کروڑوں کے منصوبے، مگر اللہ کا گھر بے سہارا، پشاور سپورٹس کمپلیکس کی مسجد آخر کس کی ذمہ داری ہے؟

پشاور سپورٹس کمپلیکس میں قائم مسجد صرف اینٹوں، پتھروں اور سیمنٹ کی عمارت نہیں بلکہ یہ اس ادارے کا روحانی مرکز ہے، جہاں روزانہ درجنوں کھلاڑی، کوچز، ملازمین اور شہری اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جس ادارے میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں، جہاں نئی عمارتوں، گراونڈز، دفاتر اور تزئین و آرائش پر فنڈز خرچ ہوتے ہیں، وہیں اللہ کا گھر گزشتہ تقریباً اڑتیس برس سے اپنی قسمت پر آنسو بہا رہا ہے۔

یہ مسجد 1988 میں اس وقت کے ڈائریکٹر سپورٹس، کلچر اینڈ ٹورازم دوست محمد ارباب کے دور میں تعمیر ہوئی۔ لیکن اگر آج کوئی اس مسجد میں داخل ہو تو اسے محسوس ہوگا جیسے وقت 1988 میں ہی رک گیا ہو۔ دیواریں، چھت، پنکھے، فرش، وضوخانے اور مجموعی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس مسجد کی دیکھ بھال کو شاید کبھی بھی ادارہ جاتی ذمہ داری نہیں سمجھا گیا۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہر سرکاری عمارت کی مرمت کے لیے بجٹ موجود ہوتا ہے، ہر دفتر کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز رکھے جاتے ہیں، ہر کھیل کے میدان کی دیکھ بھال کے لیے الگ مد ہوتا ہے، مگر اللہ کے گھر کے لیے گویا یہ سوچ اختیار کر لی گئی ہے کہ "یہ اللہ کا گھر ہے، اللہ خود سنبھال لے گا۔" یہ سوچ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ایک سرکاری ادارے کی انتظامی ناکامی بھی ہے۔

تقریباً پندرہ برس پہلے ایک ایسے ملازم نے، جو خود مسلمان بھی نہیں، مسجد کی اہمیت کو محسوس کیا۔ اس نے اس وقت کے ایک ڈائریکٹر جنرل، جو پاکستان سپورٹس بورڈ سے ڈیپوٹیشن پر آئے تھے، کو قائل کیا اور مسجد میں ایک ایئر کنڈیشنر لگوایا۔ بعد میں ایک اور اے سی نصب ہوا، لیکن آج اس کی صفائی تک کا انتظام نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ٹھنڈک دینے کے بجائے صرف دیوار کی زینت بنا ہوا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں میں متعدد ڈائریکٹر جنرل، سیکرٹری، انجینئر، ایکسین، ایس ڈی او اور دیگر اعلیٰ افسران آئے اور چلے گئے۔ کئی حضرات اسی مسجد میں نماز بھی ادا کرتے رہے، مگر کسی نے یہ محسوس نہیں کیا کہ چھت جگہ جگہ سے سیلن زدہ ہے، پنکھے ناکارہ ہو چکے ہیں، بیرونی شیڈ سوراخوں سے بھرا ہوا ہے جہاں سے بارش اور دھوپ براہ راست اندر آتی ہے، اور صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے۔

ایک اور سنگین مسئلہ وہ کیڑے ہیں جنہیں مقامی زبان میں "دا بادشاہ ?ڈے" کہا جاتا ہے۔ یہ درختوں سے گر کر مسجد کے صحن اور فرش پر پھیل جاتے ہیں۔ اگر کسی نمازی کے کپڑوں سے لگ جائیں تو شدید خارش پیدا کرتے ہیں، اور اگر نماز کے دوران دب جائیں تو ان کا بدبودار مادہ کپڑوں اور سنگ مرمر کے فرش دونوں کو خراب کر دیتا ہے۔ روزانہ سینکڑوں نمازی اس اذیت کا سامنا کرتے ہیں، مگر نہ ہارٹیکلچر کا عملہ حرکت میں آتا ہے، نہ انجینئرنگ ونگ، نہ کوئی ٹھیکیدار، نہ کوئی افسر۔

روزانہ تقریباً ایک سو افراد یہاں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں جبکہ جمعہ کے روز مختلف سرکاری دفاتر سے آنے والے نمازیوں سمیت یہ تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس مسجد میں ہر ہفتے ہزاروں انسان سجدہ کرتے ہوں، کیا اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی محکمہ کھیل کی ذمہ داری نہیں؟یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سابق ڈائریکٹر جنرل نے کم از کم وضوخانے اور استنجاخانے تعمیر کروائے۔ اگرچہ ان کے معیار پر سوالات اٹھے اور ٹھیکیدار کے کام پر بھی اعتراضات سامنے آئے، لیکن پھر بھی وہ ایک عملی قدم تھا۔ اس کے بعد برسوں سے خاموشی ہے۔

