بانیِ پاکستان کا آخری علمی اثاثہ: قائدِ اعظم سیکشن کا موجودہ منظرنام

بانیِ پاکستان کا آخری علمی اثاثہ: قائدِ اعظم سیکشن کا موجودہ منظرنام
جامعہ کراچی کی ڈاکٹر محمود حسین لائبریری علم و تحقیق کا ایک معتبر اور اہم ترین مرکز ہے۔ یہ لائبریری اپنے وسیع علمی ذخیرے اور شاندار تاریخ کے باعث روزانہ ہزاروں طلبہ کی تعلیمی پیاس بجھاتی ہے۔ اس کتب خانے کا سب سے معتبر، مقدس اور تاریخی حصہ اس کا قائدِ اعظم شعبہ ہے، جو بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یادگاروں اور ان کے علمی سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ موجودہ منظرنامے میں یہ شعبہ جہاں ایک طرف اپنی بے پناہ تاریخی اہمیت کی وجہ سے منفرد ہے، وہاں دوسری طرف جدید دور کے تقاضوں اور کٹھن حالات کے باعث فوری توجہ کا طالب ہے۔
مثبت پہلو: قومی تاریخ کا انمول خزانہ اور علمی رونق

تمام تر مشکلات کے باوجود، یہ لائبریری اور اس کا یہ خصوصی شعبہ طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے کئی اہم خدمات سرانجام دے رہا ہے:
قائدِ اعظم کا ذاتی کتب خانہ: اس شعبے کا سب سے بڑا اعزاز قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ذاتی کتابوں کا وہ وسیع ذخیرہ ہے، جو انہوں نے اپنی زندگی میں خود پڑھیں۔ یہ کتابیں بانیِ پاکستان کے وسیع مطالعے اور ان کی علمی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
نایاب لکڑی کی الماریاں: قائدِ اعظم کی یہ تمام ذاتی کتابیں انہی اصل اور نایاب لکڑی کی الماریوں میں انتہائی احترام کے ساتھ سجائی گئی ہیں جو خود قائدِ اعظم کے زیرِ استعمال رہی ہیں۔
تحریکِ آزادی کی دستاویزات: یہاں آل انڈیا مسلم لیگ کے نایاب خطوط، اصل تصاویر اور تحریکِ پاکستان سے جڑے اہم ترین تاریخی ریکارڈز موجود ہیں، جو ملک بھر کے محققین کے لیے علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
وسیع ذخیرۂ کتب اور منظم فضا: مطالعے کے لیے لائبریری کے اندرونی حصوں میں خاموش اور منظم فضا قائم کی گئی ہے، جو طلبہ کو توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہزاروں کتابیں، جرائد اور تحقیقی مقالے مختلف شعبہ جات کے طلبہ کے لیے انتہائی مفید ہیں۔
جدید سہولتیں اور خوبصورت عمارت: یہ لائبریری جدید طرزِ تعمیر اور سبزہ زاروں سے گھری ہوئی ہے، جس کا خوبصورت منظر طلبہ کے ذہنوں کو سکون بخشتا ہے۔ ساتھ ہی کمپیوٹر اور آن لائن ڈیٹا بیس تک رسائی سے تحقیق کا کام آسان ہو گیا ہے۔
منفی پہلو: کٹھن حالات اور تعمیراتی شور کا عذاب
دوسری طرف، لائبریری کی کارکردگی، نایاب کتب کے تحفظ اور طلبہ کی یکسوئی کو برقرار رکھنے میں درج ذیل رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں:
تعمیراتی کام کا شدید شور: لائبریری کے اطراف اور عمارت میں جاری تعمیراتی کام کا شدید شور اس مقدس شعبے تک بھی پہنچتا ہے۔ کرین، ایکسیویٹر، سیمنٹ مکسر اور بھاری جنریٹروں کی مسلسل گونج اس پروقار سیکشن کے سکون کو بری طرح متاثر کرتی ہے، جس سے محققین کی توجہ بٹ جاتی ہے۔
درجہ حرارت اور نمی کا مسئلہ: قائدِ اعظم کی سو سال سے زائد پرانی کتابوں اور کاغذات کو محفوظ رکھنے کے لیے جس خاص درجہ حرارت اور ہوا کی نمی کو برقرار رکھنے والے نظام کی ضرورت ہے، اس کی شدید کمی ہے۔ ایئر کنڈیشنگ کی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے یہ نایاب کاغذات موسم کی سختی جھیل رہے ہیں۔
دھول، مٹی اور صفائی کے چیلنجز: لائبریری کے کچھ حصوں میں فرنیچر، صفائی اور مرمت کے مسائل کے باعث ان قیمتی الماریوں اور کتابوں پر مٹی جمنے کا خطرہ رہتا ہے، جو اس قومی ورثے کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
عملے کی قلت اور محدود اوقات کار: مستقل عملے کی کمی کے باعث طلبہ کو کتابیں تلاش کرنے یا اپنی رجسٹریشن کے معاملات میں اکثر تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں، لائبریری کے روزمرہ کے اوقات کار کافی محدود ہیں، جس کی وجہ سے شام کے اوقات میں پڑھنے والے طلبہ کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کتب کی محدود دستیابی: بعض بالکل نئے موضوعات پر تازہ ترین کتب اور بین الاقوامی تحقیقی جرنلز کی کمی اب بھی قائدِ اعظم شعبے کے ارد گرد محسوس ہوتی ہے۔
 
Ruqiya Khan
About the Author: Ruqiya Khan Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.