کچھ سفر فاصلے طے کرنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ انسان کے اندر سوئی ہوئی کیفیات کو بیدار کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ کچھ مقامات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں خاموشی بولتی ہے، دیواریں تاریخ سناتی ہیں اور کتابیں محض کاغذ کے اوراق نہیں بلکہ زمانوں کی دانش، تہذیب کی خوشبو اور انسان کے فکری ارتقا کی زندہ داستان بن جاتی ہیں۔ جامعہ کراچی کے قلب میں واقع محمود حسین لائبریری بھی ایسا ہی ایک علمی مرکز ہے، جہاں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت اپنی رفتار دھیمی کر دیتا ہو اور انسان علم کے ایسے سمندر کے کنارے آن کھڑا ہو جس کی گہرائی کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے کتاب کو محض پڑھا نہیں بلکہ جیا ہو۔
اس لائبریری کی خاموش راہداریوں میں چلتے ہوئے میرے لیے یہ محض ایک عمارت کا مشاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے علمی ورثے سے ملاقات تھی جس نے نسلوں کی فکری آبیاری کی ہے۔ ہر الماری کسی خاموش استاد کی مانند محسوس ہوئی اور ہر کتاب ایک ایسا چراغ دکھائی دی جو برسوں سے علم کی روشنی بانٹ رہا ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک عجیب سا وقار، ٹھہراؤ اور روحانی سکون رچا بسا تھا؛ ایسا سکون جو انسان کو اپنی ذات سے مکالمہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ طلبہ اپنے اپنے گوشوں میں پوری انہماک سے مطالعے میں مصروف تھے، گویا اس خاموشی میں بھی ایک ایسی گفتگو جاری تھی جسے صرف اہلِ علم ہی سن اور سمجھ سکتے ہیں۔
لائبریری کا سب سے نمایاں پہلو اس کا نادر علمی ذخیرہ ہے۔ یہاں ایسی بے شمار قدیم اور نایاب کتابیں محفوظ ہیں جو شاید اب کہیں اور آسانی سے دستیاب نہ ہوں۔ ان کتابوں کے زرد صفحات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ علم کا سفر صدیوں پر محیط ہوتا ہے اور ہر عہد اپنے نقوش اگلی نسلوں کے سپرد کر جاتا ہے۔ یہاں محفوظ قدیم مخطوطات، ہاتھ سے لکھی ہوئی تاریخی تحریریں اور ہاتھ سے لکھا ہوا قرآنِ مجید اس علمی ورثے کی عظمت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ جب میری نظر اس قرآنِ مجید پر پڑی تو یوں محسوس ہوا جیسے روشنائی صرف حروف میں نہیں، عقیدت میں بھی ڈھل گئی ہو۔ اس کے صفحات پر بکھری خوش خطی، نفاست اور روحانیت دیر تک میرے احساسات پر نقش چھوڑتی رہی۔
اسی طرح قائدِاعظم محمد علی جناح کے نام سے قائم خصوصی سیکشن بھی اس لائبریری کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے۔ یہاں ان سے متعلق متعدد کتابیں، ان کی تحریریں، تاریخی دستاویزات اور اصل خطوط محفوظ کیے گئے ہیں۔ ان دستاویزات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ صرف پڑھی نہیں جا رہی بلکہ خاموشی سے سانس لے رہی ہو۔ مزید یہ کہ لائبریری میں سال بہ سال علمی ریکارڈ کو منظم انداز میں محفوظ رکھنے کی روایت اس ادارے کی تحقیقی اہمیت کو مزید مستحکم بناتی ہے۔
اگرچہ یہ لائبریری علم و تحقیق کا ایک گراں قدر خزانہ ہے، مگر اس کے ساتھ چند خاموش محرومیاں بھی وابستہ ہیں۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی کتابوں کا اضافہ محدود دکھائی دیتا ہے، جبکہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سہولیات بھی وقت کی رفتار سے ہم آہنگ نہیں۔ عمارت اور فرنیچر برسوں کی تھکن اپنے وجود پر سمیٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور مؤثر تزئین و آرائش کے منتظر ہیں۔ محدود فنڈنگ نے نہ صرف عملے کی سہولیات کو متاثر کیا ہے بلکہ لائبریری کی ظاہری کشش کو بھی ماند کر دیا ہے، جس کے باعث آج کا نوجوان، جو تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف مائل ہو رہا ہے، پہلے جیسی رغبت کے ساتھ یہاں کا رخ نہیں کرتا۔
تاہم ان تمام کمیوں کے باوجود محمود حسین لائبریری اپنی علمی عظمت سے محروم نہیں ہوئی۔ اس کی اصل طاقت اس کی عمارت یا فرنیچر نہیں بلکہ وہ علم ہے جو اس کی الماریوں میں خاموشی سے آنے والی نسلوں کا انتظار کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس قومی علمی ورثے کی حفاظت، جدید خطوط پر ترقی اور بہتر فنڈنگ کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، تاکہ یہ لائبریری نہ صرف اپنے ماضی کی شان برقرار رکھ سکے بلکہ مستقبل کے محققین، طلبہ اور اہلِ علم کے لیے بھی علم و آگہی کا روشن مینار بنی رہے۔
میں جب اس لائبریری سے واپس لوٹی تو میرے ساتھ صرف چند یادیں نہیں تھیں بلکہ ایک گہرا احساس بھی تھا کہ قوموں کی اصل طاقت ان کے ہتھیاروں، بلند و بالا عمارتوں یا ظاہری ترقی میں نہیں بلکہ ان کے علمی مراکز میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی لائبریریوں کو زندہ، جدید اور پُرکشش بنا سکیں تو یقیناً مطالعے کی وہ روایت بھی دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے جو ہر مہذب معاشرے کی اصل شناخت ہوتی ہے۔ محمود حسین لائبریری کی خاموش راہداریاں آج بھی آنے والوں کو یہی پیغام دیتی ہیں کہ چراغِ علم کبھی نہیں بجھتا، بجھتی ہے تو صرف انسان کی طلبِ علم۔
زرگلؔ خان کراچی 03123625123
|