معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود اندر سے اخلاقی اور روحانی انتشار کا شکار ہے۔ دراصل خطرناک زوال وہ ہے جب قومیں اپنی روح کھو بیٹھیں۔ جب تعلیمی ادارے سوال پیدا کرنے کے بجائے محض مقلد پیدا کریں، جب مذہبی مراکز محبت کی بجائے نفرت کو فروغ دیں، جب خانقاہیں عمل کی بجائے فرار سکھائیں، اور جب معاشرہ انسان کی بجائے دولت کو اہمیت دینے لگے تو تہذیبیں بظاہر زندہ مگر حقیقت میں مردہ ہو جاتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مدرسہ، کالج، یونیورسٹی اور خانقاہ سب اپنی اصل روح کی طرف رجوع کریں۔ تعلیم کو صرف معاشی کامیابی نہیں بلکہ انسان سازی کا وسیلہ بنایا جائے۔ نوجوان کے اندر سوال کرنے، سوچنے، اختلاف برداشت کرنے اور حقیقت تلاش کرنے کی جرات پیدا کی جائے۔ مدارس کو جدید دنیا کے فکری چیلنجز سے مکالمہ کرنا ہو گا اور یونیورسٹیوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ باشعور انسان پیدا کرنا ہوں گے۔ خانقاہوں کو روحانیت کو عمل، خدمت، محبت اور سماجی اصلاح سے جوڑنا ہو گا۔ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے اندر عاجزی، بصیرت اور اخلاقی شعور پیدا کرے۔ حقیقی دین وہ ہے جو انسان کو نفرت کے بجائے محبت دے، خوف کے بجائے امید دے، اور جمود کے بجائے حرکت دے۔ حقیقی روحانیت وہ ہے جو انسان کو دنیا سے کاٹنے کے بجائے دنیا کی اصلاح کا شعور عطا کرے۔ فکر اقبال آج بھی ہمارے ضمیر سے یہی سوال کرتی ہے کہ کیا ہمارے علم میں روشنی باقی ہے؟ کیا ہماری عبادت ہمارے کردار کو بدل رہی ہے؟ کیا ہماری روحانیت انسانیت سے جڑی ہوئی ہے؟ کیا ہماری یونیورسٹیاں انسان پیدا کر رہی ہیں یا صرف ماہرین؟ کیا ہمارے مدارس سوچنے والے ذہن پیدا کر رہے ہیں یا محض مقلد؟ کیا ہماری خانقاہیں بیداری دے رہی ہیں یا فرار؟ |
|