ہنستا ہوا چہرہ... اور اچانک خاموش ہو جانے والا دوست"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
صبح ایک مختصر سا پیغام ملا: "طارق متین انتقال کر گئے۔"
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
چند لمحوں کے لیے سب کچھ جیسے رک گیا۔ چند دن پہلے ہی تو ملاقات ہوئی تھی۔ الخدمت کے "بنو قابل" پروگرام میں ملے تھے۔ حسبِ معمول سلام دعا ہوئی، خیریت پوچھی، چند باتیں ہوئیں اور پھر ہر کوئی اپنی مصروفیات میں لگ گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔
دو دن پہلے ہمارے محلے کے ایک مفتی صاحب بڑی خوبصورت بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان کے بال سفید ہونے لگیں یا دانت گرنے لگیں تو یہ صرف بڑھاپے کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وارننگ بھی ہے کہ اپنی آخرت کی تیاری شروع کر دو۔ حقیقت یہ ہے کہ موت نہ سفید بالوں کی محتاج ہے اور نہ بڑھاپے کی۔ یہ جب آتی ہے تو کوئی مہلت نہیں دیتی۔
طارق متین سے میرا تعلق تقریباً تینتیس برس پرانا تھا۔ غالبا 1993 کی بات ہے یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری صحافتی زندگی کا آغاز ہو رہا تھا۔ ہم اخبار مشرق میں کمپیوٹر سیکشن میں کمپوزنگ اور ڈیزائننگ پر کام کرتے تھے جبکہ طارق متین پروف ریڈنگ سیکشن میں تھے۔ اردو زبان پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ ہم دیہات کے لوگ تھے، غلطیاں ہو جاتی تھیں۔ وہ غلطی نکالتے ضرور تھے لیکن کبھی کسی کے سامنے شرمندہ نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی غلطی رہ بھی جاتی تو اپنی جیب سے چائے پلا کر کہتے، "فکر نہ کرو، غلطی سب سے ہوتی ہے۔"
ایک دن اشتہار جو انجن کی بورنگ اورہالنگ سے متعلق تھا ہم نے غلطی سے اس میں لفظ میم کا اضافہ کیا تھا وہ بھی غلطی سے ۔ لیکن ہماری یہ غلطی اشتہارات سیکشن کے طفیل سے بھی رہ گئی تھی جو اس کا زمہ دار تھا اور پھر اس میں تصحیح ہو گئی تھی لیکن طارق متین شکر کرتا تھا کہ اشتہار ہمارے کھاتے میں نہیں آتے ورنہ تم نے تو بیڑا غرق کیا تھا ۔یہی ان کا انداز تھا۔ اصلاح بھی کرتے تھے اور حوصلہ بھی دیتے تھے۔ بعد میں وہ پروف ریڈنگ سیکشن کے انچارج بھی بنے۔ کام میں نہایت تیز، منظم اور ذمہ دار تھے، لیکن مزاج میں سختی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ کام کرنے والا ہر شخص ان کی خوش اخلاقی کا معترف تھا۔
وہ وقت بھی کیا خوب تھا۔ چھٹیاں تو صحافیوں کو ویسے بھی کم ملتی تھیں، لیکن 14 اگست یا کسی خاص موقع پر ہم چند دوست چند سو روپے جمع کرتے، مشرق اخبار کی گاڑی کے ساتھ راولپنڈی جاتے، اخبار اتارتے اور پھر وہی گاڑی ہمیں مری لے جاتی۔ اس پوری مہم کا منتظم اکثر طارق متین ہی ہوتا تھا۔
آج بھی ایک منظر آنکھوں کے سامنے تازہ ہے۔ صبح سویرے مری پہنچے۔ سب کو واش روم جانے کی جلدی تھی، لیکن اس وقت فی آدمی پانچ روپے فیس تھی۔ ہماری جوانی کی شرارتیں بھی عجیب تھیں۔ ڈرائیور نے تالہ توڑ دیا اور ہم جلدی جلدی فارغ ہو کر باہر نکل آئے۔ اس کے بعد دیر تک قہقہے لگتے رہے اور طارق متین ہنستے ہوئے کہتا، "آج تم لوگوں نے پانچ پانچ روپے بھی بچا لیے۔"
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر سفر کا حساب خود رکھتے تھے۔ کھانے پینے، آنے جانے اور رہائش کا پورا حساب لکھتے۔ اگر واپسی پر چند روپے بھی بچ جاتے تو ہر دوست کو واپس کر دیتے۔ امانت داری ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ بعد میں ایک اور یادگار سفر کالام کا ہوا۔ اس ٹرپ کا انتظام بھی طارق متین نے کیا تھا۔ جہاں ہم مہمان تھے، وہاں بھی وہ ہر خرچ کا حساب رکھتے تھے۔ ہم مذاق میں کہتے تھے کہ اگر ایک روپیہ بھی بچے گا تو طارق متین ضرور واپس کرے گا، اور واقعی ایسا ہی ہوتا تھا۔ ہماری محفل میں کئی دوست تھے۔ کوئی آج وکیل ہے، کوئی کسی اور شعبے میں ہے۔ ریحان بیرون ملک چلا گیا، نہار نے اپنا الگ شعبہ اپنا لیا مراد بیرون ملک دوسری جگہ چلا گیا اور ہم سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوتے گئے۔ لیکن جب بھی پرانے دوست اکٹھے ہوتے، طارق متین کا ذکر ضرور آتا۔
وہ لطیفے سناتے تھے، دوستوں کو چھیڑتے تھے، خود بھی کھل کر ہنستے تھے اور دوسروں کو بھی ہنساتے تھے۔ ان کی موجودگی سے محفل میں جان آ جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ صحافت بھی بدل گئی اور صحافی بھی۔ طارق متین نے مختلف اخبارات میں کام کیا، لیکن قسمت نے انہیں دوبارہ وہیں لا کھڑا کیا جہاں سے ان کے صحافتی سفر کا آغاز ہوا تھا، یعنی اخبار مشرق۔ شاید کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ لیکن زندگی کی ذمہ داریاں انسان کو بدل دیتی ہیں۔ وہی طارق متین، جو کبھی ہر وقت مسکراتا رہتا تھا، آہستہ آہستہ سنجیدہ ہوتا گیا۔
گھر، بچوں اور روزگار کی فکر نے جیسے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا۔ بال سفید ہو گئے، چہرے پر تھکن آ گئی، مگر جب بھی کہیں ملاقات ہوتی، وہ مسکراہٹ پھر بھی موجود ہوتی تھی۔ آج صبح جب ان کی وفات کی خبر ملی تو دل اداس ہو گیا۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ وہ دنیا سے چلے گئے، کیونکہ یہ راستہ ہم سب نے اختیار کرنا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایک مخلص دوست، ایک خوش مزاج انسان، ایک ایماندار ساتھی اور ایک ایسا صحافی، جو دوسروں کی غلطی پر انہیں شرمندہ کرنے کے بجائے ان کا حوصلہ بڑھاتا تھا، اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔
زندگی کا یہی سبق ہے۔ کل تک جو ہمارے ساتھ بیٹھا ہنس رہا تھا، آج وہ مٹی کی آغوش میں جا چکا ہے، اور کل ہماری باری بھی آنی ہے۔ اللہ تعالیٰ طارق متین کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
#InnaLillahiWaInnaIlayhiRajiun #TariqMateen #Journalism #PakistanJournalists #NewsroomMemories #RememberingAFriend #LifeLessons #RestInPeace #MediaCommunity #Kikxnow |