مصنوعی ذہانت سے بدلتا تعلیمی نظام

مصنوعی ذہانت سے بدلتا تعلیمی نظام
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کلاس روم میں استاد کے سامنے بیٹھے طلبہ، تختی پر لکھے سوالات اور کتابوں کے روایتی انداز کے ساتھ اب ایک نئی ٹیکنالوجی بھی شامل ہو رہی ہے۔ چند برس پہلے تک یہ تصور مشکل دکھائی دیتا تھا کہ ایک نظام ہر طالب علم کی صلاحیت، کمزوریوں اور سیکھنے کے انداز کو سمجھ کر الگ الگ تعلیمی منصوبہ تیار کر سکتا ہے، لیکن چین میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ تبدیلی تیزی سے حقیقت بن رہی ہے۔

بیجنگ کے ایک سیکنڈری اسکول میں ریاضی کی کلاس شروع ہونے سے پہلے ہی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک "ایجنٹ" طلبہ کے کئی ہفتوں کے تعلیمی ڈیٹا کا تجزیہ کر چکا تھا۔ اس نظام نے ہر طالب علم کی کلاس میں شرکت، ہوم ورک اور ٹیسٹ نتائج کا جائزہ لے کر مختلف تعلیمی سطح رکھنے والے طلبہ کے لیے مخصوص سوالات اور کلاس کے بعد کی مشقیں تیار کر دیں۔

بعد ازاں اساتذہ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کا جائزہ لیا، اسے بہتر بنایا اور پھر تدریسی عمل میں استعمال کیا۔ یہ منظر چین کے بنیادی تعلیمی نظام میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کو تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور ہر طالب علم کی انفرادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

چین کا بنیادی تعلیمی نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام شمار ہوتا ہے، جہاں 22 کروڑ سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں چین نے تعلیم تک رسائی بڑھانے، لازمی تعلیم کو عام کرنے اور مختلف علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اب توجہ صرف اس بات پر نہیں کہ ہر بچے کو اسکول تک رسائی حاصل ہو بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ ہر بچے کو بہتر معیار اور اس کی صلاحیت کے مطابق تعلیم فراہم کی جائے۔

چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیمی ماڈلز میں تبدیلی لانے اور تعلیم کے مختلف مراحل، شعبوں اور مواقع میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

رواں سال اپریل میں وزارت تعلیم نے "اے آئی پلس ایجوکیشن" ایکشن پلان بھی شروع کیا، جس کا مقصد پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو فروغ دینا، مختلف مضامین کو آپس میں جوڑ کر تدریس کو بہتر بنانا اور کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔
یہ پالیسیاں اب ملک کے مختلف حصوں میں عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

چین میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی تبدیلی اچانک سامنے نہیں آئی بلکہ یہ برسوں کی ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ 2020 تک چین کے تمام پرائمری اور سیکنڈری اسکول انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے تھے، جس نے ڈیجیٹل تعلیم کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا۔ اب مصنوعی ذہانت کو اس سفر کے اگلے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت معیاری تعلیم اور انفرادی تعلیم کے درمیان موجود ایک بڑے چیلنج کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ روایتی نظام میں ایک ہی طریقہ تدریس تمام طلبہ کے لیے اختیار کیا جاتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت ہر طالب علم کے لیے اس کی رفتار، دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق سیکھنے کا راستہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔تعلیمی حکام کے مطابق مستقبل کی تعلیم میں ذاتی نوعیت کے تعلیمی راستے، زیادہ لچکدار سیکھنے کے طریقے، طلبہ کی خود مختاری اور مختلف انداز میں جائزہ لینے کے نظام زیادہ اہم کردار ادا کریں گے۔

تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ابھی مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ بعض تحریری کاموں، جیسے تخلیقی مضامین، یا ریاضی کے کچھ سوالات میں طلبہ کے سوچنے کے عمل کا درست اندازہ لگانے میں موجودہ نظام کو اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ مختلف مصنوعی ذہانت پلیٹ فارمز کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کا مسئلہ بھی موجود ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں اساتذہ کا کردار کم نہیں بلکہ مزید اہم ہو گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک معاون ذریعہ ہے جو معلومات کے تجزیے اور تدریسی عمل کو آسان بنا سکتا ہے، لیکن طلبہ کی اخلاقی تربیت، تخلیقی سوچ کو ابھارنا اور انسانی جذبات کو سمجھنا اب بھی استاد ہی کی ذمہ داری ہے۔

مستقبل میں استاد صرف معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ سیکھنے کے تجربات کو ڈیزائن کرنے والا، مصنوعی ذہانت کے درست استعمال کی نگرانی کرنے والا اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں کا محافظ بھی ہوگا۔

چین میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم میں آنے والی یہ تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا اصل مقصد صرف مشینوں کو طاقتور بنانا نہیں بلکہ انسانوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو دانشمندانہ انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ہر بچے کے اندر موجود سیکھنے کی خواہش، اعتماد اور صلاحیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

تعلیم کا مستقبل شاید صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوگا کہ طلبہ کے پاس کتنی معلومات ہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ کس طرح سوچنا، تخلیق کرنا اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا سیکھتے ہیں۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1987 Articles with 1163387 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More