چینی سائنس دانوں کا جدت اور عوامی خدمت کا جذبہ
(Shahid Afraz Khan, Islamabad)
|
چینی سائنس دانوں کا جدت اور عوامی خدمت کا جذبہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ محققین اور ماہرین ایک ایسے ماڈل کو فروغ دے رہے ہیں جس میں تحقیق صرف لیبارٹری تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست مقامی ضروریات، عوامی مسائل اور قومی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین کی جدوجہد اور کامیاب تجربات نے ظاہر کیا ہے کہ سائنسی ترقی کس طرح زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی میں ڈھل سکتی ہے۔
حالیہ دنوں ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے ملک کے نمایاں سائنس و ٹیکنالوجی کارکنوں کی متاثر کن کہانیاں پیش کی گئیں، جن میں پانچ ممتاز ماہرین نے اپنی دہائیوں پر محیط خدمات اور تجربات شیئر کیے۔
ان میں ایک نمایاں نام محقق سونگ رینڈے کا ہے، جو گزشتہ چالیس برسوں سے چنگھائی۔تبت سطح مرتفع کے علاقے میں یاک جانوروں کی افزائش اور بیماریوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ یوشو تبتی خود اختیار پریفیکچر میں کام کرنے والے یہ محقق مقامی چرواہوں میں "یاک ڈاکٹر" کے نام سے مشہور ہیں۔ شدید سرد موسم اور دشوار جغرافیائی حالات کے باوجود ان کی تحقیق نے ہزاروں خانہ بدوش خاندانوں کی آمدن میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اسی طرح تھری گارجز کارپوریشن سے وابستہ ماہر حیاتیاتی تنوع ہوانگ گُوئی یون گزشتہ تین دہائیوں سے دریائے یانگسی کے تھری گارجز ریزروائر کے علاقے میں نایاب پودوں پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ان کی ٹیم نے نہ صرف نایاب نباتات کی مکمل فہرست تیار کی ہے بلکہ درجنوں اقسام کے جنگلی پودوں کی افزائش میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف سائنس دانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی شمولیت بھی ضروری ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے اسی تسلسل میں ایک اور معروف ماہر کونگ ہائی نان، جو شنگھائی جیاو تونگ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، ریٹائرمنٹ کے باوجود یون نان کے ایری ہائی جھیل کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی ٹیم جھیل میں آلودگی کے خاتمے اور قدرتی نباتات کی بحالی پر کام کر رہی ہے جبکہ انہوں نے نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک فنڈ بھی قائم کیا ہے۔
طب کے شعبے میں ویسٹ چائنا اسپتال سے وابستہ ماہر اعصابی امراض چن لی نے خواتین میں مرگی کے مرض کی تشخیص اور علاج پر خصوصی تحقیق کی ہے۔ ان کی ٹیم نے علاج کے معیارات بہتر بنا کر اموات اور معذوری کی شرح میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ادھر خلا کے شعبے میں بھی چین کے سائنس دان زمینی تجربات کو نئی جہتوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ خلا باز اور ماہر تعلیم گُوئی ہا چاؤ، جو چین کے پہلے سویلین خلا باز ہیں، نے اپنے تجربات کی بنیاد پر خلائی روبوٹکس اور اسپیس ٹریفک مینجمنٹ پر تحقیق کا نیا مرکز قائم کیا ہے۔ ان کے مطابق خلا میں کششِ ثقل کی عدم موجودگی نے روبوٹک ڈیزائن اور عملی کام کے حوالے سے نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔
ان تمام مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چین میں سائنسی تحقیق ایک ایسے عملی ماڈل میں تبدیل ہو رہی ہے جو براہِ راست مقامی مسائل، قومی ترقیاتی حکمت عملی اور عوامی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ رجحان اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ جدید سائنسی ترقی صرف نظریاتی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ جب اسے زمینی حقائق اور عوامی ضروریات سے جوڑا جائے تو یہ معاشرتی ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ چین کا یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی سطح پر جدت اور مسلسل تحقیق نہ صرف قومی ترقی کو تقویت دیتی ہے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کی زندگیوں میں بھی واضح بہتری لاتی ہے۔ |
|