چین کی سنہری آبی گزرگاہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی سنہری آبی گزرگاہ تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ
کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں نقل و حمل کے مضبوط نظام کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ بندرگاہیں، شاہراہیں، ریلوے لائنیں اور آبی گزرگاہیں نہ صرف تجارت کو فروغ دیتی ہیں بلکہ مختلف خطوں کے درمیان معاشی روابط کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ چین نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ سازی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب چین نے اپنے سب سے اہم آبی تجارتی راستے، یانگسی دریا، کی نقل و حمل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک عظیم الشان منصوبے کا آغاز کیا ہے، جسے آئندہ کئی دہائیوں کی معاشی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
77.2 ارب یوان مالیت کا یہ منصوبہ حال ہی میں شروع کیا گیا ہے اور اسے چین کے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران شروع ہونے والا پہلا بڑا قومی بنیادی ڈھانچہ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد یانگسی دریا پر سامان کی بڑھتی ہوئی نقل و حمل کے دباؤ کو کم کرنا اور اندرونِ ملک سے ساحلی علاقوں تک اشیاء کی ترسیل کو مزید تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
یانگسی دریا چین کا طویل ترین دریا ہے جو چھ ہزار تین سو کلومیٹر سے زائد فاصلے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ دریا مغربی چین کے اندرونی علاقوں کو مشرقی ساحلی خطوں سے جوڑتا ہے اور ملک کی معیشت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یانگسی اقتصادی پٹی سے وابستہ گیارہ صوبائی سطح کے علاقے چین کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پیدا کرتے ہیں، اسی لیے اس آبی راستے کو اکثر "سنہری آبی گزرگاہ" بھی کہا جاتا ہے۔
اس دریا پر واقع تھری گورجز ڈیم بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک کلیدی دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم گزشتہ برسوں کے دوران تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کے باعث اس ڈیم کا موجودہ بحری نقل و حمل کا نظام اپنی اصل گنجائش سے کہیں زیادہ دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔ تھری گورجز ڈیم کے موجودہ جہاز رانی نظام کی سالانہ صلاحیت 100 ملین ٹن مال برداری کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی، لیکن یہ حد 2011 میں ہی عبور ہو گئی تھی، یعنی منصوبہ بندی کے مقابلے میں تقریباً انیس برس پہلے۔ چینی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق یانگسی اقتصادی پٹی کی مسلسل ترقی کے باعث اندرونی اور ساحلی علاقوں کے درمیان سامان کی نقل و حمل میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر اضافی گنجائش پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔
نئے منصوبے کے تحت تھری گورجز ڈیم کے شمالی حصے میں پانچ سطحوں پر مشتمل ڈوئل ٹریک شپ لاک تعمیر کیا جائے گا جبکہ دریا کے زیریں حصے میں واقع گژو با ڈیم کی جہاز رانی سہولیات کو بھی جدید بنایا جائے گا۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد تھری گورجز ڈیم کی سالانہ مال برداری صلاحیت تقریباً دوگنی ہو کر 336 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی، جبکہ گژو با ڈیم کی مجموعی صلاحیت 360 ملین ٹن تک بڑھ جائے گی۔
اس منصوبے سے نہ صرف بحری نقل و حمل کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ چین کے مجموعی لاجسٹک اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ آبی نقل و حمل کو پہلے ہی ماحول دوست اور کم لاگت ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔ متعلقہ تحقیقی حلقوں کے مطابق فی ٹن فی کلومیٹر کاربن اخراج کے لحاظ سے آبی نقل و حمل کا اخراج ریلوے کے مقابلے میں تقریباً نصف اور سڑکوں کے مقابلے میں صرف بیس فیصد ہوتا ہے، جس سے سبز ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
منصوبے کی تعمیر تکنیکی اعتبار سے بھی انتہائی پیچیدہ قرار دی جا رہی ہے۔ انجینئرنگ ماہرین کے مطابق نئے بحری راستے کو ایسے مقام پر تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں جگہ محدود ہے اور تعمیراتی تقاضے انتہائی سخت ہیں۔ نئے لاک کو تقریباً 37 منزلہ عمارت کے برابر پانی کی سطح کے فرق کو سنبھالنے کی صلاحیت درکار ہوگی جبکہ اطراف میں دو سو میٹر بلند چٹانی ڈھلوانیں موجود ہیں۔ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چینی تحقیقی اداروں اور انجینئرنگ ٹیموں نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک تحقیق اور تجربات کیے۔ اس دوران اعلیٰ دباؤ پر پانی کے بہاؤ کو محفوظ طریقے سے کنٹرول کرنے کے نئے نظام تیار کیے گئے اور 1440 ٹن وزنی جدید دروازے بھی ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
تعمیراتی مرحلے میں تقریباً 160 ملین مکعب میٹر مٹی اور چٹانیں نکالی جائیں گی، جو منصوبے کی وسعت کا اندازہ پیش کرتی ہیں۔ جدید دھماکہ خیز اور تعمیراتی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تاکہ مقامی آبادی، ماحول اور آبی حیات پر کم سے کم اثرات مرتب ہوں۔
منصوبے کی ایک اہم خصوصیت اس کا مکمل طور پر ذہین اور ڈیجیٹل نظام بھی ہے۔ بڑی مقدار میں ڈیٹا کے تجزیے، ہائی پریسیژن نقشوں، حقیقی وقت کی نگرانی اور جدید سینسرز کی مدد سے جہازوں کی آمدورفت کو منظم کیا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے جہازوں کے لیے موزوں ترین راستوں کا تعین، سامان کی نقل و حمل کی رفتار میں اضافہ اور آلات کی ممکنہ خرابیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔اس منصوبے کے اثرات صرف آبی نقل و حمل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تعمیراتی سرگرمیوں، بھاری مشینری، فولاد، سیمنٹ اور دیگر متعلقہ صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ منصوبے کے دوران بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ اس کی تکمیل کے بعد اندرونی علاقوں کی بندرگاہیں بین الاقوامی تجارت کے نئے مراکز کے طور پر ابھر سکیں گی۔
خاص طور پر چین کے شہر چھونگ چھنگ کو اس منصوبے سے نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ یورپ اور وسطی ایشیا سے چین۔یورپ مال بردار ریل گاڑیوں کے ذریعے آنے والا سامان آسانی سے یانگسی دریا کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں تک منتقل کیا جا سکے گا، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا اور ساحلی علاقوں سے آنے والا بین الاقوامی سامان بھی دریا اور سمندر کے مشترکہ نقل و حمل نظام کے ذریعے چین کے مغربی اندرونی علاقوں تک پہنچ سکے گا۔
یانگسی دریا پر یہ عظیم منصوبہ صرف ایک آبی گزرگاہ کی توسیع نہیں بلکہ چین کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ یہ منصوبہ ملک کی اندرونی رابطہ سازی کو مزید مضبوط بنانے، سبز ترقی کو فروغ دینے، لاجسٹک لاگت کم کرنے اور علاقائی اقتصادی توازن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آنے والے برسوں میں یہ "سنہری آبی گزرگاہ" نہ صرف چین کی معیشت کو نئی توانائی فراہم کرے گی بلکہ عالمی تجارت کے ساتھ اس کے روابط کو بھی مزید مستحکم بنائے گی۔ |
|