مسجد کے امام اور خادم کا معاملہ بھی افسوسناک ہے۔ یہ دونوں آسامیاں محکمانہ ریکارڈ میں موجود ہیں، مگر مستقل تقرری کے بجائے انہیں ڈیلی ویجز پر رکھا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں انتظامی سطح پر ایسی تکنیکی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں کہ ایک امام مسجد ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر دیگر آسامیوں کے لیے قواعد میں راستے نکالے جا سکتے ہیں تو مسجد کے امام اور خادم کے لیے کیوں نہیں؟

اس سے بھی زیادہ افسوس اس رویے پر ہوتا ہے کہ بعض بڑے افسر مسجد میں عام ملازمین اور کھلاڑیوں کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کچھ حضرات عام دنوں میں مسجد کا رخ نہیں کرتے، جبکہ بعض جمعہ کے وقت بھی کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا یقیناً ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن ایک سرکاری ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے مسجد کی حالت بہتر بنانا ذاتی نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری ہے۔

المیہ یہ بھی ہے کہ کروڑوں روپے کے منصوبوں پر دستخط کرنے والے افسران، بڑے بڑے ٹھیکے لینے والے کنٹریکٹرز اور تعمیرات کی نگرانی کرنے والے انجینئرز میں سے کسی ایک نے بھی شاید یہ نہیں سوچا کہ اللہ کے گھر پر بھی کچھ خرچ کر دیا جائے۔ اگر نیت ہو تو ایک معمولی انتظامی منظوری سے اس مسجد کی مکمل تزئین و آرائش، نئی چھت، جدید وضوخانہ، بہتر روشنی، نئے پنکھے، کیڑوں سے تحفظ، مستقل صفائی اور امام و خادم کے لیے مناسب کمرے مہیا کیے جا سکتے ہیں۔

اس کے برعکس شاہ طہماس فٹبال گراونڈ کی مسجد کو دیکھیں، جہاں ایک ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے اللہ کی رضا کے لیے نئی مسجد تعمیر کروائی اور امام و ان کے اہل خانہ کے لیے مناسب رہائش کا بھی انتظام کیا۔ یہ فرق صرف فنڈز کا نہیں، نیت اور ترجیحات کا ہے۔اب اصل سوال یہی ہے کہ پشاور سپورٹس کمپلیکس کی مسجد کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ ڈائریکٹر جنرل؟ انجینئرنگ ونگ؟ محکمہ کھیل؟ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو؟ یا پھر وہ تمام افسران جو روز اسی کمپلیکس میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں؟

اگر کسی عمارت کی چھت گرنے لگے تو فوری نوٹس لیا جاتا ہے۔ اگر کسی وی آئی پی دفتر کا اے سی خراب ہو جائے تو اسی دن تبدیل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اللہ کے گھر کی چھت ٹپک رہی ہو، پنکھے خراب ہوں، کیڑے نمازیوں کو اذیت دے رہے ہوں، امام اور خادم غیر یقینی ملازمت پر ہوں اور مسجد کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہو، تو کیا یہ سب کسی کی ترجیح نہیں؟ یہ کالم کسی ایک افسر یا ایک دور حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل ادارہ جاتی رویے کے خلاف ہے جس نے اللہ کے گھر کو ہمیشہ آخری نمبر پر رکھا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ محکمہ کھیل اس مسجد کے لیے مستقل مینٹیننس فنڈ مختص کرے، مکمل مرمت اور تزئین و آرائش کرائے، کیڑوں کے خاتمے کے لیے موثر انتظام کرے، امام اور خادم کی مستقل تقرری کرے اور یہ ثابت کرے کہ اس ادارے میں صرف کھیل ہی نہیں بلکہ عبادت گاہ کا احترام بھی ایک عملی ترجیح ہے۔ کیونکہ سوال صرف ایک مسجد کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے کہ ہم اللہ کے گھر کو اپنی ترجیحات میں کس مقام پر رکھتے ہیں۔

#PeshawarSportsComplex #SportsDirectorateKP #Mosque #PublicInfrastructure #GoodGovernance #Accountability #SportsAdministration #KP #Pakistan #Maintenance #PublicInterest #InvestigativeJournalism #Kikxnow #ReligiousFacilities #Transparency

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1019 Articles with 786654 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More