اک تحریر۔۔۔ دس بہترین نصیحتیں

آج کا پُر فتن دور انسان کے لۓ ایک نہایت مشکل دور ہے۔ اس میں جینا اور بھی کٹھن بنا دیا جاتا ہے جب آپ اپنی زندگی کو اللہﷻ، اس کے رسولﷺ اور دینِ اسلام کی تعلیمات و احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔ جب آپ کو حوصلہ افزائ کی ضرورت ہوتی ہے آپ کی تواضع حوصلہ شکنی سے کی جاتی ہے، تعریفی جملوں کی جگہ تنقید کے تیر چلاۓ جاتے ہیں، ہر لحظہ آپ کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ آپ دقیانوسی سوچ کے ملک ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسے ماحول میں جہاں ہر شخص مال و دولت جمع کرتا، دوسروں کی دل آزاری کرتا، حلال حرام کی تمیز سے ماورا، اور اپنے نفس کا پجاری بنا نظر آتا ہے اگر کوئ آپ کو مخلصانہ مشورہ دے، کسی کی سبق آموز نصیحتوں سے پردہ اٹھاۓ، اور آپ کی بہتری کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ دین کے کچھ احکامات پر روشنی ڈالے تو وہ کوئ کم عقل شخص ہی معلوم ہو گا۔
اگر ایسا ہی ہے تو مجھے وہ کم عقل شخص بننے میں کوئ مضائقہ نہیں، اسی لۓ آج کی تحریر میں مَیں آپ کے لۓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی وہ نصیحت بھری باتیں پیش کرنا چاہتی ہوں جو انہوں نے وفات سے قبل اپنے بیٹے کو کیں اورفرمایا:

1) میرے بیٹے، تمہیں مجھ سے زیادہ خیر خواہ کوئ نہیں ملے گا۔ (یعنی باپ سے ذیادہ اولاد کا بھلا کوئ نہیں سوچ سکتا اور اس سے بہتر مشورہ بھی کوئ نہیں دے سکتا)
2) لالچ سے دور بھاگو، یہ کھلی ناداری ہے!
3) قناعت اختیار کرو، یہی اصل مال داری ہے!
4) اور نہ تو ایسا کام کرو، نہ ہی ایسی بات کہو، جس پر معزرت کرنی پڑے!
5) کبھی ایسی حرکت نہ کرو، جو تمہیں لوگوں کی نظروں میں گرا دے!
6) کبھی کوئ ایسی بات نہ بولو، جس پر بہت دن تک نادم ہونا پڑے!
7) ایسی جگہوں پر نہ جاؤ، جہاں تمہاری قدر اور عزت نہ ہو!
8) اور ایسی دوستی کبھی نہ اختیار کرو، جس پر تمہیں ملامت سننی پڑے!
9) تاخیر ہونے پر شرمندگی کے ساتھ طرح طرح کے بہانے سے بہتر ہے وقت پر پہنچ جایا جاۓ!
10) تمہارے نفس کا تم پر بڑا حق ہے، اپنے کسی بھی قول و عمل کے ذریعہ اس کی رسوائ نہ کرو!

اگر آپ دماغ پر پڑے غفلت کے دبیز پردے اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے بار بار اِن نصیحتوں کو پڑھ سکتے ہیں تو میرا مشورہ ہے کہ آپ ضرور یہ مشقت کر ڈالیں۔ یقین جانیں اگر اِن دس نصیحتوں میں سے کسی ایک پر بھی آپ عمل کرتے ہیں تو ان شاء اللہ آپ کی زندگی پر اس کے بہت مثبت اور واضح اثرات مرتب ہونگے کیونکہ اس طرح آپ اپنے آپ کو بہت سی برائیوں اور گناہ و ندامت کے کاموں سے بچا سکیں گے۔ اور اگر میرے قارئین میں سے کسی کے عمل و کردار میں کوئ مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے تو یہ تحریر میرے لۓ صدقۂ جاریہ کا کام دے جاۓ گی۔

اچھی بات پڑھنا یا سننا اور دوسروں تک پہنچانا یقیناً صدقۂ جاریہ ہے۔ تحریر اچھی اور پُراثر لگی ہو تو اپنے پیاروں تک پہنچانے میں ذا دیر و شرم نہ کیجیۓ، کیا معلوم کب، کیسے اللہﷻ کسی کی تقدیر پلٹ دے۔ یقیناً وقت کم ہے اس لۓ اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور دین کی رَّسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی بھرپور سعی کرتے رہیۓ۔
 
Asma Ahmed
About the Author: Asma Ahmed Read More Articles by Asma Ahmed: 55 Articles with 70308 views Writing is my passion whether it is about writing articles on various topics or stories that teach moral in one way or the other. My work is 100% orig.. View More