چاند کی تاریخ کا نیا نقشہ

چاند کی تاریخ کا نیا نقشہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

انسان نے صدیوں تک زمین سے چاند کو دیکھا، اس کے بارے میں کہانیاں بنائیں اور اس کے اسرار جاننے کی کوشش کی، لیکن جدید سائنس نے اب اس خاموش آسمانی ہمسائے کی تہوں میں محفوظ اربوں سال پرانی تاریخ پڑھنا شروع کر دی ہے۔ چین کی خلائی تحقیق میں ہونے والی تازہ پیش رفت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جہاں محققین نے پورے چاند کا ایک نیا اور زیادہ جامع نقشہ تیار کیا ہے۔ یہ نقشہ نہ صرف چاند کی سطح کو زیادہ تفصیل سے دکھاتا ہے بلکہ اس کی تشکیل اور ارتقا سے متعلق کئی پرانے سائنسی تصورات کو بھی مزید واضح اور بہتر بناتا ہے۔

چینی محققین کی تیار کردہ اس نقشے کا پیمانہ 1:50 لاکھ ہے اور اسے 2024 میں تیار کیے گئے نقشے کا زیادہ جدید اور بہتر ورژن قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی سائنسی معلومات اور خلائی مشنز سے حاصل ہونے والے شواہد کو شامل کرتے ہوئے چاند کی تاریخ کو زیادہ منظم انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کی اہم کامیابیوں میں چاند کے قدیم ادوار کی عمر کا دوبارہ تعین بھی شامل ہے۔ جدید تحقیق اور نئے زمانی شواہد کی روشنی میں چاند کے تین اہم قدیم ادوار کی زمانی حدود میں تبدیلی کی گئی ہے، جس سے چاند کے مختلف حصوں کی تشکیل اور وہاں رونما ہونے والی سرگرمیوں کو زیادہ درست انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اس پورے تحقیقی عمل میں چین کے چھانگ عہ خلائی مشنز سے حاصل ہونے والے نمونوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاند سے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہاں آتش فشانی سرگرمیاں تقریباً دو ارب سال پہلے تک جاری تھیں۔ اس سے قبل عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایسی سرگرمیاں تقریباً تین ارب سال پہلے ختم ہو گئی تھیں۔ یوں نئے شواہد نے چاند کی معلوم ارضیاتی سرگرمی کی مدت میں تقریباً ایک ارب سال کا اضافہ کر دیا ہے۔

یہ دریافت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ چاند سے براہ راست حاصل کردہ نمونوں کی آزادانہ سائنسی تاریخ بندی اب عالمی سطح پر چاند کے ارضیاتی زمانی پیمانے کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ بن رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کے خلائی مشنز سے حاصل ہونے والی معلومات صرف ملکی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ چاند کے بارے میں عالمی سائنسی فہم میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔

نئے نقشے میں چاند کے اس دور افتادہ حصے کے بارے میں بھی تازہ معلومات شامل کی گئی ہیں جو زمین سے براہ راست دکھائی نہیں دیتا۔ وہاں سے حاصل کیے گئے نمونوں نے اس حصے میں نسبتاً حالیہ آتش فشانی سرگرمیوں کے بارے میں نئے شواہد فراہم کیے ہیں۔ اس طرح چاند کے سامنے اور دور افتادہ حصوں کے ارضیاتی فرق کو سمجھنے اور یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ دونوں حصوں کا ارتقا ایک دوسرے سے مختلف کیوں رہا۔

تحقیق کے دوران بعض ایسی چٹانوں کی موجودگی اور پھیلاؤ کے بارے میں بھی نئی معلومات سامنے آئی ہیں جن میں نایاب زمینی عناصر اور دیگر اہم معدنی وسائل پائے جاتے ہیں۔ جدید طریقوں سے غیر ضروری طیفی اثرات کو الگ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بعض علاقوں میں ایسی چٹانیں سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ مسلسل اور وسیع پیمانے پر موجود ہو سکتی ہیں۔ یہ معلومات چاند کے ابتدائی دور میں پگھلے ہوئے مادے کے ٹھنڈا ہونے، کرسٹل بننے اور اس کے اندرونی حرارتی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نئی تحقیق کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔

اس نقشے کی اہمیت صرف نئی سائنسی معلومات تک محدود نہیں۔ تقریباً 2.8 میٹر لمبے اور 1.2 میٹر چوڑے اس نقشے میں 13 ہزار 500 سے زائد شہابی گڑھوں اور 81 بڑے طاسوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مختلف ارضیاتی ادوار کو ظاہر کرنے کے لیے ایسا رنگوں کا نظام اختیار کیا گیا ہے جس میں نسبتاً نئے ارضیاتی حصوں کو ہلکے اور قدیم حصوں کو گہرے رنگوں سے ظاہر کیا گیا ہے۔

چین اب اسی نقشہ سازی کے معیار کو مستقبل میں مریخ اور سیارچوں کی ارضیاتی نقشہ سازی میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس پیش رفت سے گہرے خلا کی تحقیق میں اپنا آزاد سائنسی اور نقشہ سازی کا نظام تشکیل دینے کی صلاحیت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

چاند کی تلاش کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی بلکہ ہر نیا مشن اس کے ماضی کا ایک نیا صفحہ کھول رہا ہے۔ چین کا تیار کردہ تازہ ارضیاتی نقشہ اسی سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے یہ سبق بھی سامنے آتا ہے کہ خلائی تحقیق میں حقیقی برتری صرف خلا تک پہنچنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ وہاں سے حاصل ہونے والی معلومات کو علم میں تبدیل کرنے، اپنے سائنسی معیارات قائم کرنے اور انہیں مستقبل کی تحقیق کی بنیاد بنانے سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے جیسے چاند، مریخ اور دیگر اجرام فلکی کی تلاش آگے بڑھے گی، ایسے تحقیقی وسائل انسان کو کائنات کی تشکیل اور ارتقا کے بارے میں زیادہ واضح اور جامع تصویر فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1928 Articles with 1139127 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More